فرانس مہنگائی کی آگ میں جل اٹھا، سڑکیں میدانِ جنگ

فرانس مہنگائی کی آگ میں جل اٹھا، سڑکیں میدانِ جنگ

ملک گیر مظاہرے ، 8 لاکھ افراد کی شرکت،کئی دکانوں میں لوٹ مار ،400 گرفتار کئی گاڑیاں ،سیاحتی دفتر نذر آتش، سٹی ہالز میں شدید توڑ پھوڑ،میڈیا دفاترپرپتھراؤ

پیرس،برسلز (اے ایف پی)فرانس مہنگائی کی آگ میں جل اٹھا، سڑکیں میدانِ جنگ بن گئیں، بڑھتی مہنگائی اور اخراجاتِ زندگی کے خلاف ملک گیر مظاہروں کے دوران  پولیس اور مظاہرین میں شدید جھڑپیں ہوئیں، دکانوں میں لوٹ مار کی گئی اور متعدد مقامات پر آگ لگا دی گئی۔ وزارت داخلہ کے مطابق مظاہروں کے دوران تقریباً 400 افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ مزدور یونین کے مطابق احتجاج میں 8 لاکھ افراد نے شرکت کی۔صدر ایمانوئل میکخواں کی حکومت کے خلاف احتجاج میں پولیس نے نقاب پوش مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔ مظاہرین نے پیرس سمیت مختلف شہروں میں گاڑیوں کو آگ لگائی اور درجنوں دکانوں کو لوٹ لیا۔جنوبی شہر سینٹ ایٹین میں پولیس کی جانب سے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے استعمال کیے گئے گرینیڈ سے ایک شخص کا ہاتھ اڑ گیا۔ اس سے قبل 5 اکتوبر کو شہر لینس میں پولیس کے اسٹن گرینیڈ سے ایک 15 سالہ نوجوان بھی اپنا ہاتھ کھو بیٹھا تھا۔

لیون میں مظاہرین نے شہر کے وسط میں واقع سیاحتی دفتر کو آگ لگا دی، جبکہ مارسیلے اور لیل میں سٹی ہالز اور بورڈو میں پولیس کے ایک مرکز میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ لیموج شہر میں سٹی ہال پر حملے کے بعد عمارت کی چھت تک آگ کے شعلے پہنچ گئے۔ پیرس، مارسیلے ، نیس، بورڈو اور لیل میں بھی متعدد دکانیں لوٹ لی گئیں۔مظاہرین نے فرانسیسی نشریاتی اداروں سی نیوز اور یورپ ون کے دفاتر پر بھی پتھراؤ کیا۔ پیرس کے میئر ایمانوئل گریگوئر نے کہا کہ شہر کی پوری پوری سڑکیں تباہی کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ صدر میکخواں نے خبردار کیا کہ سرکاری عمارتوں اور کاروباری مراکز پر حملوں، توڑ پھوڑ اور لوٹ مار میں ملوث مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ وزیراعظم سیباسٹیاں لیکورنو نے بھی تشدد کی شدید مذمت کی۔احتجاج کا آغاز کئی ہفتے قبل طلبا کی جانب سے تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی کمی اور ناقص سہولتوں کے خلاف مظاہروں سے ہوا تھا۔

تاہم بڑھتی مہنگائی، ایندھن اور خوراک کی قیمتوں میں اضافے ، قوتِ خرید میں کمی اور سرکاری خدمات کے معیار پر عوامی بے چینی نے اسے ملک گیر تحریک میں تبدیل کر دیا۔فرانس کی پیلی واسکٹ تحریک نے بھی مظاہروں میں شرکت کی اپیل کی تھی۔ یہ تحریک 2018 میں ایندھن پر مجوزہ ٹیکسوں اور معاشی ناانصافی کے خلاف ملک گیر احتجاج کے ذریعے سامنے آئی تھی۔ادھر بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز اور لیئژ شہر میں ہفتے کو مہنگائی کے خلاف مظاہرین نے پولیس پر بوتلیں اور دیگر اشیا پھینکیں، 10 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ مظاہروں کے دوران کوڑے دانوں اور الیکٹرک سکوٹروں کو آگ لگا دی گئی ، سوشلسٹ پارٹی کے دفتر میں توڑ پھوڑ بھی کی گئی۔ وزیر داخلہ نے بدامنی کو منظم تشدد قرار دیا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...