خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے پر کسی بیرونی حکومت کے رابطے کا علم نہیں،،جو اقدام کیا وہ آئین وقانون کے مطابق ہے:سعودی عرب پر مسلسل حملے علاقائی امن کیلئے خطرہ :دفتر خارجہ
پاکستان سعودیہ کیساتھ دفاعی معاہدوں کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا،فوجی تعیناتی اور زمینی کارروائیوں سمیت عملی امور مسلح افواج، آئی ایس پی آر اور مکہ مشترکہ اتحاد کے جنرل سیکرٹریٹ کا دائرہ کار جارحیت کا جواب دینے کیلئے تیار،بھارت اشتعال انگیز بیانات ترک کرے ،افغانستان کیساتھ مذاکرات سے گریز نہیں کیا، افغان سرزمین سے دہشتگرد گروہوں کے خاتمے کیلئے اقدامات بنیادی شرط:بریفنگ
اسلام آباد (وقائع نگار،مانیٹرنگ ڈیسک) ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے کہا سعودی عرب پر مسلسل حملے علاقائی امن کیلئے خطرہ ہیں، خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے پر کسی بیرونی حکومت کے رابطے کا علم نہیں، جو اقدام کیا وہ آئین و قانون کے مطابق ہے ۔ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ترجمان نے کہا کہ ریاض ایئرپورٹ پر حملے میں ایک پاکستانی شہری جاں بحق جبکہ6پاکستانی زخمی ہوئے ہیں، زخمیوں کا ریاض کے مختلف مقامات پر علاج جاری ہے اور پاکستانی سفارتی مشن متاثرہ افراد اور پاکستان میں ان کے اہلخانہ سے رابطے میں ہے ۔ انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا شہری آبادی اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے ۔ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ دوطرفہ دفاعی معاہدے کا فریق ہے اور سہ فریقی انتظام بھی موجود ہے ۔ پاکستان ان معاہدوں کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا۔ مکہ اتحاد کے سیکرٹریٹ کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے اور سیکرٹری جنرل نامزد ہونے کے بعد اپنی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں۔اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت سعودی عرب کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اور پاکستان اس حق کی مکمل حمایت کرتا ہے ۔مکہ معاہدے کو عملی طور پر نافذ کرنے کی تاریخ سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان معاہدے کے ساتھ مکمل طور پر وابستہ ہے اور حکومت نے اس سلسلے میں ضروری اقدامات کیے ہیں۔
تاہم فوجی تعیناتی اور زمینی کارروائیوں سمیت عملی امور مسلح افواج، آئی ایس پی آر اور ریاض میں قائم ہونے والے مکہ مشترکہ اتحاد کے جنرل سیکرٹریٹ کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔ترجمان نے یمن کے تنازعے پر پاکستان کے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان یمن کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، وحدت اور آزادی کی حمایت کرتا ہے اور اس تنازعے کا حل مذاکرات اور سیاسی مفاہمت میں دیکھتا ہے ۔ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور پائیدار امن کیلئے حقیقی علاقائی و بین الاقوامی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔بھارتی وزیر دفاع کے پاکستان کے خلاف مبینہ جارحانہ اور اشتعال انگیز بیان پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا پاکستان کے تحمل اور امن کے عزم کو کمزوری نہ سمجھا جائے ۔ پاکستان کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کیلئے تیار ہے اور بھارت کو گزشتہ سال کے تجربے سے سبق سیکھ کر اشتعال انگیز بیانات اور جارحانہ طرز عمل ترک کرنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا پاکستان افغانستان کے ساتھ مذاکرات یا بات چیت سے گریز نہیں کر رہا، تاہم افغان طالبان حکام کو اپنی سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد گروہوں کے خاتمے کیلئے ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کرنا ہوں گے ۔پاکستان کا بنیادی مطالبہ ایک ایسا قابلِ تصدیق نظام قائم کرنا ہے جس کے ذریعے افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جا سکے ۔ اس شرط کے بغیر مذاکرات غیر مشروط نہیں ہوں گے ۔
پاکستان روس کے ساتھ افغانستان اور علاقائی سلامتی کے معاملات پر رابطے کو اہمیت دیتا ہے اور دوست ممالک کی سنجیدہ سفارتی کوششوں کا خیرمقدم کرے گا۔فی الحال روس کی جانب سے کسی علیحدہ اور باضابطہ ثالثی اقدام کے بارے میں علم نہیں، تاہم پاکستان تعمیری رابطوں کیلئے تیار ہے ، ایسی کوششیں بامقصد ہونی چاہئیں اور ان کے نتیجے میں عملی پیش رفت ہونی چاہیے ۔ ماسکو فارمیٹ کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہونا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ افغانستان دہشت گرد نیٹ ورکس کی موجودگی سے متعلق اس مؤقف کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوا جو گزشتہ سال تک زیر بحث تھا۔انہوں نے کہا پاکستان کو خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے اور متعدد خطرات کی جڑیں افغانستان میں ہیں۔ پاکستان نے اپنے بین الاقوامی اور دوطرفہ شراکت داروں کے ساتھ متعلقہ معلومات کا تبادلہ کیا ہے اور عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ صورت حال کی سنگینی کو تسلیم کرتے ہوئے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے مشترکہ اقدامات کرے ۔ترجمان نے کہا پاکستان فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور انہیں اپنے علاقوں میں واپس آنے سے روکنے کی کوششوں کو بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی اور فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کے منافی سمجھتا ہے ،عالمی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، کو غیر قانونی بے دخلیوں کو روکنے ، بے گھر فلسطینیوں کی واپسی کا حق یقینی بنانے اور قابض طاقت کو جواب دہ ٹھہرانے کیلئے اقدامات کرنا چاہئیں۔انہوں نے کہا پاکستان نے 18 دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ کولمبیا کی جانب سے یروشلم میں سفارت خانہ کھولنے کی مذمت کی ہے ۔
انہوں نے کہا اطلاعات ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کی بعض مساجد میں جمعے کے اجتماعات اور خطبات پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں اور مذہبی سرگرمیوں تک رسائی محدود کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کشمیری عوام کے حقوق کا احترام یقینی بنایا جائے اور بھارتی فورسز کو حاصل استثنیٰ ختم ہونا چاہیے ۔بھارت کے 5 اگست 2019 کے اقدامات غیر قانونی اور کالعدم ہیں اور ان سے جموں و کشمیر کی متنازعہ بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں ہو سکتی۔ تنازع کا حتمی فیصلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے ۔ترجمان نے بتایا کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے انٹرنیشنل فزیکل پروٹیکشن ایڈوائزری سروس مشن نے 9 اکتوبر کو پاکستان کا اپنا پہلا مشن کامیابی سے مکمل کیا۔مشن کے دوران جوہری سلامتی سے متعلق پاکستان کے قومی، قانونی اور ضابطہ جاتی نظام کا جائزہ لیا گیا۔ عالمی ایجنسی کی ٹیم نے جائزے کے دوران پاکستان کے تعاون، شفافیت اور پیشہ ورانہ طرز عمل کو سراہا۔ ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جوہری سلامتی کو مضبوط بنانے اور سماجی و اقتصادی ترقی کیلئے جوہری ٹیکنالوجی کے محفوظ، پرامن اور ذمہ دارانہ استعمال میں بین الاقوامی تعاون کے عزم کی عکاسی کرتی ہے ۔ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی اور پاکستان کے ممکنہ کردار سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ تمام ممالک کو خطے میں امن و استحکام کے فروغ کیلئے مل کر کام کرنا چاہیے ۔سمندری راستوں کی بندش سے نقل و حمل اور اشیائے ضروریہ کی فراہمی متاثر ہوتی ہے ، اس لیے ضروری ہے کہ ممالک مذاکرات کے ذریعے سفارتی حل تلاش کریں۔ایران کی جانب سے پاکستان کے ثالثی کردار پر مبینہ تنقیدی بیان سے متعلق سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ایران ایک برادر ملک ہے اور ایرانی قیادت پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو عملی شکل دینے کی کوششوں کو سراہ چکی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کیلئے اپنا کردار جاری رکھے گا۔ ان کے مطابق جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، امن مذاکرات اور تنازعات کے پُرامن تصفیے سے ہی بحال ہو سکتا ہے ۔ایران کی وزارت دفاع کیلئے مبینہ طور پر ہتھیاروں کی خریداری میں معاونت کے الزامات کے تحت پاکستانی کاروباری شخصیت وسیم پاشا تجمل اور ان کی تین کمپنیوں پر امریکا کی جانب سے عائد پابندیوں کے بارے میں ترجمان نے کہا کہ انہیں اس معاملے کی مزید تفصیلات کا علم نہیں،متعلقہ ملک اپنے قوانین کے مطابق کارروائی کرنے کا اختیار رکھتا ہے ۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کے معدنی ذخائر کی تخمینی مالیت تقریباً 7 ٹریلین ڈالر ہے اور حکومت ان وسائل کی تلاش، ترقی اور مؤثر استعمال کیلئے دنیا بھر سے سرمایہ کاری راغب کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔انہوں نے کہا خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے قیام کا مقصد سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنا ہے ۔ پاکستان کسی ایک ملک تک محدود نہیں بلکہ ہر اس ملک اور کمپنی کا خیرمقدم کرتا ہے جو پاکستان کے معدنی شعبے میں سرمایہ کاری کی صلاحیت اور خواہش رکھتا ہو۔پاکستان اور امریکا کے درمیان اس حوالے سے ہونے والی بات چیت کے بارے میں ترجمان نے کوئی مخصوص تفصیل فراہم نہیں کی، تاہم کہا کہ سرمایہ کاری کیلئے عالمی شراکت داروں کا خیرمقدم کیا جائے گا۔اقوام متحدہ کے نئے سیکرٹری جنرل کے انتخاب کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ یہ ایک حساس اور خفیہ سفارتی عمل ہے جس میں رکن ممالک امیدواروں کا جائزہ لیتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ تقریباً تمام 6 امیدوار پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں اور پاکستانی قیادت سے ملاقاتیں بھی کر چکے ہیں، تاہم داخلی طریقہ کار کے تحت پاکستان اپنے حتمی ووٹ کے بارے میں تفصیلات ظاہر نہیں کر سکتا۔پاکستانی شہری آصف مرچنٹ اور امریکا میں زیر حراست دیگر پاکستانیوں کے معاملے پر ترجمان نے کہا کہ انہیں ان افراد کی موجودہ صورت حال کے بارے میں معلومات نہیں ہیں۔
اسلام آباد (نامہ نگار، اے پی پی)وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے حوثی حملوں کی شدید مذمت کی ہے ۔ انہوں نے دفاعی و اقتصادی تعاون مزید بڑھانے اور دونوں ممالک کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر زور دیا ہے ۔ وزیراعظم سے سعودی عرب کے نو تعینات سفیر ڈاکٹر راجح بن طامی البقمی نے ملاقات کی۔ شہباز شریف نے سعودی سفیر کا پاکستان آمد پر خیرمقدم کیا اور نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے ، دوطرفہ تعاون مزید گہرا اور وسیع کرنے کیلئے موجودہ ادارہ جاتی نظام کو مضبوط بنایا جا رہا ہے ۔وزیراعظم نے سعودی عرب پر حوثی حملوں میں اضافے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں میں قیمتی جانیں ضائع اور پاکستانی شہریوں سمیت متعدد بے گناہ افراد زخمی ہوئے ۔ پاکستان اور سعودی عرب ہمیشہ ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں۔ تزویراتی باہمی دفاعی معاہدہ اور مکہ مشترکہ دفاعی اتحاد دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات میں تاریخی سنگ میل ہیں اور علاقائی امن و سلامتی کیلئے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کیلئے اس کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ انہوں نے پاکستان کیلئے طویل عرصے سے اقتصادی و مالی معاونت پر سعودی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے سفیر کو یقین دلایا کہ دوطرفہ تعلقات کے استحکام کیلئے پاکستان کا تعاون جاری رہے گا۔دریں اثنا وزیراعظم نے غربت کے خاتمے کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان غربت کے خاتمے ، عدم مساوات میں کمی اور ترقی کے مساوی مواقع کی فراہمی کیلئے قومی و عالمی سطح پر مشترکہ، مؤثر اور عملی اقدامات کے عزم کا اعادہ کرتا ہے ۔ ہر شہری کے سماجی و معاشی حقوق، عزت و وقار اور معاشی آسودگی کے مساوی مواقع بنیادی انسانی حقوق ہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ غربت کا خاتمہ معاشرتی تقسیم اور سماجی برائیوں کے خاتمے کا باعث بنتا ہے ۔ محفوظ اور باوقار رہائش شہری فلاح و بہبود کیلئے بنیادی حیثیت رکھتی ہے ، حکومت ’’اپنا گھر‘‘سکیم کے تحت قابل استطاعت گھروں کی تعمیر و خریداری کیلئے مالی معاونت تک رسائی بڑھا رہی ہے ۔ عوام کی سماجی و معاشی بہبود کیلئے اقدامات حکومت کی آئینی ذمہ داری ہیں، غربت کا خاتمہ ہم سب کی مشترکہ قومی ذمہ داری ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments