ریونیوریکارڈ محض غلطی قراردیکر بدل نہیں سکتے :آئینی عدالت
طے کرنا ضروری تھا 44سال بعد اندراج میں تبدیلی سیٹلمنٹ کا نتیجہ یا محض غلطی اختیار محدود، سیٹلمنٹ کھولنے یا متنازع ملکیتی حقوق کے فیصلے کیلئے استعمال نہیں ہو سکتا لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم، بورڈ آف ریونیو پنجاب کے ممبر جوڈیشل کا حکم بحال:فیصلہ
اسلام آباد (اے پی پی)وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ ریونیو ریکارڈ میں طویل عرصے سے برقرار اندراج کو محض کلیریکل یا حسابی غلطی قرار دے کر مختصر کارروائی کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جا سکتا جبکہ ملکیت یا قبضے کے متنازع حقوق کا فیصلہ مجاز سول عدالت یا متعلقہ فورم پر شواہد اور فریقین کو سماعت کا موقع دے کر کیا جانا ضروری ہے ۔ جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ پر مشتمل تین رکنی بینچ نے اشرف رانا و دیگر کی ایف سی پی ایل اے نمبر 423/2025 پر فیصلہ سناتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کا 13 اکتوبر 2025 کا فیصلہ کالعدم قرار دیا اور بورڈ آف ریونیو پنجاب کے ممبر جوڈیشل-VII کا 15 مارچ 2018 کا حکم بحال کر دیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ متنازع 15 مرلہ اراضی کا ریکارڈ 1971-72 کی سیٹلمنٹ کے دوران تبدیل ہوا اور تقریباً 44 سال تک برقرار رہا، ایسی صورت میں یہ طے کرنا ضروری تھا کہ تبدیلی باقاعدہ سیٹلمنٹ کا نتیجہ تھی یا محض غلطی، جس کیلئے باقاعدہ تحقیقات درکار تھیں۔ پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کی دفعہ 166 کے تحت اختیار محدود نوعیت کا ہے ، اس کے ذریعے صرف کلیریکل غلطیوں کی اصلاح ہو سکتی ہے ، یہ حتمی سیٹلمنٹ کارروائی دوبارہ کھولنے یا متنازع حقوق کا فیصلہ کرنے کیلئے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments