عالمی معیشت کیلئے مہنگی توانائی،قرضے بڑے چیلنجز:آئی ایم ایف
قرضوں پر سود کی ادائیگی کے اخراجات حکومتوں کے مالی وسائل پر دباؤڈال رہے ہیں قابل اعتماد درمیانی مدت کی مالیاتی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت :کرسٹالینا جارجیوا
اسلام آباد (اے پی پی)بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے کہا ہے کہ عالمی معیشت کو مصنوعی ذہانت کے تیزی سے فروغ، توانائی کی بلند قیمتوں اور ریکارڈ عوامی قرضوں کے تین بڑے چیلنجز کا سامنا ہے ، جن سے نمٹنے کیلئے فوری اور جامع پالیسی اقدامات ضروری ہیں۔ سنگاپور میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کا موثر استعمال طویل مدت میں عالمی اقتصادی ترقی کی سالانہ شرح میں نصف فیصد تک اضافہ کر سکتا ہے ، تاہم اس کے فوائد سے تمام ممالک کو مستفید کرنے کیلئے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے ، ہنرمند افرادی قوت اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تیل کی قیمتیں تقریباً 100 ڈالر فی بیرل رہنے ، ایل این جی کی ترسیل میں رکاوٹوں اور توانائی و خوراک کی مہنگائی سے عالمی اقتصادی ترقی متاثر ہو رہی ہے ، جبکہ عالمی سرکاری قرضہ جلد مجموعی عالمی پیداوار (جی ڈی پی) کے 100 فیصد سے تجاوز کر سکتا ہے ۔ آئی ایم ایف کی سربراہ نے کہا کہ بلند شرح سود اور قرضوں پر سود کی ادائیگی کے بڑھتے اخراجات حکومتوں کے مالی وسائل پر دباؤڈال رہے ہیں۔ اس صورتحال میں مالیاتی خسارے کم کرنے ، زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط بنانے اور قابل اعتماد درمیانی مدت کی مالیاتی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومتیں غیر ضروری ضابطوں کا خاتمہ، ٹیکس نظام میں بہتری، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے ذریعے اقتصادی ترقی اور مالیاتی استحکام کو یقینی بنائیں۔ ان کے مطابق صرف اقتصادی ترقی سے قرضوں کا مسئلہ حل نہیں ہو سکتا، اس کے لیے مؤثر مالیاتی اقدامات بھی ضروری ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments