سندھ اسمبلی میں سعودی عرب سے اظہاریکجہتی کی قراردادمتفقہ منظور

سندھ اسمبلی میں سعودی عرب سے اظہاریکجہتی کی قراردادمتفقہ منظور

کراچی (سٹاف رپورٹر) سندھ اسمبلی نے جمعہ کو اجلاس میں عالم اسلام کے مقدس ترین شہرمکہ مکرمہ کی جانب ڈرون حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مملکت سعودی عرب کے ساتھ مکمل اور بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا ہے ۔

وزیر قانون ضیا لنجار نے کہا کہ مکہ میں اللہ کا گھر ہے اس کی حرمت پر ہم آنچ نہیں آنے دیں گے ۔قرارداد ایم کیو ایم کے رکن محمد راشد خان نے پیش کی۔ قرارداد پر پورے ایوان کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہارکیا گیا۔ وزیر قانون نے کہاکہ اقوام متحدہ سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بھی ایسی ہی قراردادمنظور کرے ۔ایوان نے متفقہ طور پرسعودی عرب کے ساتھ اظہار یکجہتی کی قرارداد منظور کرلی۔ایم کیو ایم کے رکن اعجاز الحق نے ختم نبوت سے متعلق قرارداد پیش کی جس میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا کہ ختم نبوت کے قوانین پر عمل کرایا جائے ،نصاب میں ختم نبوت کو شامل کیا جائے ۔وزیر پارلیمانی امور ضیا الحسن لنجارنے کہا کہ ہم اس قرارداد کی حمایت کرتے ہیں۔ اسمبلی نے ختم نبوت کے قانون پر عمل کی قرارداد بھی متفقہ طور پر منظور کر لی۔ پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی اعجاز سواتی نے نقطہ اعتراض پر توجہ دلائی کہ 23 ستمبر کو پختون کلچر ڈے ہے ،یہ صرف تہوار نہیں پختونوں کی آواز ہے ۔ انہوں نے کہا کہ خود کو سندھی یوسفزئی پختون سمجھتا ہوں ،ہم نے پختون کلچر ڈے منانے کے لئے تقریب رکھی، اس میں تمام ارکان شرکت کریں۔ ایم کیو ایم کی رکن قراۃ العین خان نے سندھ کے فنی اداروں میں ٹیکنیکل ایجوکیشن داخلہ فیس معاف کرنے سے متعلق قرارداد پیش کرنا چاہی، تاہم وزیر پارلیمانی امور نے کہا کہ اس قرارداد کو آئندہ اجلاس میں لے لیں گے تاکہ وہ متعلقہ وزارت کے معاون خصوصی سے مشورہ کرسکیں۔

پی ٹی آئی کے حامی سجاد علی نے لوڈ شیڈنگ کے خلاف قرارداد پیش کرنے کی کوشش کی تو وزیر قانون نے انہیں بتایا کہ اس معاملے پر غور کے لئے 23 ستمبر کو اجلاس بلایا گیاہے یہ مسئلہ بھی آپ وہاں اٹھالیجئے گا۔ اسمبلی نے سندھ ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی کے ترمیمی بل کی منظوری بھی دی۔ایم کیو ایم کے رکن عامر صدیقی نے گلشن اقبال میں پیڈسٹرین برج ختم کردینے سے متعلق تحریک التوا وزیر پارلیمانی امور کی اس یقین دہانی پر واپس لے لی کہ وہ اس معاملے پر متعلقہ حکام سے بات کریں گے ۔ ایم کیو ایم کی قراۃ العین خان نے توجہ دلاؤنوٹس میں کہا کہ لانڈھی کاکارڈیک میڈیکل سینٹر انتہائی خستہ حال میں ہے ، وہاں ای سی جی اور دیگر ٹیسٹ کرانا مشکل ہوتا ہے ،عملے کی تعداد کم ہے اور اسپیشلسٹ ڈاکٹر میسر نہیں ہیں، حکومت اسپتال کو ایک جنریٹر فراہم کرے ۔پارلیمانی سیکریٹری بلدیات قاسم سراج سومرو نے کہا کہ یہ کے ایم سی کا اسپتال ہے ،اس کی بہت ساری مشینری ٹھیک نہیں ہے ،ہم نے سوچا تھاکہ اس اسپتال کو این آئی سی وی ڈی کے ماتحت کر لیں گے مگر ہمارے کچھ دوست کورٹ میں چلے گئے ، عدالت نے فیصلہ دیا کہ ہم اس کو این آئی سی وی ڈی کے ماتحت نہیں کر سکتے حالانکہ کے ایم سی میں اتنی گنجائش نہیں کہ وہ اس اسپتال کو چلا سکے ۔

وزیر برائے جامعات اور اعلیٰ تعلیمی بورڈز محمد اسماعیل راہو نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے 2017 کے بعد یونیورسٹیوں کی گرانٹ میں ایک روپے کا اضافہ نہیں کیا،حکومت سندھ صوبے کی جامعات کو دیگر تین صوبوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ گرانٹ دیتی ہے ، لیکن کچھ جامعات اب بھی مالی بحران کا شکار ہیں ،جو پرانی یونیورسٹیاں ہیں ان میں ملازمین کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔انہوں نے کہا جامعات میں ہراسمنٹ کے افسوسناک واقعات ہوتے ہیں،اس نوعیت کے واقعات کی ابتدائی تحقیقات یونیورسٹی کے اندر ہوتی ہے ،اگر والدین مطمئن نہیں ہوتے تو محکمہ بھی تحقیقات کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا تمام یونیورسٹیوں کو حکم دیا گیاہے کہ وہ سی سی ٹی وی کیمرے لگائیں۔جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق نے نشاندہی کی کہ کراچی یونیورسٹی میں 44 ہزار طلبہ ہیں لیکن وہاں بسوں کی تعداد بہت کم ہے ۔ محمد اسماعیل راہونے کہا کہ سندھ حکومت جامعہ کراچی کو سب سے زیادہ گرانٹ دیتی ہے ،جامعہ کراچی بھی سندھ کی یونیورسٹی ہے ،2020 سے 2025 تک طلبہ کو ایک لاکھ 12 ہزار 198 اسکالرشپس دی گئی ہیں۔بعدازاں اجلاس برخواست کردیا گیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...