5 سال :ٹرینوں کے 349 حادثات، ٹریک کی خرابی بڑی وجہ قرار:2030 تک 418 پرانی کوچز ختم

5 سال :ٹرینوں کے 349 حادثات، ٹریک کی خرابی بڑی وجہ قرار:2030 تک 418 پرانی کوچز ختم

ٹریک کی خرابی سے 120اور انسانی غلطی سے 95حادثات پیش آئے ، سرکاری ملازمین کی انشورنس پر جلد فیصلہ ہوگا بارہ کہو ہاؤسنگ سکیم میں 36914رجسٹریشن،سیکٹر ای 12کے 95فیصد متاثرین کو معاوضہ ، قبضہ مل چکا ، وقفہ سوالات

 اسلام آباد (سید قیصر شاہ، اسلم لڑکا) وزارتِ ریلوے نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ جنوری 2022ء سے ستمبر 2026ء تک ٹرینوں کے پٹڑی سے اترنے کے 349 واقعات پیش آئے جن میں ریلوے ٹریک کی خرابی، انسانی غلطی اور دیگر وجوہات شامل ہیں۔وزارت کے تحریری جواب کے مطابق 2022ء میں 42، 2023ء میں 58، 2024ء میں 95، 2025 میں 93 اور 24ستمبر 2026ء تک 61واقعات  رپورٹ ہوئے ۔ ان میں 120حادثات ٹریک کی خرابی، 95انسانی غلطی، 64رولنگ سٹاک کی خرابی، 13دہشت گردی یا تخریب کاری اور 10قدرتی آفات کے باعث پیش آئے ۔ وزارت نے مزید بتایا کہ پاکستان ریلوے 2030ء تک 418پرانی کوچز مرحلہ وار ختم کرے گا جبکہ ان کی جگہ 399 نئی مسافر کوچز شامل کرنے کا منصوبہ ہے ۔وقفہ سوالات کے دوران پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت نیلسن عظیم نے بتایا کہ سرکاری ملازمین کی انشورنس سے متعلق معاملے پر کام جاری ہے اور جلد فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کو کینسر سمیت مختلف بیماریوں کے علاج کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔وزارتِ ہاؤسنگ و تعمیرات کے مطابق بارہ کہو ہاؤسنگ اسکیم میں رسائی کی سڑک، بینک گارنٹی، پہاڑی علاقے ، تعمیراتی پیش رفت اور نرخوں سے متعلق مسائل کے باعث تاخیر ہوئی۔ اسکیم کے تحت 36 ہزار 914 افراد نے رجسٹریشن کرائی ہے ۔ معاہدے کی حتمی منظوری کے بعد ترقیاتی کام شروع ہوگاجسے 18 ماہ میں مکمل کرکے الاٹیوں کو قبضہ دیا جائے گا۔

وزارت نے بتایا کہ اسلام آباد کے سیکٹرز جی سکس اور جی سیون میں 6 ہزار 972 سرکاری مکانات موجود ہیں جن میں کوئی مکان خالی نہیں۔ گزشتہ تین سال میں ان سیکٹرز میں 587مکانات الاٹ کیے گئے ۔ اسلام آباد، پشاور، لاہور، کوئٹہ اور کراچی میں مجموعی طور پر 24ہزار 975 سرکاری رہائشی مکانات اور فلیٹس الاٹ کیے جا چکے ہیں۔ موجودہ قواعد میں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کو رہائش دینے کی شق شامل نہیں۔وزیر مملکت قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے بتایا کہ آم اور کینو کی پیداوار اور معیار بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ آم کی پیداوار پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے باوجود تحقیق اور پیداوار بڑھانے کے لیے 17پروگرام شروع کیے گئے ہیں۔ پنجاب میں کینو کے لیے 100 جدید مراکز قائم کیے گئے جبکہ 40 نئی اقسام متعارف کرانے اور صلاحیت بڑھانے کے 30 پروگراموں کی بھی نشاندہی کی گئی۔ وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری نے بتایا کہ وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر ای 12 کے 95 فیصد متاثرین کو معاوضہ اور قبضہ دیا جا چکا ہے ۔ بلٹ اپ پراپرٹی کے معاوضے سے متعلق قانون میں موجود خامیوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے ۔ سیکٹر سی 16 میں زمین کے حصول کے وقت 1115 تعمیرات تھیں جو بڑھ کر 4600 ہو چکی ہیں۔ تمام تعمیرات کو معاوضے کا اہل قرار دینے سے دستیاب پلاٹس ناکافی ہو سکتے ہیں۔ اسلام آباد میں 150 غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں نے سکولوں، ڈسپنسریوں، پارکوں اور قبرستانوں کے لیے مختص اراضی بھی فروخت کی۔ 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...