چھ ماہ میں پہلی بار تیل کی قیمتیں 110 ڈالر سے بھی اوپر، السیسی کا سعودی عرب کی مدد کا اعلان، مصر کی پارلیمان کا ہنگامی اجلاس طلب : سعودیہ پر حملے پاکستانی معیشت کیلئے تشویشناک : وزیر خزانہ

چھ ماہ میں پہلی بار تیل کی قیمتیں 110 ڈالر سے بھی اوپر، السیسی کا سعودی عرب کی مدد کا اعلان، مصر کی پارلیمان کا ہنگامی اجلاس طلب : سعودیہ پر حملے پاکستانی معیشت کیلئے تشویشناک : وزیر خزانہ

نومبر تک ضروری توانائی کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے انتظامات کرلیے ، موسم سرما کی ضروریات پوری کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی، ایل این جی کی اسپاٹ مارکیٹ سے خریداری نہیں کرینگے :اورنگزیب سعودی ساحل کے قریب ایک اور آئل ٹینکر پر حملہ،برطانیہ اور امریکا کی اپنے شہریوں کو سعودی عرب میں غیر ضروری سفرسے گریز کی ہدایت، دہشت گردی کے الزام میں 5افراد کے سر قلم

بینکاک (اے ایف پی)وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان نے ایران جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے اثرات کا اب تک کامیابی سے مقابلہ کیا ہے ، تاہم سعودی عرب اور خلیجی ممالک میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے ملک کے طویل مدتی معاشی منظرنامے کیلئے تشویش ناک ہیں۔آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر اے ایف پی کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان نے نومبر تک ضروری توانائی کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے مناسب انتظامات کرلیے ہیں اور اب موسم سرما کی ضروریات پوری کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے، جب گھریلو سطح پر توانائی کی طلب عموماً بڑھ جاتی ہے۔

محمد اورنگزیب کے مطابق پاکستان نے توانائی کے بحران کے ابتدائی اثرات سے مؤثر انداز میں نمٹا ہے ۔ ملک میں ایندھن کی قلت، پٹرول پمپوں پر قطاریں یا امن و امان کی صورت حال پیدا نہیں ہوئی، جیسا کہ بعض دوسرے ممالک میں دیکھا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت ہنگامی ضرورت پیش آنے کے سوا مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی اسپاٹ مارکیٹ سے خریداری نہیں کرے گی، کیونکہ اس طریقے سے حاصل ہونے والی گیس پہلے سے طے شدہ معاہدوں کے تحت خریدی جانے والی گیس کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہنگی پڑتی ہے ۔وزیر خزانہ نے کہا کہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جانا صورت حال کا سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو ہے۔ ان کے بقول اگر ان تنصیبات پر حملے جاری رہے تو جنگ کی شدت کم ہونے کے باوجود معمول کی معاشی سرگرمیوں کی بحالی میں زیادہ وقت لگے گا۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی مالیاتی استحکام اور اخراجات پر قابو پانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ برسوں میں ٹیکس وصولیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے ، تاہم حکومت ایسے کاروباری اداروں کے خلاف کارروائی کررہی ہے جو صارفین سے سیلز ٹیکس وصول کرنے کے باوجود اسے سرکاری خزانے میں جمع نہیں کراتے ۔وزیر خزانہ کے مطابق اس طریقے سے ٹیکس کی چوری کا حجم اربوں ڈالر ہے ، جبکہ انکم ٹیکس کی وصولیوں میں اضافے کیلئے بھی مزید اقدامات کی گنجائش موجود ہے ۔انہوں نے اعتراف کیا کہ حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کو صنعتوں، لابنگ گروپوں اور اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے سرگرم حلقوں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جب بھی نظام میں تبدیلی اور جمود توڑنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس کے خلاف مزاحمت سامنے آتی ہے ۔ محمد اورنگزیب نے کہا کہ فوج کے زیر انتظام تجارتی ادارے اپنے طور پر کام کررہے ہیں اور منافع بخش ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت ان اداروں کو قومی خزانے سے کوئی فنڈز فراہم نہیں کررہی۔

ریاض (نیوز ایجنسیاں )مئی کے بعد پہلی بار عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 110 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہیں۔ یہ اضافہ مشرقِ وسطٰی میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سپلائی سے متعلق خدشات کے باعث ہوا ہے ۔جمعے کو برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت 3.94 ڈالر اضافے کے بعد 109.86 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو 19 مئی کے بعد بلند ترین سطح ہے۔دوسری جانب امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت بھی 3.44 ڈالر بڑھ کر 101.41 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جو 17 ستمبر کے بعد کی بلند ترین سطح ہے ۔دوسری جانب برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے شمال مشرقی سعودی عرب کے ساحل کے قریب ایک اور آئل ٹینکر پر حملے کی اطلاع دی ہے۔

تنظیم کے مطابق جہاز کے کپتان نے رپورٹ کیا کہ جُبیل کے ساحل سے تقریباً 144 کلومیٹر دور ایک چھوٹی کشتی ٹینکر کے قریب آئی اور اس سے کندھے پر رکھ کر داغے جانے والے راکٹ (آر پی جی)سے فائر کیے گئے، حملے کے نتیجے میں جہاز کے بائیں عقبی حصے کو نقصان پہنچا۔علاو ہ ازیں مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے درخواست کیے جانے پر مصر اس کے دفاع کیلئے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔ ہفتے کو مصری ملٹری اکیڈمی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا یہ ناقابل قبول ہے کہ سعودی عرب، اس کی سلامتی یا استحکام کو نقصان پہنچنے دیا جائے۔

السیسی نے واضح کیا کہ مصر کسی پر حملہ کرنے یا جنگ شروع کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا بلکہ اس کا مقصد صرف دفاع کرنا ہے ،تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ اس مقصد کیلئے مصری پارلیمان کی منظوری ضروری ہے اور درخواست کی کہ پارلیمان کا ہنگامی اجلاس بلا کر انہیں اس کی اجازت دی جائے ، تاکہ سعودی عرب کی جانب سے مدد طلب کیے جانے پر کارروائی کی جاسکے ۔مصری پارلیمان نے اعلان کیا ہے کہ وہ صدر کی درخواست پر اتوار 18 اکتوبر کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے اجلاس منعقد کرے گی، تاہم اجلاس کا ایجنڈا ظاہر نہیں کیا گیا ۔ عبدالفتاح السیسی نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ 2030میں اپنی موجودہ صدارتی مدت ختم ہونے کے بعد عہدے پر برقرار رہنے کی کوشش نہیں کریں گے ۔ انہوں نے کہا یہ فیصلہ حتمی ہے اور اس پر مزید کوئی بحث نہیں ہوگی۔

مزید براں حوثیوں کے حملوں کے بعد برطانیہ نے اپنے شہریوں کو سعودی عرب کے غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کر دی ۔سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے نے بھی سکیورٹی الرٹ جاری کرتے ہوئے امریکی شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ سعودی ہوائی اڈوں پر حملوں کے پیشِ نظر، سعودی عرب آنے یا وہاں سے روانہ ہونے کیلئے فضائی سفر کے بجائے نجی گاڑی، ٹرین یا بس کے استعمال پر غور کریں۔ سعودی عرب میں دہشت گردی کے الزامات میں 5 شہریوں کا سر قلم کر دیا گیا ، انہیں ایک غیر ملکی دہشت گرد تنظیم میں شمولیت، سکیورٹی فورسز پر فائرنگ اور مملکت کے اندر دہشت گرد کارروائیوں کی معاونت کے الزامات میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔ رواں سال مملکت میں سزائے موت پر عمل درآمد پانے والوں کی تعداد 188 ہوگئی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...