کرپشن کی شکایات پر مثالی گاؤں منصوبہ بند،اینٹی کرپشن کو تحقیقات کا حکم

کرپشن  کی  شکایات  پر  مثالی  گاؤں منصوبہ  بند،اینٹی  کرپشن  کو  تحقیقات  کا  حکم

مریم نواز نے اعلیٰ حکام کی رپورٹ پر ایکشن لیا ،سرگودھامیں 65فیصد کام باقی ہونے کے باوجود ادائیگیاں کر دی گئیں کام مکمل کرنیوالوں کو ادائیگیاں ہونگی ،کرپشن میں ملوث افراد کیخلاف مقدمات درج کرکے ریکوری کرینگے :ذیشان رفیق

لاہور (عمران اکبر)وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کرپشن، جعلسازی اور بے ضابطگیوں کی شکایات پر’’مثالی گاؤں منصوبہ‘‘ فوری طور پر بند کرنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے پنجاب اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو تحقیقات کا حکم دے دیا ۔ منصوبے کے تحت صوبے کے 800 دیہات کو ترقیاتی سہولتوں سے آراستہ کرنے کیلئے 40 ارب روپے مختص کئے گئے تھے ۔ذرائع کے مطابق منصوبے کے ابتدائی  مرحلے میں 400 دیہات کو شامل کیا گیا، جن میں ترقیاتی کاموں کیلئے چار ارب روپے سے زائد جاری کئے گئے ۔ سرگودھا ڈویژن کے مختلف دیہات میں منصوبے کے تحت کام شروع کرائے گئے تاہم مبینہ کرپشن اور مالی بے ضابطگیوں کی شکایات سامنے آنے پر معاملہ اعلیٰ حکام کے نوٹس میں آیا۔ٹوبہ ٹیک سنگھ میں بااثر افسروں اور سیاسی عناصر کے مبینہ گٹھ جوڑ سے شراکت داری کی بنیاد پر جعلی کمپنیاں رجسٹرڈ کرائی گئیں اور میرٹ کی بجائے مبینہ ملی بھگت سے ٹھیکے حاصل کئے گئے ۔ مریم نواز نے پنجاب اسمبلی میں مثالی گاؤں منصوبے میں کرپشن کی شکایات سامنے آنے پر متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کی۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ سرگودھا ڈویژن میں منصوبے کے تحت 65 فیصد سے زائد ترقیاتی کام موقع پر مکمل نہیں ہوئے تاہم ان کی ادائیگیاں کر دی گئیں۔رپورٹ میں سامنے آنے والی مبینہ بے ضابطگیوں، جعلی کمپنیوں کی رجسٹریشن اور کرپشن کے الزامات پر وزیراعلیٰ نے پنجاب اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو تحقیقات کی ہدایت کی اور مشاورت کے بعد منصوبہ فوری طور پر بند کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ دوسری جانب ٹوبہ ٹیک سنگھ میں مبینہ کرپشن کے معاملے پر اینٹی کرپشن میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے ۔صوبائی وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے تصدیق کی کہ وزیراعلیٰ نے مثالی گاؤں منصوبے میں کرپشن کے الزامات کی تحقیقات کیلئے اینٹی کرپشن حکام کو ہدایات جاری کی ہیں اور منصوبہ ختم کر دیا گیا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کی جگہ مقامی آبادی کو شامل کرکے زیادہ بہتر انداز میں نیا منصوبہ متعارف کرایا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جہاں ترقیاتی کام درست طور پر مکمل کئے گئے ہیں، وہاں ادائیگیاں کی جائیں گی، جبکہ جہاں کام نہیں ہوا یا کرپشن ثابت ہوئی، وہاں ذمہ داروں کے خلاف مقدمات درج کرنے کے ساتھ سرکاری رقم کی وصولی بھی کی جائے گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...