خریدار کے دستخط نہ ہونے پر بیع نامہ کالعدم نہیں ہوسکتا:سپریم کورٹ

خریدار کے دستخط نہ ہونے پر بیع  نامہ کالعدم نہیں ہوسکتا:سپریم کورٹ

اسلام آباد (کورٹ رپورٹر)رجسٹرڈ بیع نامہ صرف اس بنیاد پر غیر مؤثر یا کالعدم قرار نہیں دیا جا سکتا کہ اس پر خریدار کے دستخط یا انگوٹھے کے نشانات موجود نہیں ،سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ رجسٹرڈ دستاویز کو فراڈ کے ذریعے حاصل کرنے کا الزام لگانے والے فریق کو دھوکہ دہی الزامات کے واضح ثبوت پیش کرنا ہوں گے۔

جسٹس شاہد وحید نے تحریر کردہ فیصلے میں قرار دیا کہ رجسٹرڈ دستاویز کو قانونی طور پر درست تصور کیا جاتا ہے ، جب تک اسے چیلنج کرنے والا فریق ٹھوس شواہد کے ذریعے اس کے خلاف اپنا مؤقف ثابت نہ کرے ،محض فراڈ کا الزام لگانے سے ثبوت کا بوجھ خودبخود دوسرے فریق پر منتقل نہیں ہوتا۔سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ 64 کنال ایک مرلہ زرعی اراضی کی ملکیت سے متعلق دو اپیلوں پر سماعت کے بعد جاری کیا ،جسٹس عائشہ اے ملک اور جسٹس شاہد وحید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے اپیلیں منظور کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ اور ضلعی اپیلٹ عدالت کے فیصلے کالعدم قرار دے د ئیے اور ٹرائل کورٹ کا فیصلہ بحال کر دیا ، فیصلے میں مزید کہا گیا کہ پردہ نشین خاتون کے حقوق کا تحفظ قانونی طور پر اہم ہے تاہم محض کسی خاتون کا پردہ نشین ہونا اس کی جانب سے دستخط یا انگوٹھے کے نشان والی دستاویز کو خودبخود غیر قانونی نہیں بناتا ،عدالت نے دونوں اپیلیں منظور کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ اپیلٹ عدالت کا فیصلہ کالعدم دیتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ بحال کر دیا ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...