پشاور ہائیکورٹ ،سہیل آفریدی کی مبینہ حراست پررپورٹ طلب
وزیراعلیٰ کی حراست کا کوئی جواز نہیں ،بھائی کی درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری ڈپٹی سپیکر صوبائی اسمبلی ثریا بی بی کی گرفتاری روکتے ہوئے گھر ڈی سیل کرنیکا حکم
پشاور(آئی این پی)پشاور ہائیکورٹ نے سہیل آفریدی کی مبینہ حراست کے خلاف درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔عدالتی حکم کے مطابق سہیل آفریدی کی بازیابی کے لیے ان کے بھائی محمد عامر نے درخواست دائر کی جس میں درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ سہیل آفریدی کو غیر قانونی حراست میں رکھا گیا ہے ، ایمرجنسی یا گورنر راج میں بھی وزیراعلیٰ کی غیر قانونی حراست کا کوئی جواز نہیں۔عدالت نے فریقین سے استفسار کیا کہ وزیراعلیٰ گرفتار ہیں یا کسی مقدمے میں نامزد ہیں۔عدالت نے اس حوالے سے آئی جی، سی سی پی او، چیف سیکرٹری اور سیکرٹری داخلہ سے رپورٹ طلب کی ہے ۔عدالت نے حکم دیا کہ 10 روز میں سہیل آفریدی کی موجودگی اور حیثیت سے متعلق رپورٹ جمع کرائی جائے ۔ بعد ازاں کیس کی مزید سماعت 3 نومبر تک ملتوی کردی گئی۔ دریں اثنا پشاور ہائیکورٹ نے ڈپٹی سپیکر صوبائی اسمبلی ثریا بی بی کو تھری ایم پی او کے تحت گرفتار کرنے سے روکتے ہوئے ان کا گھر ڈی سیل کرنے کا حکم دے دیا۔
ڈپٹی سپیکر ثریا بی بی کے گھر پر پولیس چھاپے اور سیل کرنے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت جسٹس اعجاز انور اور جسٹس محمد فہیم ولی نے کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ثریا بی بی ڈپٹی سپیکر صوبائی اسمبلی ہیں، انہیں 2024 میں سرکاری گھر الاٹ ہوا تھا، 11 اکتوبر کو صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کی گئی جبکہ 14 اکتوبر کو ان کے گھر پر غیر قانونی چھاپہ مار کر اسے سیل کر دیا گیا۔ وکیل نے دلائل دئیے کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے دوران بھی سپیکر ہاؤس کو سیل نہیں کیا جا سکتا، پشاور ہائیکورٹ نے چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس اور دیگر فریقین سے آئندہ سماعت پر جواب طلب کر لیا۔علاوہ ازیں پشاور ہائیکورٹ میں غیر فعال صوبائی وزیر فضل شکور، رکن اسمبلی فضل محمد کی بازیابی کیلئے درخواستوں پر سماعت ہوئی، جسٹس اعجاز انور نے سوال کیا کیس میں اب تک کیا پیش رفت ہوئی؟ تفتیشی افسر نے جواب دیا کوششیں جاری ہیں، جیو فینسنگ کی ہے ۔پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ اس کیس میں تو ایف آئی آر درج کی گئی ہے ، صوبائی وزیر، رکن اسمبلی غائب ہیں، عام لوگوں کا کیاحال ہوگا۔کیس کی مزید سماعت 3 نومبر تک ملتوی کردی گئی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments