مذاکرات کی کامیابی کیلئے حقیقی نمائندوں کی شرکت ضروری

مذاکرات کی کامیابی کیلئے حقیقی نمائندوں کی شرکت ضروری

بانی پی ٹی آئی کے سیاسی کردار کا معاملہ حل کئے بغیر مفاہمت تک پہنچنا کتنا مشکل؟

(تجزیہ:سلمان غنی)

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تنازعات کے حل اور مذاکرات میں پیش رفت کی راہ میں بنیادی نکتہ بانی پی ٹی آئی کا سیاسی کردار ہے ، جس پر تحریک انصاف کمپرومائز کیلئے تیار نظر نہیں آتی۔ دوسری جانب یہ تاثر بھی موجود ہے کہ پی ٹی آئی متبادل قیادت کے تحت اپنا سیاسی کردار جاری رکھے اور پارٹی کو ختم کئے بغیر اس کے سیاسی اثرورسوخ کو محدود کیا جائے ۔ اکتوبر میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکراتی عمل کی ناکامی نے ایک بار پھر بانی پی ٹی آئی کے کردار کو سیاسی بحث کا موضوع بنا دیا ہے ۔اصل سوال یہ ہے کہ سیاسی استحکام کیلئے کسی ایک رہنما کو سیاسی منظر سے ہٹانا ممکن ہے یا سیاسی اختلافات کا حل تلاش کرنا  ضروری ہے ۔ پارلیمانی عمل میں شرکت، داخلی احتساب اور آئینی طریقہ کار لازم ہیں۔ اس تناظر میں یہ سوال بھی اہم ہے کہ سیاسی نظام بانی پی ٹی آئی کے ووٹرز کو کس حد تک جگہ دے سکتا ہے ، جو اب بھی ان کی حمایت میں موجود ہیں۔پی ٹی آئی کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے یہ امر بھی اہم ہے کہ کیا جماعت نے ایسی قیادت تیار کی ہے جو اپنے بانی کے بغیر مؤثر سیاسی کردار ادا کرسکے ۔ حالیہ مذاکراتی عمل سے یہ بات سامنے آئی کہ بانی پی ٹی آئی کے سیاسی کردار کا معاملہ حل کئے بغیر سیاسی مفاہمت تک پہنچنا مشکل ہے ۔ مذاکرات کی کامیابی کیلئے متعلقہ فریقوں کے حقیقی نمائندوں کی بامعنی شرکت اور عملی سمجھوتے پر آمادگی ضروری ہے ۔پاکستان کو ایسے سیاسی بندوبست کی ضرورت ہے جس میں کسی ایک شخص کو ہٹانا یا اسے بالادست بنانا سیاست کا بنیادی مقصد نہ ہو۔ سیاسی رہنماؤں کے خلاف عام مقدمات میں منصفانہ قانونی کارروائی، وکلا تک رسائی اور قانونی چارہ جوئی کے مکمل مواقع فراہم کئے جانے چاہئیں۔پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن بخوبی جانتی ہیں کہ ماضی میں ان کے سیاسی قائدین کے کردار کو محدود یا ‘‘مائنس’’ کرنے کی کوششوں کے کیا نتائج سامنے آئے ۔ انہوں نے ایسے دباؤ کو قبول کیا اور نہ اپنی سیاسی قیادت سے دستبردار ہوئے ۔ اس تناظر میں بانی پی ٹی آئی آج جیل میں کیوں ہیں، اس سے قطع نظر یہ حقیقت موجود ہے کہ وہ ملکی سیاست کی اہم شخصیت ہیں اور تحریک انصاف فیصلہ سازی کیلئے ان کی طرف دیکھتی ہے ۔بانی پی ٹی آئی کے سیاسی کردار کو مکمل طور پر نظرانداز کرکے نہ تحریک انصاف کیلئے سیاسی راستہ ہموار ہوسکتا ہے اور نہ ہی حکومت ‘‘مائنس ون’’ کے فارمولے کے ذریعے ملک کو پائیدار سیاسی استحکام سے ہمکنار کرسکتی ہے ۔

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...