سابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید کو جوڈیشل کرنے کا حکم
آڈیو لیک کیس میں علی امین کی عدم دستیابی، گواہوں کے بیان ریکارڈ نہ ہو سکے پی ٹی آئی لانگ مارچ کے پیش نظر دو کیسز میں گرفتار کارکنان مقدمہ سے ڈسچارج
اسلام آباد (رضوان قاضی) انسداددہشتگردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے پولیس کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید کو جوڈیشل کرنے کا حکم دے دیا۔پولیس نے خالد خورشید کو عدالت میں پیش کر کے 30 دن کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔ خالد خورشید کے خلاف 26 نومبر احتجاج پر تھانہ آبپارہ میں مقدمہ درج ہے ۔ اسی عدالت نے پی ٹی آئی لانگ مارچ کے پیش نظر تھانہ شالیمار اور سیکرٹریٹ کے دو مقدمات میں گرفتار کارکنان کومقدمہ سے ڈسچارج کردیا۔ تفتیشی افسر نے شناخت پریڈ کیلئے التوا کی درخواست دائر کردی۔
وکلا نے مخالفت کرتے ہوئے کہا چالیس دن سے زیادہ ہوچکے،ہر سماعت پر پولیس التوا مانگ رہی، کارکنان کو پیش نہیں کیا جارہا، جان بوجھ کر گرفتار کیا گیا، وہ بے گناہ ہیں، عدالت گزشتہ سماعت والے اپنے آرڈر پر عمل کرائے ،عدالت نے تمام پی ٹی آئی کارکنان کو مقدمہ سے ڈسچارج کرنے کا حکم سنادیا۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج حاکم خان نے تھانہ گولڑہ کے آڈیو لیک کیس کی سماعت کی، نامزد شریک ملزم فاروق عدالت میں پیش ہوئے ، علی امین گنڈا پور کے وکیل نے بتایاکہ علی امین گنڈا پور نے عدالت میں پیش ہونا تھا، اگر عدالت دوبارہ وارنٹ گرفتاری جاری کرتی ہے تو فائدہ نہیں کیونکہ وہ پہلے ہی گرفتار ہیں، علی امین گنڈا پور کی عدم دستیابی کے باعث گواہان کے بیانات ریکارڈ نہ ہو سکے ، سماعت 27 نومبر تک ملتوی کردی گئی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments