آفریدی کا آخری دنوں میں اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ تھا:نجم سیٹھی

 آفریدی کا آخری دنوں میں اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ تھا:نجم سیٹھی

کے پی میں کوئی تبدیلی ہوگی اور نہ نیا وزیراعلیٰ آئے گا،یہ سیاسی شہید نہیں ہوئے گنڈاپور کو کچھ نہیں ملے گا،گیم قومی اسمبلی میں آگئی :آج کی بات سیٹھی کے ساتھ

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ کے پی میں ابھی کو ئی چانس نہیں ہے ، علی امین گنڈاپور نے اپنے آپ کو آفرکیا ہے اسٹیبلشمنٹ کو کہ میری حمایت کریں،میں بندے اکٹھے کرتا ہوں، کے اسمبلی کو بحال کریں، میں آپ کے ساتھ تعاون کروں گا، دنیا نیوز کے پروگرام ’’آج کی بات سیٹھی کے ساتھ‘‘ میں نجم سیٹھی نے کہا میر ا خیا ل ہے اس وقت اسٹیبلشمنٹ موڈ میں نہیں ہے کہ پی ٹی آئی کے مسترد شدہ آدمی کا ساتھ دے کر پی ٹی آئی کو کنٹرول کریں،میں نہیں سجھتا ایسا ہوگا،ایک خبر تھی کہ 60،70لوگ اکٹھے کرلئے ،یہ خبر گنڈاپور کی طرف سے اڑائی گئی تھی ،دکھانے کیلئے کہ میں امیدوار ہوں۔ میری پیش گوئی ہے کہ علی امین گنڈاپور کو کچھ نہیں ملنے والا،گنڈاپور کی دوبارہ وزیر اعلیٰ بننے کی خواہش ہے ،جو پوری نہیں ہوسکتی،سہیل آفریدی کے آخری دنوں میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطے تھے ، اس وجہ سے لانگ مارچ نہیں ہوا،اگر یہ سیاسی شہید ہوتے تو ان کیلئے لوگ باہر نکلتے ،اس کا مطلب ہے یہ سیاسی شہید نہیں ہوا،اگرلوگ نکلتے تو سہیل آفریدی پھنس جاتے اور انہیں 15 سال کی قید ہوجاتی،اس لیے سہیل آفریدی نے اپنے آپ کو بچایا ہے ،میرے خیال کے مطابق کے پی میں کوئی تبدیلی ہوگی اور نہ نیا وزیراعلیٰ آئے گا، البتہ آنے والے دنوں میں مرکز میں پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا کردار اہم ہوگا،کے پی تو پی ٹی آئی سے فارغ ہو گیا ہے ، کوئی اسمبلی پر کارروائی نہیں ہونی، ایک خبر ہے کہ پارلیمنٹ کے اندر ایک کمیٹی بنا ئی گئی ہے ، وہ فیصلے کرے گی،اس خبر کے اندرجان ہے ،اس کی وجہ یہ ہے کہ اب کے پی کی کمیٹی اور لیڈرشپ فارغ ہے ،اب قومی اسمبلی میں گیم آگئی ہے ،ایک طرف یہ خبر یہ ہے کہ محمود اچکزئی اور ناصر عباس کو اس کا ہیڈ بنایا جائے گا،وہ لیڈ کریں گے ،اگر یہ لیڈ کرتے ہیں تو یہ سافٹ لائن لیں گے ،ہارڈ لائن نہیں، استعفے بھی نہیں دینگے ،یہ لوگ حکومت سے تعاون کریں گے ،اب محموداچکزئی مذاکرات کو بھی لیڈ کریں گے ، لڑائی جھگڑے اور لانگ مارچ کی باتیں ختم،اب کمپرومائز ہوگا، پی ٹی آئی کے لوگ کمیٹیوں میں بیٹھیں گے ، لڑائی جھگڑے نہیں کریں گے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...