پختونخوا حکومت نے آئی جی کے اختیارات کم کردیئے،پولیس ایکٹ کا ڈرافٹ منظور

پختونخوا  حکومت  نے  آئی جی  کے  اختیارات  کم  کردیئے،پولیس  ایکٹ  کا  ڈرافٹ  منظور

ایس پی، ایس ایس پی اور ایڈیشنل آئی جی کے تبادلے وزیراعلیٰ ،ڈی ایس پیز،اے ایس پیزکی تبدیلی ہوم سیکرٹری کااختیارؤ کے پی میں غیر اعلانیہ گورنرراج ،حکومت ہماری سکہ آپکا چل رہا:بیرسٹر گوہر،پولیس کسی کا غلط حکم نہ مانے :سہیل آفریدی

 پشاور، لاہور(سیاسی نمائندہ، مانیٹرنگ ڈیسک، آئی این پی)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں پولیس ایکٹ 2026 کے ڈرافٹ کی منظوری دیدی گئی ،دوسری طرف سینئر پولیس  افسروں نے آئی جی کے اختیارات میں کمی پر صوبہ چھوڑنے کی دھمکی دیدی ،تفصیلات کے مطابق مجوزہ پولیس ایکٹ کے تحت آئی جی خیبرپختونخوا کی تعیناتی کا اعلامیہ صوبائی حکومت جاری کرے گی،آئی جی کی کارکردگی سے صوبائی حکومت خوش نہ ہو تو انکے تبادلے کیلئے وفاق سے مزید نام مانگے جا سکتے ہیں، آئی جی کی غیر موجودگی میں ایڈیشنل آئی جی ہیڈ کوارٹر بطورآئی جی چارج سنبھالیں گے ، ڈی ایس پیز اور اے ایس پیز کے تبادلے ہوم سیکرٹری کریں گے ، ایس پی، ایس ایس پی اور ایڈیشنل آئی جی کے تبادلے وزیراعلیٰ کا اختیارہوگا،ایس پی، ایس ایس پی اور ایڈیشنل آئی جی کی تعیناتی کا اعلامیہ محکمہ انتظامیہ جاری کرے گا، کسی بھی قانونی معاملے میں پولیس اپنا جواب براہِ راست جمع نہیں کرے گی، پولیس محکمہ قانون اور اے جی آفس کی جانب سے منظور شدہ جواب جمع کرے گی، پولیس پالیسی بورڈ کی صدارت آئی جی سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو منتقل ہو گی۔

ایکٹ کے تحت محکمہ پولیس کی تمام پوسٹنگز اور تبادلوں کا اختیار صوبائی حکومت کو تفویض کیا جائے گا، ادھرخیبرپختونخوا پولیس ایکٹ میں ممکنہ تبدیلیوں پر سینئر پولیس افسروں نے تحفظات کا اظہار کردیا ہے ، ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر مجوزہ ایکٹ کے تحت وزیراعلیٰ کو اضافی اختیارات د ئیے گئے اور آئی جی پولیس کے اختیارات میں کمی کی گئی تو متعدد سینئر افسر صوبہ چھوڑ دیں گے ۔ دوسری طرف چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ کے پی کے میں اس وقت غیر اعلانیہ گورنر راج لگا ہوا ہے ، آپ نے ہمارے صوبے کو مکمل کنٹرول کیا ہوا ہے ، حکومت ہماری ،ایم پی ایز ایم این ایز ہمارے ہیں لیکن سکہ آپ کا چل رہا ہے یہ جمہوریت کے لیے خطرناک ہے ،لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے ایم این ایز، منسٹر اور ایم پی ایز کو خیبر پختونخوا کے اندر سے گرفتار کیا گیا، کے پی اپنے ہی لوگوں کے لیے محفوظ نہیں رہا،انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنوں کے اہلخانہ سے اظہار یکجہتی کے لیے لاہور آیا ہوں، عمران خان کی بہنوں کی گرفتاری بدترین سیاسی انتقام ہے ، عمران خان کی فیملی کے چار لوگ اور آٹھ ایم این ایز گرفتار اور وزرا لاپتا ہیں،انہوں نے کہا کہ ایک حکومتی ٹولہ ہمارے لانگ مارچ کے حوالے سے پراپیگنڈا کررہا ہے کہ وہ اداروں پر حملہ آور ہوں گے ، یہ حکومتی ٹولہ جو بیانیہ بنارہا ہے اس کا کوئی بندوبست کرنا ہو گا ، اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس اور ہماری قیادت بات چیت کے لیے تیار ہے مگر حکومت کی بات چیت کی پیشکش صرف پیشکش ہے ، اس میں عملی طور پر کچھ نہیں ہے ۔

دریں اثنا خیبر پختونخوا کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ سادہ لباس افراد ہماری بیورو کریسی، پولیس، ڈی سیز اور ڈی پی اوز کو ڈرا اور دھمکا رہے ہیں ،اس صورتحال میں پُرامن احتجاج کرنا ہمارا آئینی و قانونی حق ہے ، انہوں نے کہا کہ مواصلات و تعمیرات کے وزیر شکیل خان پر قاتلانہ حملہ ہوا انہیں اغوا کرنے کی کوشش کی گئی ، ہمارے وزیر آبپاشی ریاض خان کے گھر پر بھی سادہ کپڑوں میں ملبوس غنڈہ عناصر پہنچے ،مردان میں ایم این اے فضل خان کو اغوا کیا گیا، فخر جہان کے گھر پر بھی نامعلوم افراد نے دھاوا بولا، ہمارے منتخب نمائندے اور وزراء نشانے پر ہیں ، خیبر پختونخوا کے صوبائی کابینہ ارکان کے ساتھ ایسا سلوک ناقابل قبول ہے ، کچھ دن پہلے رانا ثناء اللہ کی طرف سے خیبر پختونخوا والوں کو دہشت گرد قرار دینے کے بیانات سامنے آئے ، مریم صفدر کا یہ کہنا کہ انہیں بھارت سے خطرہ نہیں بلکہ پاکستان کے باقی تین صوبوں سے خطرہ ہے ، انتہائی تشویشناک ہے ،وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا کو باقی پاکستان سے کاٹنے اور تمام راستے بند کرنے کا کیا مطلب لیا جائے ؟ انہوں نے کہا کہ کیا کوئی سازش ہو رہی ہے ؟ جو بھی سازش ہو رہی ہے اور اس کے پیچھے جو بھی لوگ ہیں انہیں واضح پیغام ہے ، پاکستان ہمارا ہے ، ہم پاکستانی ہیں اور ان شاء اللہ پاکستانی رہیں گے ،وزیراعلیٰ نے کہا کہ بیوروکریسی، پولیس، ڈی سیز اور ڈی پی اوز کو میرا پیغام ہے ، آپ نے ڈرنا نہیں ہے ، اگر صوبائی حکومت آپ سے کوئی غلط کام نہیں کروا رہی تو کسی ادارے یا محکمے کے غلط احکامات نہ مانیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...