آڈیٹر جنرل نے دستی خط و کتابت ناقابل قبول قرار دیدی
روایتی سمریوں، مراسلوں کو قابل قبول نہیں سمجھا جا ئیگا ، ڈی جیز کو ہدایت سکین نقول ای آفس پر بھیجنا بھی وزیراعظم کے احکامات کی خلاف ورزی قرار
اسلام آباد (ایس ایم زمان) آڈیٹر جنرل پاکستان نے ملک بھر کے فیلڈ آڈٹ دفاتر کی جانب سے سرکاری امور ای آفس کے ذریعے انجام نہ دینے کا نوٹس لیتے ہوئے اسے وزیراعظم کے احکامات کی خلاف ورزی قرار دے دیا ہے۔ آڈیٹر جنرل پاکستان نے تمام آڈٹ دفاتر کو ہدایت کی ہے کہ تمام دفتری امور، سمریاں، مراسلے اور سرکاری خط و کتابت لازمی طور پر ای آفس کے ذریعے انجام دی جائے۔ آڈیٹر جنرل پاکستان کے احکامات کے مطابق مشاہدے میں آیا ہے کہ ملک بھر کے متعدد فیلڈ آڈٹ دفاتر اب بھی ای آفس کے بجائے روایتی اور دستی طریقہ کار کے تحت سرکاری امور انجام دے رہے ہیں اور مراسلے ارسال کر رہے ہیں۔
بعض دفاتر میں پہلے روایتی طریقے سے دفتری کارروائی مکمل کی جاتی ہے اور بعد ازاں اس کی سکین شدہ نقل ای آفس پر ارسال کی جاتی ہے ، جو وزیراعظم آفس کی جانب سے ای آفس کے نفاذ کے لئے کیے گئے اقدامات اور آڈیٹر جنرل پاکستان کی ہدایات کی خلاف ورزی ہے ۔آڈیٹر جنرل پاکستان نے اس غفلت اور ہدایات پر عمل درآمد نہ کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے تمام ڈائریکٹر جنرلز کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ آئندہ روایتی طریقے سے ارسال کی جانے والی سمریوں، مراسلوں اور سرکاری خط و کتابت کو ہرگز قابل قبول نہیں سمجھا جائے گا۔تمام متعلقہ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آئندہ تمام دفتری امور، خطوط، سمریاں اور مراسلے مقررہ طریقہ کار کے مطابق صرف ای آفس کے ذریعے ارسال کریں اور وزیراعظم کے احکامات پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments