حکومتی ترجیح پی ٹی آئی کا احتجاج،جماعت اسلامی کی فکر نہیں
پٹرولیم لیوی حکومت کا ریونیو کا ذریعہ،اب اس میں کمی خارج ازامکان نہیں
(تجزیہ:سلمان غنی)
جماعت اسلامی پٹرولیم لیوی کے خاتمہ کے حوالہ سے اپنے احتجاج اور خصوصاً اسلام آباد دھرنا پر مصر نظر آ رہی ہے ،جماعت اسلامی کے امیر یہ کہتے نظر آ رہے ہیں کہ اگر حکومت پٹرولیم لیوی کا خاتمہ کر دے تو ہمیں اسلام آباد آنے کی ضرورت نہیں رہے گی ،دیکھنا ہوگا کہ جماعت اسلامی اسلام آباد میں دھرنا دینے میں کامیاب رہتی ہے اور حکومت پسپائی اختیار کرتے ہوئے لیوی کا خاتمہ یا کمی کر پاتی ہے ، اہم بات جماعت اسلامی کا پرامن احتجاجی عمل ہے ، یہی وجہ ہے کہ حکومت نے جماعت اسلامی کے ساتھ مذاکرات میں سنجیدگی ظاہر کی ،دونوں نے ایک دوسرے کو اپنے مطالبات اور تحفظات سے آگاہ کیا لیکن عملاً اس میں پیش رفت ممکن نہیں ہوسکی ، پٹرولیم لیوی کو دیکھا جائے تو یہ حکومت کے ریونیو کا بڑا ذریعہ ہے اور اس میں کمی حکومتی آمدنی کو متاثر کرتی ہے ،تاہم اب بھی اس میں کمی خارج از امکان نہیں ، حکومت نہیں چاہے گی کہ جماعت اسلامی کو اپنی مخالف صف میں کھڑا کرے ، جہاں تک اس امر کا سوال ہے کہ جماعت اسلامی اپنے احتجاج اور مارچ کی صورت میں اسلام آباد داخل ہو پائے گی تو اب تک کی صورتحال میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگرجماعت اسلامی کے کارکن اسلام آباد داخل ہو کر دھرنا دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر اسلام آباد میں احتجاجی کیفیت کو کوئی نہیں روک سکے گا اور 27ستمبر کے تحریک انصاف کے احتجاج اور مارچ کیلئے بھی جواز بن جائے گا ،اسلام آباد میں پس پردہ مذاکراتی عمل کی اطلاعات بھی ہیں کہ سیاسی مسائل کا سیاسی حل نکالا جائے ،جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی نے ایک دوسرے کی سپورٹ کی ہے لیکن دونوں جماعتیں اپنے اپنے پلیٹ فارم اور اپنے ڈسپلن پر کام کریں گی، حکومت اور اداروں کی ترجیح پی ٹی آئی کا احتجاج ہے اور وہ کڑی نظر ان کی سرگرمیوں پر رکھے ہوئے ہیں، جماعت اسلامی کے احتجاج اور مارچ بارے وہ زیادہ فکرمند نظر نہیں آ رہے ،جماعت اسلامی کی اصل کامیابی اسلام آباد پہنچنا نہیں بلکہ پٹرولیم لیوی پر قابل قبول رعایت حاصل کرنا ہے ، اس لئے مذاکرات کا دروازہ بند نہیں کر رہی ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments