اسلام آباد :مسیحی قبرستانوں میں گنجائش ختم ، کمیٹی نے رپورٹ طلب کرلی

اسلام آباد :مسیحی قبرستانوں میں گنجائش ختم ، کمیٹی نے رپورٹ طلب کرلی

ایچ نائن کے دو مسیحی قبرستانوں میں 8ہزار قبریں ، مزید تدفین کی گنجائش باقی نہیں ہُمک سوسائٹی کے تین پلاٹس منسوخ، معاملہ عدالت میں زیرسماعت، انکوائری جاری

اسلام آباد (اپنے رپورٹر سے ) سینیٹ کی اقلیتی کاکس نے اسلام آباد اور راولپنڈی میں مسیحی اور دیگر اقلیتی برادریوں کے قبرستانوں کی دستیابی، گنجائش، انتظام و انصرام اور سہولیات کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے جامع رپورٹ طلب کرلی۔ کمیٹی نے ہُمک میں رومن  کیتھولک کرسچن کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کی مسیحی قبرستان کی اراضی پر مبینہ تجاوزات، الاٹمنٹ اور قبضے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ اسلام آباد میں قبرستانوں کی دیکھ بھال اور انتظام کی ذمہ داری ڈائریکٹوریٹ آف میونسپل ایڈمنسٹریشن (ڈی ایم اے )، میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد (ایم سی آئی) کے پاس ہے ۔ سیکٹر ایچ نائن تھری کے مسیحی قبرستان میں تقریباً 2 ہزار اور ایچ نائن ٹو کے قبرستان میں تقریباً 6 ہزار قبریں بن چکی ہیں، دونوں میں مزید گنجائش نہیں۔ ستمبر 2017ء میں قائم مسیحی قبرستان 3.90 ایکڑ رقبے پر مشتمل ہے جہاں تقریباً 3 ہزار قبروں کی گنجائش ہے ۔ ایچ ایٹ ون میں 16 جولائی 2024ء کو 9.58 ایکڑ پر قائم قبرستان کی مجموعی گنجائش تقریباً 9 ہزار قبروں کی ہے جن میں تقریباً ایک ہزار 120 قبریں بن چکی ہیں جبکہ مزید تقریباً 8 ہزار 500 قبروں کی گنجائش موجود ہے ۔ایچ نائن ٹو میں قادیانی قبرستان 3.42 ایکڑ، بہائی 1.7 ایکڑ اور ایچ ایٹ تھری میں اسماعیلی قبرستان 2.45 ایکڑ پر مشتمل ہیں جن کا انتظام متعلقہ برادریاں کرتی ہیں۔ شمشان گھاٹ کا رقبہ 0.48 ایکڑ ہے ۔ہُمک سوسائٹی کے معاملے پر کمیٹی کو بتایا گیا کہ سوسائٹی 5 جولائی 1987ء کو رجسٹریشن نمبر 333 کے تحت 769 ارکان کے ساتھ رجسٹرڈ ہوئی۔ سوسائٹی کا رقبہ 336.4 کنال ہے ، جس میں 598 پلاٹس شامل ہیں۔ مسیحی قبرستان کے لیے 10 کنال مختص تھے ، جن میں 2.5 کنال استعمال، 6.25 کنال خالی جبکہ 1.25 کنال تین پلاٹس میں الاٹ کی گئی۔تینوں پلاٹس 28 جون 2026ء کو بائی لاز 34 کے تحت منسوخ کردیئے گئے ، تاہم معاملہ سول عدالت میں زیر سماعت ہے ۔ حکام نے کوآپریٹو سوسائٹیز ایکٹ 1925ء کی دفعہ 43 کے تحت انکوائری اور 2012ء سے 2025ء تک خصوصی آڈٹ شروع کردیا ہے ۔ کمیٹی نے مکمل رپورٹ طلب کرتے ہوئے تقریباً تین ہفتے بعد معاملہ دوبارہ زیر غور لانے کا فیصلہ کیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...