اسلام میں نکاح کیلئے عورت کی آزادانہ رضامندی بنیادی شرط : سپریم کورٹ

 اسلام میں نکاح کیلئے عورت کی آزادانہ رضامندی بنیادی شرط : سپریم کورٹ

عورت کوئی شے یا مال نہیں جسے زبردستی حاصل کیا جا سکے ،غاگ، سوارہ اور وٹہ سٹہ جیسی فرسودہ رسومات قابل مذمت عمر قیداورسزائے موت کاقیدی ایک کیٹیگری میں نہیں :شادی سے انکارپرلڑکی قتل کرنیوالے مجرم کی سزائے موت برقرار

 اسلام آباد (کورٹ رپورٹر)سپریم کورٹ نے غاگ، سوارہ اور وٹہ سٹہ جیسی مردانہ بالادستی کی تمام فرسودہ رسومات کو مسترد کرتے ہوئے شادی سے انکار پر لڑکی کو قتل کرنے والے مجرم محمد کامران کی نظرثانی درخواست مسترد کر دی اور سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا، سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ شادی کوئی زبردستی کا معاہدہ نہیں بلکہ دونوں فریقین کی آزادانہ رضامندی پر مبنی ہوتی ہے ، عورت کوئی شے یا مال نہیں جسے  زبردستی حاصل کیا جا سکے ۔ جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے 9 صفحات پر مشتمل فیصلے میں غاگ، سوارہ یا ونی اور وٹہ سٹہ جیسی فرسودہ اور جابرانہ رسومات کی شدید مذمت کرتے ہوئے قرار دیا کہ مرد کی جانب سے عورت پر زبردستی حق جتانے کی یہ فرسودہ سوچ کسی مخصوص علاقے یا سرحد تک محدود نہیں۔ فیصلے کے مطابق زندگی کی امید کا فائدہ حاصل کرنے کے لیے تین شرائط کا پورا ہونا لازمی ہے ، قیدی کم از کم 25 سال قید کاٹ چکا ہو، خاص عذر موجود ہو یا جرم انتہائی سنگین نوعیت کا نہ ہو، عمر قید اور سزائے موت کے قیدی کو قانونی طور پر ایک ہی کیٹیگری میں نہیں رکھا جا سکتا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ درخواست گزار محمد کامران نے صرف 14 سال جیل میں گزارے ، اس لیے وہ زندگی کی امید کے اصول کا اہل نہیں، عدالت نے قرار دیا کہ زیرِ نظر مقدمے میں سزا میں نرمی کا کوئی جواز موجود نہیں بلکہ یہ ایک انتہائی گھناؤنے اور سنگین جرم کی واضح مثال ہے ۔سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا اسلام نکاح کے لیے عورت کی آزادانہ رضامندی کو بنیادی شرط قرار دیتا ہے ،کسی عورت کی جانب سے شادی سے انکار کو قتل کے جواز یا سزا میں تخفیف کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔فیصلے میں پختونخوا میں رائج غاگ، جرگوں کے ذریعے ہونے والی سوارہ یا ونی اور وٹہ سٹہ جیسی فرسودہ رسومات کی مذمت کرتے ہوئے جبری شادی کی دیگر روایات، بشمول آلا کاچو اور ٹیلیفا کا بھی حوالہ دیا گیا ہے ۔عدالت نے ماہرِ بشریات گیل روبن کے نظریے The Traffic in Women کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تاریخ میں صدیوں سے عورت کو مردوں کے درمیان تبادلے کی شے یا جنس کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے ۔ ایسے تصورات عورت کی آزادی، خودمختاری اور آزادانہ رضامندی کے اصولوں کے منافی ہیں۔ عدالت نے مجرم کی نظرثانی درخواست مسترد کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ دیا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...