حکومت اپوزیشن ڈیڈلاک ، خطرات بڑھتے نظر آ رہے
پی ٹی آئی کا ایک طبقہ مارچ پر بضد،اعتدال پسند لیڈرشپ مذاکرات کی حامی
(تجزیہ:سلمان غنی)
حکومت کی جانب سے اسلام آباد میں یقینی امن کے قیام کے لیے ممکنہ اقدامات کے باوجود اپوزیشن، خصوصاً پی ٹی آئی، اسلام آباد جانے پر مضر نظر آ رہی ہے ، کہا جا رہا ہے کہ 27 ستمبر کو نہ سہی، لیکن پھر بھی یہاں پہنچ کر دکھائیں گے ۔ وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے دوٹوک اعلان کیا ہے کہ کسی جتھے کو اسلام آباد نہیں آنے دیں گے ، عدالتی حکم کے تحت راستے بھی کھلے رہیں گے اور کوئی ہنگامی صورتحال بھی پیدا نہیں ہونے دی جائے گی۔ پی ٹی آئی اسلام آباد میں مارچ پر بضد کیوں ہے اور اس کا ایجنڈا کیا ہے ؟ حکومت اسلام آباد کی سفارتی اہمیت اور حیثیت کے پیش نظر یہاں یقینی امن کو اپنا چیلنج سمجھ رہی ہے ، امن و امان کے ذمہ دار اداروں کو اپنی حکمت عملی سے آگاہ کر دیا گیا ہے ۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو بنیاد بنایا گیا ہے ۔ شہریوں کو یقین دہانی کرائی جا رہی ہے کہ اسے معمولات زندگی پر اثر انداز نہیں ہونے دیں گے ۔ پی ٹی آئی نے اپنے لانگ مارچ کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا ہے خصوصاً وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ہر حالت میں اپنے بانی کے سامنے سرخرو ہونے ، اسلام آباد تک پہنچنے اور حکومت پر دباؤ بڑھانے پر بضد ہیں۔ البتہ اعتدال پسند لیڈر شپ اس لانگ مارچ سے اپنے اصل مقاصد حاصل کرنے کے لیے پس پردہ مذاکرات بھی کر رہی ہے ، انتظامی مشینری سے فیس سیونگ چاہتی ہے۔
اطلاعات یہ ہیں کہ حکومت بانی پی ٹی آئی کی صحت اور علاج کے حوالے سے ریلیف پر تیار ہے ، لیکن رہائی کے معاملے پر سخت موقف پر کاربند ہے ۔ ابھی تک پی ٹی آئی میں لانگ مارچ کے حوالے سے تقسیم ہے ، وزیراعلیٰ کے پی کے پس پردہ مذاکراتی عمل سے بھی گریزاں ہیں، ہر آنے والے دن میں تناؤ بڑھ رہا ہے ۔ ریاست کسی صورت یہ نہیں چاہے گی کہ اسلام آباد کی ایسی تصویر دنیا کے سامنے جائے کہ دنیا کی بڑی شخصیات مستقبل قریب میں یہاں آنے سے گریزاں ہوں اور اسلام آباد کی سفارتی حیثیت متاثر ہو۔ حکومت نے عدالتی حکم نامے اور ریاستی مشینری کے بل بوتے پر اپنی پوزیشن مضبوط بنا لی ہے ۔ تجزیہ کار وزیر داخلہ محسن نقوی کی ‘‘گولی کے جواب میں گولی’’ کی دھمکی کو مکمل تیاری کا ثبوت قرار دیتے ہوئے کسی قسم کی لچک نہ دکھانے کو ایک واضح پیغام سمجھتے ہیں۔ویسے بھی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات پر ڈیڈلاک سے تصادم کے خطرات بڑھتے نظر آ رہے ہیں۔ البتہ اب بھی پی ٹی آئی کے اندر اعتدال پسند گروپ ڈیڈلاک اور اسٹیبلشمنٹ سے ٹکراؤ کی پالیسی کو جماعت کے لیے نقصان دہ سمجھتا نظر آ رہا ہے۔
ان کے خیال میں اس عمل کی صورت میں ‘‘لینے کے دینے ’’ بھی پڑ سکتے ہیں، لہٰذا اب بھی پارٹی میں کچھ لوگ پس پردہ مذاکراتی عمل کی بحالی کے خواہاں ہیں۔پی ٹی آئی کے لیے ایک اور مسئلہ کسی بڑی اپوزیشن جماعت کا ساتھ نہ دینا ہے ۔ جے یو آئی ساتھ دینے سے انکاری ہے ، جماعت اسلامی سمجھتی ہے کہ ہمارے اور ان کے مقاصد ایک نہیں اور ان کے ساتھ ملنا ان کے لیے بڑے نقصان کا باعث ہو سکتا ہے ، احتجاج میں اصل امتحان تو وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا ہے ، کہا جا رہا ہے کہ اگر وہ کوئی بڑا کارنامہ نہ کر سکے تو ان کی وزارت اعلیٰ خطرے میں پڑ سکتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اسلام آباد لانگ مارچ کی کامیابی کو اپنی وزارت اعلیٰ کے لیے چیلنج سمجھ رہے ہیں۔ کیا پی ٹی آئی پیچھے ہٹ جائے گی ؟ اس حوالے سے فریقین ایک دوسرے پر دباؤ ڈالتے نظر آ رہے ہیں ۔ پی ٹی آئی بڑے شہروں میں ایسا ماحول نہیں بنا سکی کہ کہا جائے کہ وہ لانگ مارچ میں کوئی کردار ادا کرے گی۔ البتہ علیمہ خان کی گرفتاری سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کو متحرک ہونا پڑ سکتا ہے ، مگر پنجاب کا المیہ یہ ہے کہ یہاں پی ٹی آئی کے پاس قیادت نہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments