حکومت جماعت اسلامی کی طرح پی ٹی آئی کو بھی لچک دکھائیگی؟

حکومت جماعت اسلامی کی طرح پی ٹی آئی کو بھی لچک دکھائیگی؟

تحریک انصاف کے مطالبات کوئی بڑے ایشوز نہیں، مذاکرات شروع کریں

(تجزیہ:سلمان غنی)

وزیراعظم شہباز شریف کی یقین دہانی پر پٹرولیم لیوی کے خاتمہ کیلئے لانگ مارچ مؤخر کرنے کے اعلان سے ظاہر ہوتا ہے کہ جماعت اسلامی ٹکراؤ کی بجائے سیاسی عمل کو ترجیح دیتے ہوئے ایک ایسی حکمت عملی پر کاربند ہے جس کا بڑا مقصد اپنے مطالبے پر عمل درآمد ہے ،وزیراعظم شہباز شریف نے بھی امریکا سے جماعت اسلامی کے امیر نعیم الرحمن سے ٹیلی فون کال کر کے لچک کا اظہار کرتے ہوئے یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ سیاسی ایشوز پر بات چیت اور مسائل کے سیاسی حل کی پالیسی پر کاربند ہیں۔حکومتی ذمہ داران نے جماعت اسلامی کے امیر نعیم الرحمن اور دیگر عہدیداروں کے سخت موقف اور تلخ بیانات کے   باوجود جماعت اسلامی سے مشاورتی عمل ٹوٹنے نہیں دیا ، وزیراعظم شہباز شریف نے بھی انہیں یہ ہدایت کر رکھی تھی کہ جماعت اسلامی اگر عوامی ایشو کو بنیاد بنا کر احتجاج کر رہی ہے تواس سپرٹ کے ساتھ ان کے ساتھ بیٹھ کر حل نکالا جائے ، آخری میٹنگ میں جماعت اسلامی اور حکومتی میٹنگ میں اس امر پر اتفاق رائے ہو گیا تھا کہ لیوی کا خاتمہ نہیں تو اس پر ممکنہ کمی ہو گی اور پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں میں کوئی ریلیف کا بندوبست ہونا چاہیے۔

جماعت اسلامی کی جانب سے لانگ مارچ مؤخر کرنے کے فیصلے کو جہاں سراہا جا رہا ہے وہاں پی ٹی آئی پر بھی دباؤ آیا ہے ، سیاست میں ضد ہمیشہ نقصان دہ ہوتی ہے اور تناؤ کو ٹکراؤ میں تبدیل کرنے کا عمل سیاسی قوتوں کیلئے نقصان دہ بنتا ہے ،ویسے بھی پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے حوالہ سے اسلام آباد کی سطح پر پیدا شدہ صورتحال کے ضمن میں تاثر یہی بنا نظر آ رہا ہے کہ ریاست نے اس دفعہ کسی کو اسلام آباد میں ہنگامہ آرائی اور دھرنا کی اجازت نہیں دینی، جماعت اسلامی کے لانگ مارچ کے مؤخر ہونے کے عمل کے بعد یہ سوال بھی کھڑا نظر آ رہا ہے کہ بامقصد مذاکرات کے ذریعے اگر حکومتی وزرا کی ٹیم جماعت اسلامی کو اپنی طے شدہ حکمت عملی پر پسپائی پر مجبور کر سکتی ہے توکیا حکومت میں اتنی اہلیت نہیں کہ یہی آپشن پی ٹی آئی کیلئے بھی بروئے کار لایا جائے اس لئے کہ پی ٹی آئی بھی اپنی حکمت عملی کے حوالے سے دو حصوں میں بٹی نظر آ رہی ہے ، پارٹی کے سنجیدہ افراد اور خصوصاً اپوزیشن کی لیڈر شپ محمود اچکزئی، بیرسٹر گوہر، راجہ ناصر عباس و دیگر احتجاجی عمل کے ساتھ ڈائیلاگ کی بات بھی کرتے نظر آ رہے ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ اسلام آباد مارچ کے حوالے سے پیدا شدہ صورتحال پر سیاسی سوچ کی حامل اپوزیشن کی لیڈر شپ ٹکراؤ سے بچنا اور مسائل کے حل کے بارے میں کوئی راستہ نکالنا چاہتی ہے ،جبکہ خیبر پختونخواکے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور پارٹی کے صدر جنید اکبر خود کو اپنی جیل میں بند لیڈر شپ کی عدالت میں سرخرو ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں،لہٰذا حکومت کو جماعت اسلامی کے بعد پی ٹی آئی کے حوالے سے بھی اسی طرز عمل کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور پارٹی کے سنجیدہ عناصر سے مذاکرات بحال کرنے چاہئیں۔ جہاں تک پی ٹی آئی کے مطالبات کا تعلق ہے تو وہ کوئی بڑے ایشوز کے ساتھ میدان میں نہیں ہیں ،ان کا مطمح نظر تو اپنے لیڈر کی صحت کے حوالے سے ریلیف اور ان کے عزیز و اقارب و پارٹی ذمہ داران کی جیل میں ملاقاتوں کی سہولت ہے جنہیں کوئی بڑا مطالبہ قرار نہیں دیا جا سکتا ۔وزیراعظم شہباز شریف جنہیں اب قومی سیاست میں اس اہلیت کا حامل سمجھا جاتا ہے کہ وہ مختلف سیاسی قوتوں اور اسٹیبلشمنٹ کو ساتھ لیکر چلنے کا ہنرجانتے ہیں وہ اسلام آباد کیلئے درجہ حرارت کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں اور اپوزیشن سے مذاکرات کا عمل بھی شروع کریں ،اس وقت یہی ملک قوم اور جمہوری سسٹم کے بہترین مفاد میں ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...