گورنر راج کیخلاف ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے:بیرسٹر گوہر :عدالتوں میں جائینگے :سلمان اکرم
11 اکتوبر سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائیگا:چیئرمین پی ٹی آئی ،اس اقدام کو چیلنج کرنا ہمارا حق ہے :سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی عمران سے ملوا دیں، لکھ کر دیتے ہیں باہر کچھ نہیں بتا ئینگے :اچکزئی ،ہمارا واسطہ آئین شکنوں سے پڑ گیا ہے :راجہ ناصر عباس
اسلام آباد(این این آئی،آئی این پی ،مانیٹرنگ ڈیسک)چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ گورنر راج کیخلاف ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے ، پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 11 اکتوبر جمہوری تاریخ میں سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا، وزیر اعلیٰ کو حراست میں رکھا گیا، خیبرپختونخوا کے عوام ایمرجنسی اور گورنر راج کو مسترد کرتے ہیں، پی ٹی آئی کے نظرئیے کے حامی جیل میں ہیں، ہماری پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوگا جس میں اگلا لائحہ عمل طے کریں گے ، انہوں نے کہا ہم مطالبہ کرتے ہیں گیارہ اکتوبر کے اقدامات کو واپس لیں، پاکستان کا مقدر جمہوریت ہے ، وفاق تب مضبوط ہوگا جب صوبے مضبوط ہونگے ۔ پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے خلاف عدالتوں میں جائیں گے ، اس اقدام کو عدالتوں میں چیلنج کرنا ہماراحق ہے ، ایک دن کے اندر عدالت سے رجوع کریں گے ، کے پی کے میں اب تک ہمارے سینکڑوں ورکرز کو گرفتار کیا جاچکا ہے ۔
سلمان اکرم نے کہا مولانا فضل الرحمن اور وزیراعظم کے درمیان تمام معاملات طے پاگئے تھے ، وزیر اعظم نے مولانا سے معاملات طے ہونے کے بعد یہ اقدام اٹھایا اور فضل الرحمن کو فون کر کے آگاہ کیا ۔قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہم جمہوری پاکستان کیلئے ہر طرح کے مذاکرات کیلئے تیار ہیں، ہمیں عمران خان سے ملاقات کی اجازت دیں، ہم لکھ کر دیتے ہیں باہر آ کر کچھ نہیں بتائیں گے ، انہوں نے کہا مجھے کہتے ہیں محمود خان نہیں ملنا چاہتا، میں ملنا چاہتا ہوں اور ہر جگہ مل لوں گا مگر وزیر اعظم ہائوس اور سپیکر آفس میں نہیں ملوں گا،انہوں نے کہا کہ جن بنیادوں پر کے پی میں گورنر راج لگایا اس سے زیادہ برے حالات بلوچستان میں ہیں۔
سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا متفقہ آئین کو متنازعہ بنایا جارہا ہے ، سیاسی کارکنوں کو دہشت گردوں سے تشبیہ دے رہے ہیں، متفقہ آئین کو متنازعہ بنایا جارہا ہے ، ہمارا آئین شکنوں سے واسطہ پڑ گیا ہے ، انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں حالات زیادہ خراب ہیں وہاں ایمرجنسی لگائیں۔ دریں اثنا خیبرپختونخوا کی معزول کابینہ کا اجلاس سینئر نائب صدر سینیٹر نور الحق کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں حکومت کے خاتمے ، گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کوغیر جمہوری اقدامات قرار دیا گیا اور سہیل آفریدی، صوبائی صدر جنید اکبر خان،سپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی، خالد خور شید و پارٹی قائدین کی گرفتاریوں کی مذمت کی گئی،اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ لانگ مارچ سے خوفزدہ عناصر نے دہشت گردی کے مسئلے کو جواز بنا کر عوامی مینڈیٹ پر حملہ کیا، وفاقی حکومت کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف صوبہ بھر میں پرامن احتجاج جاری رہیں گے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments