ARDC کامقصد12اضلاع میں امن وامان، ترقی اورمسائل کاحل

ARDC کامقصد12اضلاع میں امن وامان، ترقی اورمسائل کاحل

دہشتگردی ،غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کیلئے کونسل اپنی سفارشات بھی پیش کریگی

اسلام آباد(دنیا رپورٹ)علاقائی نمائندہ و ترقیاتی کونسل (ARDC) کا بنیادی مقصد 12 شورش زدہ اضلاع کے عوام کی نمائندگی، مقامی مسائل کی نشاندہی اور ترقیاتی ضروریات کو وفاقی حکومت کی نگرانی میں حل کرنا ہے ، اس نمائندہ کونسل کو چلانے کے لیے علاقہ نمائندہ سیکرٹریٹ (ADS) بھی قائم کیا جا چکا ہے جس کے پہلے ایڈمنسٹریٹر یحییٰ اخونزادہ ہیں ۔ یہ ایڈمنسٹریٹر اس سیکرٹریٹ کو چلانے کے لئے با اختیار فیصلہ ساز ہونگے جن کو ان شورش زدہ علاقوں میں امن و عامہ قائم کرنے ، ترقیاتی منصوبے چلانے اور بروقت فیصلے کرنے کے لئے مکمل آپریشنل اور انتظامی اختیارات سونپے گئے ہیں تاکہ امن و عامہ، سکیورٹی، دہشت گردی اور انتظامی معاملات کو کونسل کی مشاورت کے ساتھ موثر اور بروقت انداز میں چلایا جا سکے ۔ یہ سیکرٹریٹ وفاقی حکومت کی زیر نگرانی اور صوبائی حکومت کے ساتھ ملکر شورش زدہ بارہ اضلاع میں سکیورٹی، امن و عامہ، ڈویلپمنٹ، انتظامی امور، سکیورٹی فورسز ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ملکر اور علاقہ نمائندہ ترقیاتی کونسل کی مکمل مشاورت کے ساتھ فیصلہ سازی کرے گا ۔ کونسل کے ارکان متعلقہ علاقوں اور اضلاع کی آبادی، رقَبہ اور قبیلہ نمائندگی کی بنیاد پر نامزد کیے جائیں گے ، اور وفاقی حکومت ان کی تقرری کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دے گی۔

کونسل کے ارکان کا تقرر ایمرجنسی کے نفاذ کی مدت یا وفاقی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ مدت کے لیے ہوگا ۔ کونسل اپنے ارکان میں سے چیئرمین، وائس چیئرمین کا بھی انتخاب کرے گی، جو کونسل کی قیادت، رابطہ کاری اور مؤثر ابلاغ کو یقینی بنائیں گے ، کونسل کا اجلاس ہر پندرہ روز بعد منعقد ہوگا، جبکہ ضرورت پڑنے پر ARDC کی جانب سے کسی بھی وقت اجلاس طلب کیا جا سکے گا ۔ کونسل کے ارکان متعلقہ اضلاع کی ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹیوں کا بھی حصہ ہوں گے ، کونسل مقامی ضروریات اور عوامی مطالبات کی بنیاد پر منتخب 12 اضلاع میں سماجی و معاشی ترقی کے لیے درکار منصوبوں کی نشاندہی کرکے ARDC کے ذریعے وفاقی حکومت کو سفارشات پیش کرے گی ۔ کونسل مقامی امن و امان کی صورتِ حال کا جائزہ لے گی اور اس میں بہتری کے لیے قابلِ عمل اقدامات تجویز کرے گی ۔ دہشت گردی کے خاتمے اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو درکار تعاون اور سہولت کاری کے حوالے سے بھی کونسل اپنی سفارشات پیش کرے گی۔ اس انتظام کا اہم پہلو یہ ہے کہ متعلقہ علاقوں کے نمائندوں کو مقامی مسائل کے حل، ترقیاتی ترجیحات کے تعین اور عوامی ضروریات کی نشاندہی کے عمل میں براہِ راست شامل کیا جائے گا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...