جاگیر دارانہ نظام نہیں چاہتے ، صبر ختم ہو چکا، عوام حقوق کیلئے سڑکوں پر آگئے : ایم کیو ایم
مطالبات منوائے بغیر واپس گھروں کو نہیں جائیں گے ، انتظامی یونٹس لسانی نہیں انتظامی بنیادوں پر ہونے چاہئیں، خالد مقبول ثابت ہوگیا کراچی جاگ چکا، انتظامی یونٹس سے لاڑکانہ و دیگر شہروں کا مستقبل بہتر ہوسکتا :فاروق ستار، کریم آباد تا مزار قائد ریلی
کراچی (سٹاف رپورٹر) متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے ڈسٹرکٹ سینٹرل کے زیر اہتمام انتظامی یونٹس کے قیام کی جدوجہد کے آغاز پر کریم آباد سے مزار قائد تک ریلی نکالی گئی، جس میں خواتین، نوجوانوں، طلبہ، کارکنان اور عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ریلی سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا مزار قائد پر عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا، یہی قافلہ کراچی سے اسلام آباد جائے گا تو پاکستان کی تقدیر بدل دے گا۔ ٹنڈو الہ یار، حیدرآباد اور میرپورخاص کے عوام پہلے ہی فیصلہ سنا چکے ، آج کراچی نے بھی اپنا فیصلہ دے دیا ہے ۔خالد مقبول صدیقی نے کہا اپنے مطالبات منوائے بغیر واپس گھروں کو نہیں جائیں گے ۔ ہم نے ہر طرح کا جبر برداشت کیا، مزید جبر نہ کیا جائے اور عوام کو حقوق دیے جائیں۔ ایسا جمہوری نظام چاہتے ہیں جس میں عوام کو ان کی دہلیز پر حقوق اور مسائل کا حل ملے ، ہم جاگیردارانہ سیاسی نظام نہیں چاہتے۔؎
انہوں نے کہا انتظامی یونٹس لسانی نہیں بلکہ انتظامی بنیادوں پر ہونے چاہئیں تاکہ جمہوریت کے ثمرات عوام تک پہنچیں۔ ایم کیو ایم نے عوام کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی اور عدالتوں میں مقدمہ پیش کیا، انتظامی یونٹس کی جدوجہد کا آج آغاز ہوا ہے ، اختتام نہیں۔ آئندہ بھی ووٹ کی طاقت سے حقوق کا مقدمہ لڑیں گے ۔سینئر مرکزی رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا آج کی ریلی نے ثابت کردیا کراچی جاگ چکا، عوام اپنے انتظامی حقوق کے لیے متحد ہیں۔ 18 سال کا صبر ختم ہوچکا، سندھ کے عوام حقوق کے لیے سڑکوں پر آگئے ہیں۔انہوں نے کہا انتظامی یونٹس سے صرف کراچی نہیں بلکہ لاڑکانہ، سکھر، نوابشاہ، میرپورخاص، حیدرآباد اور سندھ کے دیگر شہروں کا مستقبل بھی بہتر ہوسکتا ہے ۔ ہم ان شہروں میں جاکر عوام کے حقوق کا مقدمہ پیش کریں گے ۔ ہمارا مقصد ایسا نظام ہے جس میں مقامی سطح پر عوام کے نمائندے وسائل اور مسائل کے حل میں مؤثر کردار ادا کریں اور بنیادی سہولیات دہلیز پر میسر ہوں۔ریلی میں سینئر مرکزی رہنما نسرین جلیل، وسیم اختر، حق پرست اراکین قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز، کارکنان، ذمہ داران اور عوام نے شرکت کی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments