قومی اسمبلی،سینیٹ:پختونخوا میں ایمرجنسی کے حق میں قرار دادیں منظور:گورنر راج اور ہنگامی حالت کی توثیق کیلئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آج طلب

قومی  اسمبلی،سینیٹ:پختونخوا  میں  ایمرجنسی  کے  حق  میں  قرار دادیں  منظور:گورنر  راج  اور  ہنگامی  حالت  کی  توثیق  کیلئے  پارلیمنٹ  کا  مشترکہ  اجلاس  آج  طلب

قرار داد طارق فضل نے پیش کی ،4گھنٹے سے زائد بحث،ایمرجنسی کا آپشن خوشدلی سے استعمال نہیں کیا:اعظم تارڑ، حالات بتاتے ہیں ایمرجنسی کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا:خواجہ آصف ایوان میں کرسیاں لگائیں،وزیر اعظم سے ابھی بات کرنے کیلئے تیارہوں:اچکزئی ، 11اکتوبر سیاہ ترین دن،جمہوریت پر شب خون مارا گیا:بیرسٹر گوہر،اپوزیشن کا احتجاج،نعرے ،واک آئوٹ

 اسلام آباد(اپنے رپورٹرسے ،نامہ نگار ،دنیا نیوز) قومی اسمبلی اور سینیٹ نے نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری دیدی ، دونو ں ایوانوں نے ایمرجنسی کے نفاذ کی قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی ۔گورنر راج اور ہنگامی حالت کی توثیق کیلئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آج طلب کرلیا گیا ۔پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس ایجنڈا جاری کردیا گیا جس کے مطابق اجلاس صبح 11 بجے ہوگا،وزیرپارلیمانی امور طارق فضل چودھری ایمرجنسی کا حکمنامہ ایوان میں رکھیں گے ، آئین کے آرٹیکل 232کی شق 7کے تحت ایمرجنسی کا حکمنامہ ایوان میں پیش کیا جائے گا،طارق فضل چودھری خیبرپختونخوا میں گورنر راج کا حکمنامہ بھی ایوان میں پیش کریں گے ، آئین کے آرٹیکل 234کی شق 3 کے تحت گورنرراج کا حکمنامہ پیش کیا جائے گا،مشترکہ اجلاس ایمرجنسی اور گورنرراج کے نفاذ کی توثیق کی قرارداد پر غور کرے گا۔قومی اسمبلی میں قرارداد پر حکومت اور اپوزیشن اراکین نے 4گھنٹے سے زائد بحث کی ،اس موقع پر اپوزیشن نے احتجاج کیا،نعرے لگائے اور اجلاس سے واک آوٹ کیا،چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کو تجویز پیش کی کہ اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کئے جائیں جبکہ گورنر راج کی توثیق کیلئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آج طلب کر لیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی صدارت اجلاس میں وقفہ سوالات معطل کرکے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر بحث کی گئی، ایمرجنسی کی منظوری کی قرارد اد وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے پیش کی ، ،وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑنے بحث کاآغاز کرتے ہوئے کہا کہ ایمرجنسی آئین کی ضرورت ہے ،یہ کہنا کہ ایمرجنسی لگاکر منتخب حکومت کو باہر پھینک دیا گیا یہ صیح نہیں ہے ، کابینہ نے سوچ بچار کے بعد کے پی میں گورنر راج کا فیصلہ کیا، انہوں نے کہاکہ مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی نے عمران خان کو سہولیات دینے ، ان سے ملاقات سمیت رہائی کے مطالبات رکھے ، معافی کا اختیار صرف صدر مملکت کے پاس ہے وہ بھی آج تک ایسے معاملات میں استعمال نہیں ہوا،ہم ماضی سے سبق سیکھتے ہیں،انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ جلتے ہوئے صوبے کو چھوڑ کر ملک کا دورہ کرتے رہے ، کابینہ نے تین گھنٹے کی مشاورت کے بعد کہا کہ صدر مملکت کو کہا جائے کہ وہ آئینی اختیارات استعمال کریں، یہ فیصلہ خوش دلی سے نہیں آخری آپشن کے طور پر استعمال کیا گیا، وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے جنرل (ر) فیض حمید اور سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ یہاں بیٹھے ہوتے تھے ، ہمیں قائل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ ان دہشت گردوں کو واپس لایا جائے تو فائدہ ہوگا ، اپنا کیس لڑتے ہوئے ماضی کے کرتوت بھی دیکھ لیا کریں، قول و فعل میں تضاد رہے گا تو یہ حالات ٹھیک نہیں ہونگے ،وزیر دفاع نے کہا کہ شادیوں میں میراثی اتنی تعریف نہیں کرتے جتنی بطور وزیر اعظم عمران خان سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کی کیا کرتے تھے ،انہوں نے کہا کہ آپ نے چیا سیڈ کی بات کی ہم تو چائے پراٹھا کھانے والے لوگ ہیں، جیل میں مجھے ایک کمبل دیا گیا۔

دوسرا کمبل مانگنے پر نہیں ملا، شہباز شریف نے پتہ چلنے پر کمبل مجھے بھیجا، خواجہ آصف نے کہا کہ ہم نے نواز شریف اور شہباز شریف کی رہائی کو کبھی ایشو نہیں بنایا، انہوں نے ایک شخص کی رہائی کو ایشو بنایا، ہمارا مسئلہ صرف دہشت گردی کا ہے ، انھوں نے کہا کہ ہم نے ڈی چوک میں آکر قبریں نہیں بنائیں، ہم نے ایوان میں آکر ماتم نہیں کیا، ہم نے قانون نافذ کر نے والے اہلکاروں کو شہید نہیں کیا، برسر اقتدار وزیر اعلیٰ افغانستان میں بیٹھے ایک شخص سے ڈکٹیشن لیتا تھا،مزید کہا کہ یہ ایک ایسی جنگ ہے جو سب کو متحد ہوکر لڑنا پڑے گی، کے پی میں مائنز اور ہیلتھ کے ٹھیکے کس کے پاس ہیں ، حالات بتاتے ہیں حکومت کے پاس ایمرجنسی کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا، ان آیات کے نیچے کھڑے ہوکر جھوٹ نہیں بولنا چاہئے ،وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بانی پی ٹی آئی کو سیاسی قیدی قرار دینے کی مخالفت کرتے ہوئے ان پر کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات عائد کئے اور پی ٹی آئی کو مشورہ دیا کہ وہ جیل میں اپنے قائد سے پوچھے کہ دوسروں کو کرپشن کے خلاف لیکچر دینے والے خود کن الزامات کا سامنا کر رہے ہیں،احسن اقبال نے مذاکرات کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے مذاکرات شروع کرنے کی بات کی گئی، لیکن اس سلسلے میں بھی دیر کردی گئی۔ انہوں نے منیر نیازی کے شعر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہر کام میں دیر کردیتے ہیں، اور یہاں بھی مذاکرات کی پیشکش کرنے میں دیر ہوگئی۔وفاقی وزیر نے الزام عائد کیا کہ بانی پی ٹی آئی نے صرف غبن ہی نہیں کیا بلکہ منی لانڈرنگ بھی کی، ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا کہ گورنر راج کا جو فیصلہ آپ نے کیا ہے وہ خوشدلی سے نہیں کیا گیا ، بیرسٹر گوہر کی تقریر سے محسوس ہوا کہ آپ غلط سائیڈ پر کھڑے ہیں۔فاروق ستار نے کہا کہ آپ کے پاس دلیل نہیں کہ جو فیصلہ کیا گیا وہ غلط ہے ، اب ذمے داری اٹھائی ہے تو پھر دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ ملکی تاریخ کا سب سے بڑا سٹریٹ کرائم کراچی میں ہو رہا ہے ، ہمارے بچے ٹینکرز اور گٹر کی نذر ہو رہے ہیں، خدا کے لیے کے پی کے ساتھ کراچی اور سندھ پر بھی نظر رکھیں۔

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگانے کے حوالے سے قرارداد پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کو اپوزیشن سے دوبارہ مذاکرات کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہاکہ پی ٹی آئی کو دعوت دیتا ہوں کہ بات چیت کا عمل شروع کرے ، کے پی کے حالات سے ثابت کریں تو میں خود وزیراعظم سے گزارش کروں گا کہ اب وہاں ایمرجنسی کی ضرورت نہیں ،بلاول نے کہاکہ آئین میں اس اقدام کی اجازت ہے لیکن میں اس معاملے پر بڑے بوجھل دل سے بات کر رہا ہوں ، انہوں نے آئین کا آرٹیکل 232 پڑھ کر سنایا اور کہا کہ آئین صدر مملکت کو ان حالات میں اس اقدام کی اجازت دیتا ہے ،حکومت نے اس اقدام سے پہلے ہر کوشش کی کہ یہ قدم نہ اٹھانا پڑے ،اپوزیشن کی ذمہ دارانہ قیادت جانتی ہے کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت نے خود ایک سیاسی خودکش حملہ کیا ہے یہ اب وفاقی حکومت اور صدر پر الزام لگا سکتی ہے مگر انہیں معلوم ہے کہ اس کا اصل ذمہ دار کون ہے ،صدر مملکت اگر اس سمری پر دستخط نہ کرتے تو انہیں وجہ بھی بتانی چاہیے تھی کہ ہم یہ اقدام کیوں نہ اٹھاتے ۔ انہوں نے کہا کہ جب یہ بات ہمارے سامنے آئی تو ہم نے فیصلہ کیا کہ ایمرجنسی لگانے سے پہلے پی ٹی آئی کو پورا موقع دینا چاہیے ،ہم یہ قدم نہیں اٹھانا چاہتے تھے ،انہوں نے کہاکہ رات دیر تک پی ٹی آئی رہنمائوں سے مذاکرات ہوتے رہے اور یہی اطلاعات تھیں کہ مذاکرات کامیاب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی اور صوبائی سطح پر دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے اپوزیشن آمادہ تھی، انہوں نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت کے لیے سیاسی گنجائش محدود ہوتی ہے اس کے ذمہ دار ہم سب ہیں مگر یہ بھی اس سے انکار نہیں کر سکتے ہم نے مشکل آئینی فیصلہ اس لیے لیا کیونکہ افغانستان کے ساتھ جنگ کی صورتحال ہے اور کے پی کے وزیراعلی ٰنے جلسہ عام میں کھڑا ہو کر لوگوں سے حلف لیا کہ دہشت گردی کا مقابلہ نہیں کروں گا ،یہ سیاسی خودکشی تھی،اپنی ہی حکومت پر خودکش حملہ تھا ، انہوں نے کہا کہ سیاسی مفاہمت کے لیے ایک کمیٹی قائم کی جائے ، اس کے 100 فیصد نتائج نہ بھی نکلے تو کچھ نہ کچھ بہتری ضرور آئے گی۔ انہوں نے تجویز دی کہ اب بھی وفاقی حکومت کوئی درمیانی راستہ اختیار کرے اور اپوزیشن سے بات چیت کرے ۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ ہمیشہ کے لئے ایمرجنسی جاری نہیں رکھی جا سکتی، اگر واقعی ہم نے خیبر سے خضدار تک دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہے تو پورے ملک کے عوام کو مل کر کرنا ہوگا، یہ صرف پولیس اور فوج کی ذمہ داری نہیں ، یہ صرف میرا ملک نہیں، اپوزیشن اور پی ٹی آئی کا بھی ہے ، بلاول نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت کے لیے سیاسی سپیس تنگ ہوتی ہے تو ہر سیاسی جماعت کی سپیس محدود ہوتی ہے ، اپوزیشن لیڈر محموداچکزئی نے کہا کہ جو کہتے ہیں ہم امن لائینگے ،انہوں نے 32سال حکومت کی، جنرل ایوب 10سال ،ضیاالحق11سال،پرویز مشرف 11سال رہے ، اس کے بعد پاکستان دہشت گردوں کا اڈا بنا، دہشت گردوں کو یہاں تربیت دی جاتی رہی،وزیر ستان میں آپ معدنیات پر قبضہ کر رہے ہیں، آپ لوگوں کو مار رہے ہیں لوگ آپ کو مار رہے ہیں، سیدھی بات کریں۔ انہوں نے کہاکہ یہاں ایوان کے اندر دو کرسیاں لگائیں وزیر اعظم کیساتھ بیٹھنے کو تیار ہوں، انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ آپ کی حکومت غیر آئینی غیر قانونی ہے ،آپ کا وزیر اعظم کسی اور کو جواب دہ ہے اور وہ کسی اور کو جواب دہ ہے ،پی ٹی آئی کا مطالبہ تھا کہ لیڈر سے ملنے دو، کسی قیدی سے ملاقات نہ کرانا بہت بڑا مجرمانہ فعل ہے ، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات پر آپ کی بات اٹک گئی تھی، محمود اچکز ئی نے کہاکہ وعدہ کرتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات میں جوبات ہوگی وہ کسی کو نہیں بتائیں گے ،پی ٹی آئی کے بیرسٹر گوہر نے کہاکہ 11 اکتوبر سیاہ ترین دن تھا ،ایک منتخب حکومت کو گھر بھیج دیا ،جن بارہ اضلاع میں جہاں ایمرجنسی ہے وہاں کے عوام ہمارے ساتھ ہیں، آپ نے ایک حکومت کو گھر بھیجا، آپ کے تمام نوٹیفکیشن مسترد کرتے ہیں، آپ نے جمہوریت پر شب خون مارا ہے ، آپ نے پورے پاکستان کو غیرفعال کر دیا، چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ دہشت گردی پاکستان میں کہیں بھی نہیں ہونی چاہیے ، دہشت گردوں کو کہیں بھی چھپنے کی جگہ نہیں ملنی چاہیے ،انہوں نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے ایون فیلڈ نہیں، شوکت خانم ہسپتال اور نمل یونیورسٹی بنائی، عوام کو آزادی دی، ہم اس کے لیے حق مانگ رہے تھے ،آپ نے ہمیں کہا لانگ مارچ آیا تو ہم آپ کا بندوبست کرینگے ، آپ نے پورے پاکستان کا بندوبست کردیا، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اجلاس کے دوران بیرسٹر گوہر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے دوران حکومتی اراکین میرے چیمبر جبکہ اپوزیشن اراکین ساتھ والے کمرے میں موجود تھے ، اس وقت امید تھی کہ جلد معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے اور معاملات بہتری کی جانب بڑھیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس میرے پاس آئے اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ آج کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا، انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات کا راستہ بند نہیں ہونا چاہیے بلکہ بات چیت کے جاری رہنی چاہیے ،سپیکر سردار ایاز صادق نے بتایا کہ بعدازاں اپوزیشن کی مذاکراتی کمیٹی کے اراکین وہاں سے چلے گئے ، تاہم بیرسٹر گوہر دوبارہ واپس آئے اور انہوں نے بھی اس مؤقف کا اظہار کیا کہ مذاکراتی عمل جاری رہنا چاہیے ، حکومتی مذاکراتی ٹیم کی بھی یہی رائے تھی کہ مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھایا جائے ،سپیکر نے کہا کہ آپ اس مینڈیٹ کے ساتھ آئے تھے کہ فیصلے خود کریں گے ، تاہم مشاورت کے بعد آپ اس کے پابند ہو کر رہ گئے تھے ، انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر کم سے کم بات کی جائے ، تاہم ایوان میں وہی بات کی جانی چاہیے جو درست ہو،ایاز صادق نے مذاکراتی عمل میں شریک حکومتی، اتحادی جماعتوں اور اپوزیشن کے اراکین کے مثبت، تعمیری اور ذمہ دارانہ کردار کی تعریف کی اور کہا کہ تمام اراکین نے باہمی احترام، تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے خوشگوار ماحول میں ایک دوسرے کا مؤقف سنا اور بات چیت کو مثبت انداز میں آگے بڑھایا جو انتہائی خوش آئند اور قابل ستائش ہے ، سپیکر نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ مستقبل میں جب بھی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکراتی عمل شروع ہو تو انہی اراکین پر مشتمل مذاکراتی ٹیم تشکیل دی جائے ،دریں اثنا ایوان بالا نے بھی خیبرپختونخوا میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کی قرارداد کی منظوری دیدی،سینیٹ کے اجلاس میں وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستورکے آرٹیکل 232 کی شق ایک کے دوسرے جملہ شرطیہ کے تحت 11 اکتوبر کو صدر مملکت کی جانب سے صوبہ خیبرپختونخوا میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کے اعلان کے حوالہ سے قرارداد ایوان میں پیش کی جس پر چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے ایوان کی رائے لی،بعدازاں ایوان نے قرارداد کی کثرت رائے سے منظوری دیدی،علاوہ ازیں صدرِ مملکت نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آج صبح 11 بجے طلب کر لیا ہے ،مشترکہ اجلاس میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کی منظوری حاصل کی جائے گی۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...