خیبر پختونخوا:جوڈیشل افسروں کیلئے ٹرانسپورٹ مونیٹائزیشن پالیسی منظور
یکم اکتوبر سے ماہانہ الاؤنس ملے گا،زیر استعمال گاڑیاں تخفیف شدہ قیمت پرخریدسکیں گے خریدی گاڑیوں پر سبز نمبر پلیٹس استعمال نہیں ہونگی ، مالی بحران پرالاؤنس کم کیاجاسکے گا
پشاور(این این آئی)خیبر پختونخوا حکومت نے عدلیہ کے لیے ٹرانسپورٹ مونیٹائزیشن پالیسی کی منظوری دے دی، جس کے تحت صوبے کے جوڈیشل افسروں کو یکم اکتوبر سے ماہانہ ٹرانسپورٹ مونیٹائزیشن الاؤنس دیا جائے گا۔ محکمہ خزانہ نے پالیسی کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جس کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو ایک لاکھ 95 ہزار روپے ، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو ایک لاکھ 75 ہزار ، سینئر سول ججز کو ایک لاکھ 50 ہزار جبکہ سول ججز کو ایک لاکھ روپے ماہانہ الا ئونس دیا جائے گا۔پالیسی کے تحت جوڈیشل افسروں کو زیر استعمال سرکاری گاڑیاں، ٹویوٹا فارچیونر کے علاوہ، تخفیف شدہ قیمت پر خریدنے کا پہلا اختیار دیا جائے گا،جو گاڑیاں افسران نہیں خریدیں گے ، وہ صوبائی حکومت کے متعلقہ انتظامی محکمے کے حوالے کر دی جائیں گی گاڑیوں کی قیمت میں پہلے سال 15 فیصد جبکہ اس کے بعد ہر سال 10 فیصد تخفیف کی جائے گی، تاہم گاڑی کی قیمت اس کی اصل قدر کے 55 فیصد سے کم نہیں ہوگی۔
گاڑی خریدنے کی صورت میں ماہانہ 50 ہزار روپے قسط کی مد میں تنخواہ سے کٹوتی کی جائے گی جبکہ باقی رقم ریٹائرمنٹ کی عمر سے پہلے وصول کی جائے گی۔پالیسی کے تحت جو افسران اپنے ڈرائیورز برقرار رکھنا چاہیں گے ، ان کی تنخواہ سے ماہانہ 30 ہزار روپے لازمی کٹوتی ہوگی۔ بصورت دیگر ڈرائیورز کی اسامیاں ڈسٹرکٹ جوڈیشری کی سٹرینتھ سے ختم کرکے انہیں سرپلس پول میں بھیج دیا جائے گا۔نئی پالیسی کے تحت الاؤنس کے ذریعے خریدی جانے والی گاڑیوں پر سبز نمبر پلیٹس استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی اگر ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل چھ ماہ تک اوسطاً 20 فیصد اضافہ ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹ الاؤنس میں بھی اضافہ کیا جائے گا، جبکہ وفاقی حکومت سے مالیاتی منتقلی میں غیر معمولی کمی اور مالی بحران کی صورت میں صوبائی کابینہ کی منظوری سے الاؤنس میں کمی بھی کی جاسکے گی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments