اپوزیشن نے مذاکرات کی پیشکش قبول کرلی،مطالبات حکومت کو پیش:مشترکہ جدوجہد اے پی سی کا اعلان

اپوزیشن  نے  مذاکرات  کی  پیشکش  قبول  کرلی،مطالبات  حکومت  کو  پیش:مشترکہ  جدوجہد  اے  پی  سی  کا  اعلان

آئین کی بالادستی، متنازعہ ترامیم کی واپسی، پارلیمنٹ کو طاقت کا سرچشمہ بنانا اور آزاد الیکشن کمیشن کا قیام مطالبات میں شامل جدوجہد پرامن ، کسی کو پتھر نہیں مارینگے :اچکزئی ، خود کو آئین کا خالق کہنے والے ہی آئین کی دھجیاں اڑا رہے :اختر مینگل

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک )خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے خلاف اپوزیشن جماعتوں نے مشترکہ جدوجہد کا اعلان کردیا،قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں، اپنے مطالبات حکومت کے سامنے رکھ د ئیے ہیں، ان میں آئین کی بالادستی، متنازعہ ترامیم کی واپسی، پارلیمنٹ کو طاقت کا حقیقی سرچشمہ بنانا اور شفاف انتخابات کے لیے آزاد الیکشن کمیشن کا قیام شامل ہے ، پشاور ہائیکورٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے تمام اپوزیشن جماعتوں سے رابطے کرنے اور آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلیاں چھوڑنے کا آپشن بھی موجود ہے ، ہم پرامن اور آئینی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں اور مذاکرات کے لیے بھی تیار ہیں، خیبر پختونخوا کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے آئے ہیں کیونکہ وفاقی حکومت نے صوبے کے چار کروڑ عوام کی منتخب حکومت ختم کر دی ہے ، اچکزئی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو معاہدے پر مجبور کیا جا رہا ہے ،ماضی میں بھی نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے ساتھ ایسا ہی طرز عمل اختیار کیا گیا ،آج مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی حکومت میں بھی وہی کچھ ہو رہا ہے ،انہوں نے سوال اٹھایا کہ خیبر پختونخوا کے منتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کہاں ہیں؟ ، انہوں نے کہا کہ صوبائی وزرا، ارکان اسمبلی اور کارکنوں کے غائب ہونے کے واقعات تشویش ناک ہیں،انہوں نے کہا کہ یہ وقت خاموش بیٹھنے کا نہیں بلکہ عوام کے حقوق اور آئینی تحفظ کے لیے کھڑے ہونے کا ہے ہم کسی کو پتھر نہیں ماریں گے اور نہ ہی تشدد کا راستہ اختیار کریں گے بلکہ پرامن جدوجہد کریں گے ۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ تمام اپوزیشن جماعتوں سے رابطے جاری ہیں اور آل پارٹیز کانفرنس میں سب کو دعوت دی جائے گی،محمود خان اچکزئی نے خیبر پختونخوا کے قدرتی وسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ معدنیات پر پہلا حق صوبے کے عوام کا ہے اور سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر وطن کے تحفظ اور عوام کے حقوق کے لیے سب کو متحد ہونا ہوگا۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل نے کہا کہ جو لوگ خود کو آئین کا خالق کہتے ہیں، وہی آئین کی دھجیاں اڑا رہے ہیں،خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرکے پورے صوبے پر دہشت گردی کا الزام عائد کیا جا رہا ہے حالانکہ بلوچستان میں بھی طویل عرصے سے دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، وہاں حالات بہتر ہونے کے بجائے پورا صوبہ بدامنی کی لپیٹ میں ہے ۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا ایسے اقدامات سے مسائل حل ہو سکتے ہیں؟ اختر مینگل نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا کے منتخب وزیراعلیٰ کو اٹھایا گیا ہے جبکہ سپیکر اور وزرا کے غائب ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں،فارم 47 کے ذریعے آنے والے ایوانوں میں بیٹھے ہیں اور ایسا نظام زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ملک میں لاقانونیت عروج پر ہے اور حکمرانوں سے نظام نہیں چل رہا تو انہوں نے ایک صوبے پر قبضہ کر لیا ہے ۔ ان کے بقول حکومتی وزرا بھی نظام کی ناکامی کا اعتراف کر چکے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مینڈیٹ چوری کرنے والے اعتراضات اور احتجاج کی آواز دبانا چاہتے ہیں، انہوں نے واضح کیا کہ حالات جیسے بھی ہوں، وہ اپنے مؤقف اور جدوجہد پر قائم رہیں گے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...