نوازشریف ،مریم نے فوج سے متعلق جوکہا ریکارڈ پر موجود:فضل الرحمن

 نوازشریف ،مریم نے فوج سے متعلق جوکہا ریکارڈ پر موجود:فضل الرحمن

فوج کو ’محکمہ زراعت‘کون کہا کرتا تھا ، میں جبر سے اختلاف کرتا ہوں تحریک انصاف دہشتگرد جماعت ہے تو پھر مذاکرات کیوں کئے گئے :گفتگو

لاہور(سیاسی نمائندہ،مانیٹرنگ ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ جب انسان دوسروں کی طرف ایک انگلی اٹھاتا ہے تو باقی پانچ انگلیاں اس کی اپنی طرف بھی ہوتی ہیں، فوج کے خلاف ماضی میں تلخ گفتگو یا بیانات میں نے خود دئیے تھے یا میاں نواز شریف نے دئیے تھے ؟ ، فوج کو ’محکمہ زراعت‘کس نے کہا اور جلسوں میں سابق آرمی چیف جنرل باجوہ کا نام مسلسل کون لیتا رہا ؟، میں ریاست کا وفادار ہوں لیکن اتنی قربانیوں کے بعد جبر سے اختلاف کرتا ہوں، دہشت گردی کے خلاف متفقہ قومی پالیسی ہونی چاہئے ، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عوام کو اعتماد میں لینا ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز گارڈن ٹاؤن لاہور میں جے یو آئی ف کے مرکزی رہنما بلال میر کے بھائی زاہد میر کے انتقال پر اظہار تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

مولانا فضل الرحمن نے مریم نواز کا ذکر کرتے کہا کہ وہ محترمہ میری برخوردار کی طرح ہیں، لیکن ماضی میں انہوں نے ادارے کے بارے میں جو کچھ کہا اور جو اظہارِ رائے کیا، وہ سب بھی آج ریکارڈ پر موجود ہے ، یہ تمام ماضی کے ایسے باب ہیں جنہیں اب دوبارہ کریدا نہ جائے تو بہتر ہے ، میں نے کبھی بھی عسکری ادارے پر تنقید نہیں کی، البتہ میں ریاستی پالیسیوں کو ضرور زیرِ بحث لاتا ہوں۔ امیر جمعیت علماء اسلام (ف)نے موجودہ صورتحال میں صوبوں کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کرتے کہا کہ اس دہشت گردی کے ماحول میں جمعیت کے ڈھائی سو کارکن شہید ہوئے ، ہم قربانیوں کا مذاق نہیں اڑا رہے ، قربانیوں کا مذاق اڑانے کے بجائے پالیسی پر تنقید کو اصلاح کی کوشش سمجھا جائے ، دہشتگردی کیخلاف ان کیمرہ پارلیمنٹ کا اجلاس بلایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ بھٹو نے 73 میں ایمرجنسی لگائی تھی، ہمارے لوگوں نے احتجاج کیا ، میرے والد نے استعفیٰ دیدیا تھا۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کیا یہ جمہوریت کا عمل ہے ، کیا بلوچستان میں دہشت گردی نہیں؟ ، صوبوں کو اعتماد میں لو، اپوزیشن میں رہے ہیں، کتنے مقامات پر احتجاج کیا گیا، مجھے چھ ماہ جیل میں نہیں ڈالا تھا؟،دہشت گردی کے خلاف عالمی اتحاد میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا گیا ، مگر سوال یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کامیابیاں کیوں نہیں مل رہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ذمہ دار اداروں کو ملک یا سیاستدانوں کا مذاق نہیں اڑانا چاہیے ،اگر قوم کو دہشت گردی کے خلاف لشکر بنانے اور مورچوں میں بیٹھنے کیلئے تیار کرنا ہے تو پہلے اسے اعتماد میں لینا ہوگا، دہشت گردی کے معاملے پر متفقہ بیانیہ اور پالیسی تشکیل دی جانی چاہیے۔

اگر پاکستان تحریک انصاف دہشت گرد جماعت ہے تو پھر اس کے ساتھ مذاکرات کیوں کیے گئے ؟، وزیراعظم سے ملاقات کے بعد انہیں پی ٹی آئی اور حکومت کے مطالبات کا علم ہوا تو معاملات سنبھل گئے تھے ۔ انہوں نے حکومت کو بے اختیار قرار دیتے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں ایمرجنسیوں کا معاملہ پیپلز پارٹی کے کھاتے میں ہی آیا ہے ۔مولانا فضل الرحمن نے سعودی عرب کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے کہا کہ اگر کوئی سعودی عرب پر حملہ کرتا ہے تو وہ اس کی مذمت کرتے ہیں، ریاض میں حملے کے دوران احرام میں عمرہ کرنے والے افراد کی شہادت کی بھی مذمت کرتے ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہیں کیونکہ وہ پاکستان کے دوست ہیں۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...