نورین ، عظمیٰ خان بھی جیل منتقل ، نظر بندی ہائیکورٹ میں چیلنج، آج سماعت
عمران خان کی بہنوں اور بھانجوں کو علیمہ خان کی رہائشگاہ سے حراست میں لیا گیا،بکتر بند گاڑی پر منتقل،رات گئے بچے ،اہلخانہ رہا گولی چلائی تو پھر دوسری طرف سے گولی ہی چلے گی، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا ، ظالمانہ اقدامات کا حساب دینا پڑ یگا،شفیع اللہ جان
پشاور،لاہور (دنیا نیوز،کورٹ رپورٹر)بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ کے بعد عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو بھی نظربند کر دیا گیا،دوسری طرف تینوں بہنوں کی نظر بندی کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے ،درخواست سماعت کیلئے منظور کر لی گئی ، عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو ڈپٹی کمشنر لاہور کے احکامات پر تھری ایم پی او کے تحت پولیس کی سفارش پر 30 دن کے لیے نظر بند کیا گیا ہے ، ذرائع نے بتایا کہ پولیس نے علیمہ خان کی رہائش گاہ سے ان کی بہنوں اور بھانجوں کو حراست میں لیا اور انہیں بکتر بند گاڑی کے ذریعے منتقل کیا گیا، رات گئے بچوں اور دیگر اہلخانہ کو چھوڑ دیا گیا جبکہ دونوں بہنوں کو 30 روز کے لئے نقصِ امن کے خطرے کے پیش نظر جیل بھجوا دیا گیا ،ادھراسلام آباد کے ریڈ زون سے پاکستان تحریک انصاف کے 6 اراکین پارلیمنٹ کو گرفتار کرلیا گیا ، ان میں عادل بازئی، سینیٹر سیف اللہ نیازی، ثناء اللہ مستی خیل، میاں احسن جمال ، داوڑ خان اور محمد غوث شامل ہیں،ذرائع کے مطابق زیر حراست پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کو تھری ایم پی او کے تحت جہلم جیل بھجوا دیا گیا ہے ۔
آزاد کشمیر میں بھی پی ٹی آئی کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا گیا اور سابق اپوزیشن لیڈر خواجہ فاروق ،متعدد پارٹی رہنمائوں اور کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا ،پولیس نے مظفرآباد میں خواجہ فاروق کی رہائشگاہ پر چھاپہ مار کر ان کو حراست میں لیا ، پی ٹی آئی سے وابستہ 12 دیگرافراد کو بھی گرفتار کیا گیا ،پی ٹی آئی کے مطابق کارروائی اس وقت کی گئی جب اسلام آباد مارچ کی کال کے حوالے سے مشاورتی اجلاس جاری تھا، دوسری طرف لاہور ہائیکورٹ میں عمران خان کی بہنوں کی نظر بندی کے احکامات کو چیلنج کر دیا گیا ہے ، درخواست میں پنجاب حکومت، ہوم ڈیپارٹمنٹ، ڈی سی لاہور سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے ،علیمہ خانم کے بیٹے شاہ زیر اور عظمی خانم کی بیٹی سکینہ نے وکیل رانا مدثر عمر کے توسط سے درخواست میں علیمہ ،عظمی اور نورین کی نظر بندی کوچیلنج کیا ہے ، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ڈی سی لاہور نے غیر قانونی طور پر نظر بندی احکامات جاری کیے ،تینوں بہنیں کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں،تھری ایم پی او کے طریقہ کار کے مطابق احکامات جاری نہیں کیے گئے ، درخواست میں نشاندہی کی گئی کہ گرفتاری کے بعد علیمہ خانم کی نظر بندی کے احکامات جاری کیے گئے ،درخواست میں استدعا کی گئی کہ ڈی سی کے نظر بندی کے احکامات کو کالعدم قرار دیا جائے ،لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کی تین بہنوں کی کی نظر بندی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کردی ہیں،جسٹس عبہر گل خان آج صبح نو بجے درخواستوں پر سماعت کریں گی،
،ادھر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم جمہوری لوگ ہیں اور ہم نے تمام آئینی، قانونی و جمہوری راستے اپنائے ہیں لیکن یہاں پر سپریم کورٹ کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیا جاتا ہے ، انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بننے کے بعد کوئی بڑا احتجاج نہیں کیا لیکن ہماری بات نہیں سنی جا رہی، آخری راستہ احتجاج کا ہوتا ہے اور ہم نے پرامن طریقے سے احتجاج کیا، سہیل آفریدی نے کہا کہ میرا آئین میرا قانون مجھے پرامن احتجاج کی اجازت دیتا ہے لیکن اگر یہ پرامن احتجاج کی اجازت نہیں دینا چاہتے تو پھر آئین سے اس کی شق ہی نکال دیں، انہوں نے کہا کہ 27 ستمبر کو ہم امن طور پر ضرور نکلیں گے ، یہ عمران خان کی بہنوں، رہنماؤں اور اراکین اسمبلی کو گرفتار کر کے تحریک کو ناکام کرنے کی کوشش ناکام ہوگی ، احتجاج ہمارا حق ہے ،27 ستمبر کو پوری قوت کے ساتھ نکلیں گے ، اتنی بڑی تعداد میں لوگ باہر آئیں گے جس کا مخالفین تصور بھی نہیں کرسکتے ،ہمیں کسی قسم کا خوف نہیں، 25 ستمبر کو احتجاج کا تمام پلان سامنے لے آئیں گے ، یہ ٹیسٹ میچ ہے اور ان شاء اللہ ہم ہی جیتیں گے ، ہمارا تصادم کا کوئی ارادہ نہیں، ہم پرامن اور جمہوری طریقے سے انصاف کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ اگر گولی چلائی گئی تو پھر دوسری طرف سے بھی گولی چلے گی، موجودہ صورتِ حال ملک کو خانہ جنگی کی طرف لے جانے کی کوشش ہے ،
وزیر داخلہ کی پریس کانفرنس کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم کوئی دہشت گرد نہیں، بندوق کا مقابلہ بندوق سے نہیں کر رہے بلکہ اپنے آئینی اور جمہوری حق کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں، پی ٹی آئی رہنما شفیع جان نے کہاہے کہ رات کے اندھیرے میں عمران خان کی بہنوں کی بچوں سمیت گرفتاری اور شرمناک اور قابل مذمت ہے ،ایکس پر بیان میں انہوں نے کہا چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرنا اور گھروں میں توڑ پھوڑ پنجاب پولیس کا وطیرہ بن چکا ہے ۔ عمران خان کی فیملی کو آخر کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے ؟ پنجاب کے حکمرانوں سن لو! ان ظالمانہ اقدامات کا حساب دینا پڑے گا، پی ٹی آئی رہنما شاہد خٹک نے کہا ہے کہ 27 ستمبر کو تو ہم آئیں گے اور پوری طاقت سے آئیں گے مگر جس طرح اراکین اسمبلی کو اغوا کیا جارہا ہے ، وہ بہت تشویشناک ہے ۔ ایکس پر بیان میں انہوں نے کہا میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور اپوزیشن لیڈر سینیٹ سے درخواست کرتا ہوں کہ فوری طور پر اجلاس بلائیں اور تمام اسمبلیوں اور سینیٹ سے استعفوں پر غور کیا جائے جب کسی رکن پارلیمنٹ کو پروٹیکشن ہی نہیں تو ہم کیوں ان اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں؟ ، اسد قیصر نے کہا ہے فارم 47 کی جعلی حکومت نے سیاسی انتقام کی تمام حدیں پار کر دی ہیں،عمران خان کی بہنوں کی گرفتاریاں حکومت کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments