مچلکے ضبط کرنے سے قبل ضامن کو شوکاز دینا لازم:ہائیکورٹ

 مچلکے ضبط کرنے سے قبل ضامن کو شوکاز دینا لازم:ہائیکورٹ

وضاحت کا موقع دئیے بغیر مچلکے ضبط کرنا منصفانہ ٹرائل کے منافی :دو رکنی بینچ ضمانت کا مقصد سزا دینا یا قید کرنا نہیں :عدالت،چوری کے ملزم کی ضمانت منظور

لاہور(کورٹ رپورٹر)چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مس عالیہ نیلم اور جسٹس محمد امجد پرویز نے ضمانتی مچلکے ضبط کرنے سے متعلق اہم قانونی اصول طے کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 514 کے تحت ضمانتی رقم ضبط کرنے سے پہلے ضامن کو شوکاز نوٹس جاری کرنا اور وضاحت کا مکمل موقع دینا ضروری ہے ۔ عدالت نے احتساب عدالت کی جانب سے ضامن کے ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے ضبط کرنے کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی زیر سربراہی 2 رکنی بینچ نے محمد اختر کی درخواست پر 5 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ درخواست گزار نے احتساب عدالت کے 30 نومبر 2022 کے حکم کو چیلنج کیا تھا جس کے تحت ملزم ذاکر حسین کی عدم حاضری پر اس کے ضامن کے ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔عدالت نے فیصلے میں مزید قرار دیا کہ ضامن کو صرف عدالت میں حاضری کا نوٹس جاری کرکے اس کی ضمانتی رقم ضبط نہیں کی جا سکتی۔

وضاحت کا موقع فراہم کئے بغیر مچلکے ضبط کرنا منصفانہ ٹرائل اور بنیادی حقوق کے تقاضوں کے منافی ہے ،مچلکے ضبط کرنے سے قبل ضامن کو باقاعدہ شوکاز نوٹس جاری کرکے اس کا جواب سننا ضروری ہے ،ٹرائل کورٹ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 514 کے تحت دوبارہ کارروائی کر سکتی ہے ۔دریں اثناء جسٹس امجد پرویز نے بچھڑا چوری کے ایک مقدمہ کے ملزم کی قبل از گرفتاری ضمانت منظور کرلی ،ملزم احسان اللہ کے خلاف تھانہ موچیوالہ ضلع جھنگ میں بچھڑا چوری کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔جسٹس امجد پرویز نے ملزم کی درخواست پر پانچ صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ضمانت کا مقصد ملزم کو سزا دینا یا احتیاطی طور پر قید کرنا نہیں بلکہ ٹرائل کے دوران اس کی حاضری یقینی بنانا ہے ،اگر ملزم یا اس کی جانب سے کوئی شخص ٹرائل میں تاخیر کرے تو ریاست یا مدعی ضمانت منسوخی کی درخواست دائر کرسکتے ہیں۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...