قانون کا اطلاق طاقتور، کمزور دونوں پر یکساں ہونا چاہئے ، فاروق نائیک
فراہمی انصاف کسی کی سماجی حیثیت، سیاسی وابستگی، مالی وسائل سے متاثر نہیں ہونی چاہئے دادو میں سابق وزیراعلیٰ پیر الٰہی بخش کی 51ویں برسی کے موقع پر تقریب سے خطاب
کراچی (دنیا ڈیسک) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے چیئرمین سینیٹر فاروق حامد نائیک نے کہا ہے کہ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور تمام شہریوں کے لیے یکساں انصاف پاکستان کے جمہوری نظام کے بنیادی اصول ہیں، قانون کا اطلاق طاقتور اور کمزور دونوں پر یکساں ہونا چاہئے ، جبکہ انصاف کی فراہمی کسی بھی شہری کی سماجی حیثیت، سیاسی وابستگی یا مالی وسائل سے متاثر نہیں ہونی چاہئے ۔ وہ گورنمنٹ پیر الٰہی بخش لا کالج دادو میں سندھ کے سابق وزیراعلیٰ، ممتاز سیاستدان اور فروغ تعلیم کے لیے گراں قدر خدمات انجام دینے والے پیر الٰہی بخش کی 51ویں برسی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے ۔ سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے مرحوم پیر الٰہی بخش کی تعلیمی، سیاسی اور عوامی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات سندھ کی تاریخ کا قیمتی ورثہ ہیں۔ انہوں نے تعلیم کے فروغ، اعلیٰ تعلیمی اداروں کے قیام اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے اہم کردار ادا کیا۔انہوں نے ڈاؤ میڈیکل کالج اور ایس ایم لا کالج جیسے اداروں کی سرپرستی کو بھی ان کی وسیع تعلیمی سوچ کا عکاس قرار دیا۔فاروق حامد نائیک نے کہا قانونی تعلیم کا مقصد محض قانونی دفعات اور عدالتی فیصلوں کا مطالعہ کرنا نہیں بلکہ ایسے وکلا تیار کرنا بھی ہے جو پیشہ ورانہ دیانت داری، آئینی اصولوں اور انصاف کے تقاضوں پر عمل پیرا ہوں۔ نوجوان وکلا کو چاہیے وہ قانون کو ذاتی مفادات کے بجائے عوامی فلاح اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے استعمال کریں۔ انہوں نے کہا وکلا پر اپنے مؤکلین کے حقوق کا دفاع کرنے کے ساتھ ساتھ عدالتوں کے احترام، پیشہ ورانہ اخلاقیات اور آئین سے وفاداری کی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے ، پاکستان کو ایسے قانونی ماہرین کی ضرورت ہے جو شخصیات کے بجائے آئین کی بالادستی اور انصاف کے اصولوں کا دفاع کریں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments