خیبرپختونخوا میں گورنر راج کی نہیں،عوامی راج کی ضرورت :عطاتارڑ

خیبرپختونخوا  میں  گورنر  راج  کی  نہیں،عوامی  راج  کی  ضرورت :عطاتارڑ

پی ٹی آئی کے وکیل نالائق،وہ سیاسی زیادہ ، پروفیشنل کم ، اپنے کیسز خود خراب کئے ، بانی کی رہائی نہ ہونے کی یہ وجہ ہے سہیل آفریدی کی گرفتاری کا امکان نہیں،پولیس کو سیاسی فورس نہیں بنانے دینگے ، ’’دنیا مہربخاری کے ساتھ‘‘ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کی گنجائش نہیں ،نہ ہی ایسا امکان ہے ، پی ٹی آئی وہاں پر عوامی راج لگا دے اسکی ضرورت ہے ۔ پی ٹی آئی والے جب بھی اسلام آباد آئے ،انتشار پھیلاتے ہیں ، سکیورٹی انتظامات ،اسلام آباد کو محفوظ کرنا، کاروبار زندگی کو معمول کے مطابق چلاتے رہنا، یہ ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے ،ہم نے تیاری کر ر کھی ہے ،حکومت  کسی کو دھمکی نہیں دے رہی، پی ٹی آئی والوں کو اسلام آباد نہیں آنے دینگے ۔دنیا نیوز کے پروگرام ’’دنیا مہربخاری کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے انہوں نے کہاریاست کاکام ہے عوام کی جان ومال کی حفاظت کرنا ، سمجھ نہیں آر ہی پی ٹی آئی کے دھرنے کا جواز کیا ہے ، اگر اس نے خیبرپختونخوا میں اتنی اچھی طرز حکمرانی قائم کی ہوتی تو ہمیں اپنی تعلیمی اصلاحات سے سیکھنے کیلئے کہتی، ہارورڈ سطح کی یونیورسٹی بنائی ہوتی، پی کے ایل آئی جیسا ہسپتال قائم کیا ہوتا یا طرز حکمرانی میں نئی مثالیں قائم کی ہوتیں لیکن ایسا نہیں کیا گیا، انکی ڈیمانڈ اگر بانی کی رہا ئی کی ہے تو عدالت جائیں،انہوں نے نالائق وکیل کئے۔

جو سیاسی وکیل زیادہ ، پروفیشنل کم تھے ، اپنے کیسز خود خراب کئے ،جس سے رہائی نہیں ہورہی، سڑکیں بند ہونے سے ملکی معیشت کو یومیہ 120 ارب کا نقصان ہوتا ہے ، کاروباری افراد، صنعتکار، برآمد کنندگان، تاجر، تنخواہ دار طبقہ اور دیہاڑی دار متاثر ہوتے ہیں۔سیاسی رابطوں پر انہوں نے کہا کہ رابطے چلتے رہتے ہیں،فی الحال پی ٹی آئی سے کوئی بات چیت نہیں چل رہی،نہ ہی اسکے امکانات ہیں،کیونکہ پتا نہیں کہ پی ٹی آئی میں سے کس سے بات کرنی چاہئے ، فیصلہ سازی کا کس کے پاس اختیار ہے ، وزیراعظم نے متعدد مرتبہ مذاکرات کی دعوت دی،پی ٹی آئی میں سے کس سے بات کریں،؟ بیرسٹرگوہر اور محمود اچکزئی کی کون سنتا ہے ۔گورنر راج لگانے کے سوال پرعطا تارڑ نے کہا عوام کو انکے حقوق دیں، مسائل حل کرکے انکی زندگی آسان بنائیں، پی ٹی آئی لوگوں کو اہمیت دینا شروع کرے اور لوگوں کے کام کرے ، وہاں گورنر راج کی ضرورت ہے نہ ہی کوئی امکان نظر آتا ہے ،میں خود گورنر راج کے حق میں نہیں،ایک اور سوال پر کہا کہ اگر آج بھی بات چیت چلتی ہے تو پی ٹی آئی کو پھر بھی اسلام آباد نہیں آنے دیا جائے گا، ہم نے پی ٹی آئی کو دہشتگردوں کیخلاف بات کرتے نہیں دیکھا،انہیں کالعدم ٹی ٹی پی کی ہمدرری حاصل ہے۔

تمام سیاسی جماعتوں کو دہشتگردوں نے نشانہ بنایا لیکن ایک سیاسی جماعت ایسی ہے جسے دہشتگردوں نے نشانہ نہیں بنایا ، یہ ہمیشہ دہشتگردوں کیساتھ ہمدرری رکھتے ہیں،پی ٹی آئی،کالعدم ٹی ٹی پی کی بی ٹیم ہے ، یہ جب بھی آتے ہیں تشدد کرتے ہیں، ایک ویڈیو میں پی ٹی آئی کے لوگوں کے پاس بنٹے ، غلیلیں، ڈنڈے ، کیل اور کانچ سمیت مختلف چیزیں دیکھی گئیں، جو بھی اسلام آباد آئے گا اسے گرفتار کیا جائے گا،خیبرپختونخوا پولیس سے متعلق مجوزہ قانون پر بھی بات کرتے عطا تارڑ نے کہا تحریک انصاف پولیس میں سیاسی بھرتیاں اور ایسا آئی جی تعینات کرنا چاہتی ہے جس سے سیاسی مقاصد حاصل کئے جا سکیں جبکہ حکومت کے مطابق پولیس کو سیاسی فورس بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، خیبرپختونخوا میں 12 سال سے زیادہ سے پی ٹی آئی حکومت ہے ، اس دوران پولیس اصلاحات، سیف سٹی کیمروں، سکیورٹی نظام، انسداد دہشتگردی یا پولیس کو جدید آلات فراہمی پر توجہ نہیں دی گئی،سہیل آفریدی کی گرفتاری کے سوال پر وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعلیٰ عام طور پر گرفتار نہیں ہوا کرتے اور فی الحال انہیں ایسا کوئی امکان نظر نہیں آتا، کسی کو قانون ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...