پی ٹی آئی کیلئے اب بھی وقت ہے سخت پالیسی کاجائزہ لے

پی ٹی آئی کیلئے اب بھی وقت ہے سخت پالیسی کاجائزہ لے

حکومت مذاکرات کو پی ٹی آئی کی کمزوری نہ سمجھے ،مائنس ون ممکن نہیں

 (تجزیہ:سلمان غنی )

اپوزیشن کی بڑی جماعت تحریک انصاف اسلام آباد پر چڑھائی میں ناکامی اور پختونخوا میں اپنی حکومت گنوانے کے بعد ایک بحرانی کیفیت سے دوچار نظر آ رہی ہے ،پارٹی کو اس نہج پر پہنچانے کے الزامات پارٹی کے ہی بعض ذمہ دار ایک دوسرے پر لگاتے نظر آ رہے ہیں پارٹی کی مرکزی قیادت لانگ مارچ کی ناکامی کا ملبہ معزول وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر ڈالتے ہوئے خود کو بری الذمہ بنانے کے لئے کوشاں نظر آ رہی ہے اور اس ساری کیفیت میں بانی پی ٹی آئی کی رہائی، ان کے لئے طبی سہولتوں کی فراہمی اور ان کے عزیز و اقارب کی ملاقاتوں کا مطالبہ کم ہوکر رہ گیا ہے اور اب بڑا سوال جماعت کے اندر یہ ہے کہ اختلافات کا خاتمہ کیسے ہوگا، آگے کیسے چلنا ہے اور کس پالیسی کی بنیاد پر کاربند رہنا ہے اور سب سے اہم یہ کہ وہ جنہیں بانی پی ٹی آئی نے اپوزیشن کے بڑے فیصلوں کا اختیار سونپا تھا یعنی اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کیا اس منصب پر قائم رہ پائیں گے اور کیا بدلتے حالات میں کہیں نوبت مائنس ون کی طرف تو نہیں چلی جائے گی ، جہاں تک پی ٹی آئی کے موجودہ حالات کا تعلق ہے تو اس کی بڑی وجہ لانگ مارچ ہے ، یہ کس کا فیصلہ تھا اور کس حکمت عملی کے تحت تھا ،کہا جاتا ہے کہ اس میں بڑا کردار سہیل آفریدی کا تھا وہ خود کو اپنے لیڈر کی عدالت میں سرخرو کرنا چاہتے تھے۔

لیکن پارٹی میں اختلاف رائے تھا اور خصوصاً گروپ بندیوں نے احتجاجی اور مزاحمتی قوت کو ناکام بنایا ،بلاشبہ آج بھی پی ٹی آئی کا ایک بڑا ووٹ ہے لیکن اس کا بڑا سیاسی کردار نظر نہیں آ رہا ، لانگ مارچ کی ناکامی اور پختونخوا حکومت کے خاتمہ نے پی ٹی آئی کو ایک ایسی کیفیت سے دوچار کر دیا ہے کہ اسے دوبارہ سے ٹیک آف کرنے میں وقت لگے گا ،حکومت کا تو مسئلہ سمجھ آتا ہے کہ وہ اپنی بقا کے لئے چاہے گی کہ پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ٹکراؤ کی پالیسی جاری رہے لیکن پی ٹی آئی کو یہ سمجھ کیونکر نہیں آ رہی کہ ریاست کے ساتھ کشمکش میں اسے کچھ نہیں ملے گا ،حکومتوں پر احتجاج کے ذریعے اثر انداز ہوا جا سکتا ہے لیکن ریاست پر احتجاج کارگر نہیں ہوتا، پی ٹی آئی کے لئے اب بھی وقت ہے کہ وہ اپنی گزشتہ تین سالہ سخت گیر پالیسی کا جائزہ لے اور اپنی غلطیوں کا ادراک کرے کیونکہ لانگ مارچ یا ٹکراؤ کی پالیسیاں خود اس کے اپنے حق میں نہیں اور نہ ہی اس حوالہ سے فضا سازگار ہے ،حکومت کو بھی سمجھنا چاہئے کہ ملک میں سیاسی استحکام کے لئے سیاسی قوتوں کے کردار پر اثر انداز ہونا درست نہیں ملک میں موجودہ تقسیم کا نقصان سیاست اور جمہوریت دونوں کو ہوگا ملک میں موجودہ سیاسی عدم استحکام کا خاتمہ ہونا چاہئے اور اسی صورت میں معاشی سکیورٹی اور دہشت گردی جیسے مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے پی ٹی آئی کی جانب سے اگر مذاکرات کی بات ہو رہی ہے تو اسے اس کی کمزوری سمجھنے کی بجائے ان سے بات ہونی چاہئے جہاں تک مائنس ون کا سوال ہے تو پی ٹی آئی بھی بانی پی ٹی آئی کا ہی نام ہے لہٰذا یہاں مائنس ون ممکن نہیں ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...