کنٹینر ستان :اسلام آباد نیم لاک ڈاؤن کی کیفیت میں کب تک رہیگا ؟
کنٹینر دنیا میں تجارت مگر پاکستان میں افراتفری کی علامت :نیویارک ٹائمز کوئی بھی پنجاب یا اسلام آباد سے سامان لانے کو تیار نہیں:ٹرک مالکان تنظیم
اسلام آباد(مانیٹرنگ نیوز )امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کو اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج سے قبل 1500 سے زائد شپنگ کنٹینروں سے بند کر دیا گیا ہے ، جس کے باعث شہر کی بیشتر اہم شاہراہیں اور داخلی و خارجی راستے متاثر ہوئے ہیں۔اخبار کے مطابق سڑکوں پر کنٹینروں کی دو قطاریں وزیراعظم ہاؤس اور پارلیمنٹ کی جانب جانے والی شاہراہوں تک پھیلی ہوئی ہیں، جبکہ بعض مقامات پر کنٹینروں کو ایک دوسرے کے اوپر رکھ کر ویلڈ بھی کیا گیا ہے تاکہ مظاہرین انہیں ہٹا یا عبور نہ کر سکیں۔ پی ٹی آئی نے جمعے کو اعلان کیا کہ اتوار کو ہونے والا مارچ 4 اکتوبر تک مؤخر کر دیا گیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اس دوران یا تو حکومت سڑکیں کھول دے گی یا پھر کنٹینروں کی مسلسل موجودگی عوام میں حکومت کے خلاف مزید غصے کا باعث بنے گی۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق حکومت نے ابھی یہ نہیں بتایا کہ اسلام آباد کو نیم لاک ڈاؤن کی اس کیفیت میں کب تک رکھا جائے گا۔ تاہم شہر میں بڑی تعداد میں کنٹینروں کی موجودگی حکومت کی جانب سے احتجاج روکنے اور پی ٹی آئی کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کی نمایاں علامت بن گئی ہے ۔حکومت نے ماہِ رواں کے اختتام تک احتجاج کو غیر قانونی قرار دے رکھا ہے ، جبکہ ہزاروں اضافی سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ بڑے پیمانے پر جانی نقصان کے پیش نظر ہسپتالوں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی۔ اخبار کے مطابق کنٹینروں کا استعمال اس قدر معمول بن چکا ہے کہ اسلام آباد کے ایک جج نے 2024 میں دارالحکومت کو ’’کنٹینروں کا شہر‘‘ قرار دیا تھا، جبکہ شہری اسے بعض اوقات ’’کنٹینرستان‘‘ بھی کہتے ہیں۔
اسلام آباد میں مقیم شہری منصوبہ بندی کے ماہر معاشیات نوید افتخار نے نیویارک ٹائمز سے گفتگو میں کہا کہ کنٹینر دنیا بھر میں تجارت اور ترقی کی علامت ہیں، لیکن پاکستان میں یہ افراتفری اور پابندیوں کی علامت بن چکے ہیں۔اخبار کے مطابق پولیس نے کچھ کنٹینر مال بردار کمپنیوں سے کرائے پر حاصل کیے ہیں، جبکہ کچھ ایسے ٹرک ڈرائیوروں سے بھی قبضے میں لیے گئے جو اپنا سامان لے کر جا رہے تھے ۔ٹرک ڈرائیور زبیر نیازی نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ وہ لاہور جا رہے تھے ، جہاں سے دودھ لے کر اسلام آباد پہنچانا تھا، لیکن پولیس نے اسے روک کر کنٹینر حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔ پولیس اہلکاروں نے کہا تھا کہ کنٹینر واپس کرنے کے وقت انہیں فون کیا جائے گا، تاہم نہ کوئی تاریخ دی گئی اور نہ مالی معاوضہ۔ٹرک مالکان کی نمائندہ تنظیم کے صدر ملک شیر خان نے اخبار کو بتایا کہ کنٹینروں کی من مانی ضبطی سے ملک بھر میں مال برداری کا شعبہ متاثر ہوا ہے ۔ان کے بقول کوئی بھی پنجاب میں داخل ہونے یا اسلام آباد میں سامان لانے کیلئے تیار نہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments