تمباکو سیکٹر میں سالانہ ایک ارب ڈالر کے ٹیکس نقصانات کاانکشاف

تمباکو سیکٹر میں سالانہ ایک ارب ڈالر کے ٹیکس نقصانات کاانکشاف

مستثنیٰ علاقوں میں فیکٹریاں ،سگریٹوں کی چوری، گوداموں میں بے ضابطگیاں داخلہ کمیٹی برہم،مالکان کے بجائے ڈرائیورز کیخلاف کارروائی پر سوالات اٹھادیئے

اسلام آباد (خصوصی رپورٹر) سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسداد منشیات نے تمباکو کے شعبے میں سالانہ ایک ارب ڈالر تک کے مبینہ ٹیکس نقصان، ٹیکس سے مستثنٰی علاقوں میں فیکٹریوں کی سرگرمیوں، سگریٹ کی 2,828 پیٹیوں کی چوری اور ایف بی آر کے ضبط شدہ سامان کے گوداموں میں بے ضابطگیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ایف بی آر اور ایف آئی اے سے ایک ماہ میں جامع تحقیقاتی رپورٹس طلب کرلیں۔ کمیٹی نے سگریٹ چوری، ضبط شدہ سامان کے گوداموں میں بے ضابطگیوں پر شدید برہمی کا اظہار کیا ، سینیٹر فیصل سلیم رحمن کی زیرصدارت اجلاس میں ذیلی کمیٹی کی رپورٹ کا جائزہ لیا گیا۔

رپورٹ میں تمباکو شعبے میں مبینہ ٹیکس چوری، غیر قانونی پیداوار اور فاٹا، پاٹا و خیبرپختونخوا کے ٹیکس سے مستثنٰی علاقوں میں قائم فیکٹریوں سے قومی خزانے کو ممکنہ نقصان کا معاملہ اٹھایا گیا۔کمیٹی نے سگریٹ چوری کے مقدمے میں نچلے درجے کے اہلکاروں کو نامزد کرنے پر سوالات اٹھاتے ہوئے اصل ذمہ دار افسران، فیکٹری مالکان اور مبینہ فائدہ اٹھانے والوں کا تعین کرنے کی ہدایت کی۔ سینیٹر طلحہ محمود نے مقدمات کے ابتدائی اندراج میں مبینہ خامیوں کی نشاندہی کی۔کمیٹی نے ایف بی آر کے گوداموں میں ضبط شدہ سامان کی نگرانی پر بھی تشویش کا اظہار کیا، جہاں بعض مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرے موجود نہیں۔ ٹیکس چوری کی مزید تحقیقات کیلئے نئی ذیلی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں بیرون ملک پاکستانیوں کی وطن واپسی، ایمرجنسی ٹریول ڈاکومنٹس اور مختصر مدت کے پاسپورٹس سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...