لائبہ خودکشی فراڈ کیس : مرکزی ملزم اپنے ہی ساتھیوں کی فائزنگ سے ہلاک
پولیس برآمدگی کیلئے لے جارہی تھی ،2موٹرسائیکلوں پر سوار4ملزمان نے چھڑانے کیلئے فائرنگ کردی،ملزم نے ہسپتال میں دم توڑ اہلکاربلٹ پروف جیکٹس کی وجہ سے محفوظ ،فرار ملزمان کی گرفتاری کیلئے سرچ آپریشن،ملزم نے طالبہ سے 90لاکھ کافراڈکیاتھا
اسلام آباد(دنیانیوز،مانیٹرنگ ڈیسک)اسلامی یونیورسٹی کی طالبہ لائبہ اعجاز کے ساتھ مالی فراڈ کرنے والا ملزم نعمان ساتھیوں کی مبینہ فائرنگ سے ہلاک ہوگیا،پولیس اہلکار بلٹ پروف جیکٹس کی وجہ سے محفوظ رہے ، اسلام آباد میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی طالبہ لائبہ اعجاز کی خودکشی کیس میں زیرِ حراست مرکزی ملزم نعمان مبینہ طور پر اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا۔ اسلام آباد پولیس کے مطابق تھانہ رمنا کی حدود میں ساتھیوں کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے ملزم نعمان کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبرنہ ہوسکا اوردم توڑگیا۔واضح رہے کہ ملزم نعمان خودکشی کرنے والی طالبہ لائبہ اعجاز کے مقدمے کا مرکزی ملزم تھا،ملزم پر تعلیمی سکالرشپ کے نام پر لاکھوں روپے کا فراڈ کرنے اور طالبہ کو خودکشی پر مجبور کرنے کے الزامات تھے۔
اسلام آباد پولیس کے مطابق تھانہ رمنا کی حدود میں زیرِ حراست ملزم نعمان کو پولیس ٹیم اس کی نشان دہی پر برآمدگی کے لیے لے کر جا رہی تھی کہ راستے میں گھات لگائے دو موٹرسائیکلوں پر سوار چار ساتھی ملزمان نے اسے چھڑ انے کی غرض سے پولیس پارٹی پر اندھا دُھند فائرنگ کر دی اورملزم نعمان اپنے ہی ساتھیوں کی گولی لگنے سے شدید زخمی ہو گیا جبکہ پولیس ٹیم بُلٹ پروف جیکٹس اور حفاظتی تدابیر کے باعث محفوظ رہی ، فرار ہونے والے دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے ۔واضح رہے کہ ملزم نعمان نے طالبہ کو تعلیم کیلئے امریکا بھیجنے کیلئے 90 لاکھ روپے کا فراڈ کیا تھا۔پولیس ذرائع کے مطابق مرکزی ملزم نے درجنوں خواتین سے بھی اسی طرح کے فراڈ کیے ، جبکہ اس کے خلاف 26 خواتین کو مبینہ جنسی ہراسانی کا نشانہ بنانے کا بھی انکشاف ہوا تھا۔ملزم نعمان نے گرفتاری کے بعد لائبہ کے ساتھ دھوکہ دہی اور فراڈ کرنے کا اعتراف کیا تھا۔ خودکشی سے قبل لائبہ کی جانب سے اپنے لواحقین کو بھیجے گئے پیغامات میں سنگین فراڈ اور ذہنی دباؤ کا کھل کر ذکر کیا گیا تھا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments