سینیٹ :سابق ارکانِ پارلیمنٹ کیلئے تاحیات سرکاری پاسپورٹ، بل منظور

سینیٹ :سابق ارکانِ پارلیمنٹ کیلئے تاحیات سرکاری پاسپورٹ، بل منظور

بل سینیٹر عبدالقادر نے پیش کیا ، پاسپورٹس ایکٹ 1974 میں ترمیم کا مقصد سابق ارکان پارلیمنٹ کو دیگر اعلیٰ عہدوں پر فائز سرکاری حکام کے مساوی مراعات دینا ہے سابق سیکر ٹریز کے بچوں سے بلیوپاسپورٹ سہولت واپس لینے کیلئے نیا بل لایا جا رہا :طلال ، ارکان کی تنخواہوں ، مراعات کا بل واپس ، دیگر 9 بل قائمہ کمیٹیوں کے سپرد

اسلام آباد (ایس ایم زمان،حریم جدون) سینیٹ نے پاسپورٹس ایکٹ 1974 میں ترمیم کرتے ہوئے سابق ارکانِ پارلیمنٹ کیلئے تاحیات ’سرکاری پاسپورٹ‘بل منظور کرلیا جس کے تحت اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹ عہدہ ختم ہونے کے بعد بھی سرکاری (بلیو) پاسپورٹ رکھنے اور استعمال کرنے کے مجاز ہوں گے جبکہ اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں و مراعات کا ترمیمی بل واپس لے لیا گیا۔ سینیٹر محمد عبدالقادر کی جانب سے پیش کیے گئے پاسپورٹس ترمیمی ایکٹ 2026 کے مطابق اس سے قبل پاسپورٹس ایکٹ 1974 میں ایسی کوئی واضح شق موجود نہیں تھی جو ان پارلیمنٹیرینز کو سرکاری پاسپورٹ رکھنے کی اجازت دیتی جن کی رکنیت مدت پوری ہونے سے پہلے ختم ہو جاتی تھی۔بل کے تحت سابق پارلیمنٹیرینز خواہ انہوں نے قومی اسمبلی کی پانچ سالہ یا سینیٹ کی چھ سالہ مدت مکمل کی ہو یا نہیں، اپنے عہدے کے دوران جاری کردہ سرکاری بلیو پاسپورٹ استعمال کرنے کا حق برقرار رکھ سکیں گے ۔

بل کے اغراض و مقاصد کے مطابق ترمیم کا مقصد سابق پارلیمنٹیرینز کو دیگر اعلیٰ عہدوں پر فائز سرکاری حکام کے مساوی مراعات دینا اور ریاست کی اعلیٰ سطح پر خدمات انجام دینے والوں کیلئے یکساں پالیسی قائم کرنا ہے ۔سینیٹر عبدالقادر نے بل پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ گریڈ 21 کے سرکاری افسران کے بچوں کو بلیو پاسپورٹ دیا جاتا ہے جبکہ منتخب اراکین کو بھی یہ سہولت حاصل ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یا تو یہی اصول سینیٹرز کے لیے بھی اپنایا جائے یا پھر سرکاری ملازمین کے بچوں کے بلیو پاسپورٹس مکمل طور پر ختم کیے جائیں۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اس بات کی تائید کی کہ ریٹائرڈ بیوروکریٹس کے بچوں کو بلیو پاسپورٹ نہیں ملنے چاہئیں اور بتایا کہ وزیر داخلہ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ سینیٹرز کو بھی قومی اسمبلی کے اراکین کی طرز پر آفیشل پاسپورٹ جاری کیا جانا چاہیے ۔وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری نے ایوان کو بتایا کہ ملک میں بلیو پاسپورٹس کی بڑی تعداد دیگر ممالک کے ساتھ ویزا فری انٹری کی بات چیت پر منفی اثر ڈالتی ہے ، اسی لیے حکومت نے بلیو پاسپورٹس کی تعداد کو پہلے ہی کم کیا ہے ۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اب تک 30 ہزار بلیو پاسپورٹس منسوخ کیے جا چکے ہیں جن میں سے کوئی بھی پارلیمنٹیرین شامل نہیں تھا جبکہ سابق سیکر ٹریز کے بچوں سے یہ سہولت واپس لینے سے متعلق ایک نیا بل بھی لایا جا رہا ہے ،ایوان میں سینیٹرز نے وزارت داخلہ کی جانب سے پاسپورٹ کے حصول کیلئے مبینہ این او سی کی شرط پر تشویش اور برہمی کا اظہار کیا۔

سینیٹر عابد شیر علی اور سینیٹر ناصر بٹ نے کہا کہ اراکین پارلیمنٹ کیلئے وزارت داخلہ سے این او سی کا تقاضا ان کی تضحیک کے مترادف ہے اور ملک میں 78 ہزار کے قریب بلیو پاسپورٹس میں سے ریٹائرڈ افسران اور ان کے بچوں کے پاسپورٹ فوری منسوخ کیے جانے چاہئیں۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر مملکت طلال نے واضح کیا کہ اراکین پارلیمنٹ کو کسی این او سی کی ضرورت نہیں ہے اور پاسپورٹ جاری کرنے سے قبل قواعد کے مطابق تصدیق کی جاتی ہے ۔ سینیٹر دلاور خان نے اتنی بڑی تعداد میں غیر متعلقہ افراد کو بلیو پاسپورٹس کے اجرا کی انکوائری کروانے اور ذمہ داروں کو نشان عبرت بنانے کا مطالبہ کیا۔ علاوہ ازیں سینیٹ اجلاس میں عائلی قوانین، ماحولیاتی انصاف، نجی سکیورٹی گارڈز کے حقوق اور معاشی منصوبہ بندی سمیت مختلف شعبوں سے متعلق 9 بل پیش کئے گئے ، چیئرمین سینیٹ نے تمام بل متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کر دئیے ۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...