سعودی عرب کی فوجی مدد، تمام ذرائع استعمال کرینگے :ڈی جی آئی ایس پی آر

 سعودی عرب کی فوجی مدد، تمام ذرائع استعمال کرینگے :ڈی جی آئی ایس پی آر

حوثیوں کے حملو ں پرسخت غم و غصہ، مذاکرات ناکامی پر مکہ معاہدے کے تحت اجتماعی دفاعی نظام لازمی فعال ہو گا،مسلم امہ کو اتحاد و یکجہتی پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے :لیفٹیننٹ جنرل احمدشریف ریاض کے ہوائی اڈے پر پروازیں بدستور معطل،اہم مالیاتی و کاروباری مراکز میں بھی دفاتر خالی کرانیکا حکم،یمن میں حوثیوں کا فورسز کے تربیتی کیمپ پر میزائل حملہ، 53 جاں بحق،200 زخمی

اسلام آباد(خصوصی نیوز رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک)ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا سعودی عرب کی خودمختاری اور حرمین شریفین کی سکیورٹی پر سمجھوتا نہیں ہوسکتا، پاکستان سعودی عرب کو ضروری فوجی مدد فراہم کر رہا ہے ،تمام ذرائع استعمال کریں گے ۔انڈیپنڈنٹ عربیہ کو دئیے گئے انٹرویومیں فوجی ترجمان نے کہا مشرق وسطٰی کے جاری تنازع میں مذاکرات کی ناکامی یا کسی فوجی محاذ آرائی  کی صورت میں مکہ الائنس کا اجتماعی ڈیٹرنس فعال ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ 3 ممالک کی بصیرت کا نتیجہ ہے جو بہت مختصر وقت میں تیزی سے آگے بڑھا ہے ۔ انہوں نے اس پیشرفت کو غیرمعمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اتحاد پر شک کرنے والے بنیادی طور پر وہ لوگ ہیں جن کو اس سے مسئلہ ہے ، اصل اہمیت نتائج کی ہے ۔یہ اتحاد اقوام متحدہ کے چارٹر کی شق 51 پر مبنی ہے ، جو ممالک کو اپنے دفاع کا حق دیتی ہے اور اجتماعی دفاعی نظام کا مقصد ان فریقوں کو واضح پیغام دینا ہے جو خطے کو غیرمستحکم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اگر کوئی فریق تینوں ممالک میں سے کسی ایک کے خلاف براہ راست یا بالواسطہ جنگ چھیڑتا ہے تو اس کے جواب میں اجتماعی ردعمل ہو گا۔انہوں نے کہا حوثیوں کے حملوں کے بعد ملک کے عوام سے لے کر، سیاسی و عسکری قیادت تک میں سخت غم وغصہ پایا گیا۔کوئی سمجھدار شخص سعودی عرب پر کیسے حملہ کر سکتا ہے ، مقدس مقامات کیلئے کیسے خطرہ بن سکتا ہے یا کم سے کم یہ تاثر کیسے دے سکتا ہے کہ وہ ان کو نقصان پہچانے کا ارادہ رکھتا ہے ۔

تنازعات میں شدت پیدا کرنا یا ان کے دائرے کو وسیع کرنا مسلم ممالک اور وہاں بسنے والے لوگوں کے مفاد میں نہیں ہے ۔اگر مذاکرات کے ذریعے تصفیے تک بات نہ گئی اور فوجی تصادم میں تبدیل ہوئی تو مکہ معاہدے کے تحت اجتماعی دفاعی نظام لازمی طور پر فعال ہو جائے گا جیسا کہ پہلے بھی ہو رہا ہے ۔سعودی عرب کی خودمختاری اور حرمین شریفین کا تحفظ پاکستان کیلئے سرخ لکیر کی حیثیت رکھتا ہے ۔ حرمین شریفین کے تقدس پر کسی قسم کا سمجھوتا ممکن نہیں ۔ اس حوالے سے پاکستانی سیاسی و عسکری قیادت کا موقف دوٹوک ہے ۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ مکہ الائنس کا کوئی جارحانہ ارادہ نہیں ہے ، تاہم یہ اتحاد خطے میں امن اور سلامتی کے فروغ کیلئے پرعزم ہے ۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کا یہ اشتراک کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں بلکہ خطے میں پائیدار استحکام اور خوشحالی کیلئے قائم کیا گیا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ مسلم امہ کو آپس میں لڑنے کے بجائے اتحاد و یکجہتی پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے ۔ مشرق وسطٰی میں جاری فوجی تنازع کو مزید پھیلانے سے گریز ہی ناگزیر ہے کیونکہ مسائل کا حل صرف مذاکرات میں مضمر ہے ، بصورت دیگر مکہ الائنس اپنی دفاعی ذمہ داریوں کو ہر صورت پورا کرے گا۔

 

ریاض (اے ایف پی)حوثی باغیوں کے مسلسل حملوں کے باعث عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کرنے کیلئے سعودی عر ب میں منعقد ہونے والی بڑی سرمایہ کاری کانفرنس آئندہ سال تک ملتوی کردی گئی۔سعودی عرب کے فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو (ایف آئی آئی) کے چیف ایگزیکٹو مہا السعود نے پیر کو اعلان کیا کہ 26 سے 29 اکتوبر تک ہونے والا یہ سالانہ اجلاس اب 2027 میں منعقد ہوگا۔ اس کانفرنس کو ’’صحرا کا ڈیووس‘‘بھی کہا جاتا ہے ۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب حوثی حملوں کے باعث ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پروازوں کی آمدورفت معطل ہے ، جبکہ ریاض میں میزائل اور ڈرون حملوں کے پیش نظر سرکاری اداروں نے ملازمین کو پیر سے گھروں میں رہ کر کام کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ شہر کے اہم مالیاتی اور کاروباری مراکز میں بھی دفاتر خالی کرانے اور عملے کو گھروں سے کام نمٹانے کے احکامات دئیے گئے ہیں۔ شہر کے مرکزی علاقے میں واقع 99 منزلہ کنگڈم سینٹر نے بھی اپنے دفاتر میں کام کرنے والوں کو اگلے حکم تک عمارت سے دور رہنے کو کہا ہے ۔

اس عمارت میں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا علاقائی دفتر بھی قائم ہے ۔ذرائع کے مطابق وسطی ریاض کے علاقے العلیا میں بلند عمارتوں میں واقع بعض سرکاری دفاتر دو ہفتے قبل خالی کرا لیے گئے تھے ۔ کنگ عبداللہ مالیاتی ضلع میں قائم امریکی کمپنیوں کے دفاتر نے بھی ملازمین کو گھروں سے کام کرنے کی ہدایت کی ہے ۔دوسری جانب مصری پارلیمان نے سعودی عرب کی فوجی معاونت کیلئے صدر عبدالفتاح السیسی کی درخواست پر بحث کا فیصلہ آئندہ ہفتے تک مؤخر کردیا، ہنگامی اجلاس کسی فیصلے کے بغیر ختم ہوگیا۔سرکاری اخبار الاخبار کے مطابق پارلیمان کے سپیکر ہشام بدوی نے سعودی عرب کی مدد اور معاونت کیلئے ضروری اقدامات کی اجازت دینے سے متعلق دوسرے اجلاس کو ملتوی کرتے ہوئے بحث 26 اکتوبر تک مؤخر کی۔ یمن کے صوبے شبوا میں حوثی باغیوں کے بیلسٹک میزائل حملے میں 53 سے زائد افراد جاں بحق اور 200 سے زیادہ زخمی ہوگئے ۔ حملے میں سکیورٹی فورسز کے نئے بھرتی ہونے والے اہلکاروں کے تربیتی کیمپ کو نشانہ بنایا گیا۔ حکام اور فوجی ذرائع کے مطابق کئی ہفتوں کے دوران یہ سب سے ہلاکت خیز حملہ ہے ۔

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...