حکومت کے غیر معمولی انتظامات ،لانگ مارچ کا ماحول نہ بن سکا
لانگ مارچ ملتوی کرنے کی شرط پر بانی کی ہسپتال منتقلی ،ملاقاتوں کے اشارے
(تجزیہ:سلمان غنی)
پی ٹی آئی کی جانب سے 27ستمبر کے لانگ مارچ کو مؤخر کرنے کی وجہ راستوں کی بندش اور خصوصاً وفاقی دارالحکومت میں فول پروف اقدامات کو قرار دیا جا رہا ہے ۔مذکورہ مارچ کو مؤخر کرنے کے حوالہ سے جس سیاسی کمیٹی کے اجلاس کا ذکر ہو رہا ہے اس کے بارے میں یہ کہا جا رہا ہے کہ وہاں موجود رہنماؤں میں لانگ مارچ پر اختلافات تھے اور کمیٹی کے اراکین کی اکثریت کی رائے یہ تھی کہ اگر ہمارا لانگ مارچ ناکام ہوا تو ہمیں اس کا بڑا نقصان ہوگا ،اس کی تاریخ کو آگے لے جایا جائے ۔اس امر کا تجزیہ ضروری ہے کہ احتجاج مؤخر کرنے کی خبروں کا کیا جواز ہے اور احتجاج مؤخر کرنے کے عمل سے پی ٹی آئی اور اپوزیشن کو فائدہ ہوگا یا نقصان ،اور یہ کہ پس پردہ کوئی مذاکراتی عمل ہے یا اپوزیشن کا مشاورتی عمل ،اور یہ کہ احتجاجی عمل کو مؤخر کرنے کے بعد کیا پھر سے احتجاج یا لانگ مارچ ممکن بن پائے گا؟جہاں تک لانگ مارچ مؤخر کرنے کی وجوہات کا سوال ہے تو اس کی بنیادی وجہ تو حکومت اور ریاست کے سخت ترین اقدامات ہیں جن میں لانگ مارچ ممکن نہیں تھا ۔
بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنوں کے ساتھ پی ٹی آئی کے سرگرم کارکنوں اور اراکین کو گرفتار اور نظر بند کیا گیا ،ان غیر معمولی اقدامات کے باعث احتجاجی ماحول نہ بن پایا ، لانگ مارچ میں ایک روز رہ گیا لیکن کوئی تیاریاں نظر نہیں آ رہی تھیں، اس مرحلہ پر تو حکومتی حکمت عملی کامیاب رہی، لیکن بڑا سوال یہ ہوگا کہ کیا یہ سلسلہ اب 4اکتوبر تک چل سکے گا،5اکتوبر کو بانی پی ٹی آئی کی سالگرہ ہے ہو سکتا ہے کہ اعلان کیا جائے کہ ہم ان کی سالگرہ کا کیک اسلام آباد جا کر کاٹیں گے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک دفعہ جب احتجاجی عمل کا سلسلہ ٹوٹ جائے تو پھر بنانا مشکل ہوتا ہے ۔ پی ٹی آئی کا اعتدال پسند گروپ حکومت سے مذاکرات کے آپشن کی بات کرتا نظر آ رہا ہے لیکن فی الحال حکومت سے مذاکراتی عمل ممکن نظر نہیں آ رہا۔ اس طرح کے اشارے ضرور دئیے جا رہے تھے کہ اگر لانگ مارچ ملتوی ہوجائے تو بات چیت ہو سکتی ہے ۔ بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال منتقل اور ان کے عزیزوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ بحال کیا جاسکتا ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments