اسرائیل میں انتخابات، نیتن یاہو کیخلاف اپوزیشن جماعتوں کو معمولی برتری، ڈیڈلاک پیدا ہو سکتا: ایگزٹ پولز
اپوزیشن اتحاد کو 52 سے 53، نیتن یاہو کے اتحاد کو 50 نشستیں مل سکتی ہیں،عرب جماعتوں کو 120 رکنی پارلیمان میں 17 یا 18 نشستیں ملنے کا امکان:ابتدائی ایگزٹ پولز نیتن یاہو کا عرب جماعتوں پر ووٹ چوری ، دھاندلی کا الزام، وزیراعظم انتخابی نتائج چیلنج کرنے کیلئے بہانے تلاش کر رہے :اپوزیشن،ریکارڈ ٹرن آؤٹ،اپوزیشن کا جشن قبل ازوقت:وزیرخارجہ
مقبوضہ بیت المقدس (اے ایف پی)اسرائیل میں منگل کو ہونے والے عام انتخابات کے ابتدائی نتائج کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کو وزیراعظم نیتن یاہو کے اتحاد پر معمولی برتری حاصل ہوئی ہے ۔ یہ انتخابات 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے صدمے کے بعد ملک میں پہلی بار منعقد ہوئے ، جن میں ووٹرز کی شرکت گزشتہ کئی دہائیوں کے مقابلے میں ریکارڈ سطح پر رہی۔اسرائیل کے طویل ترین عرصے تک وزیراعظم رہنے والے نیتن یاہو، جنہوں نے تقریباً دو دہائیوں تک ملک کی قیادت کی ہے ، نے انتخابی مہم میں حماس سے لے کر ایران تک اپنے دشمنوں کے خلاف کارروائیوں کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے انتخابی دن اسرائیلی عرب ووٹرز کی بڑھتی ہوئی طاقت کے حوالے سے خدشات بھی ظاہر کیے ۔اسرائیلی ٹیلی وژن نیٹ ورکس پر نشر ہونے والے ابتدائی ایگزٹ پولز کے مطابق، سابق فوجی سربراہ اور مرکز دائیں بازو کے رہنما گادی آئزنکوٹ کی قیادت میں قائم اتحاد کو نیتن یاہو کے اتحاد پر معمولی برتری حاصل تھی۔ نیتن یاہو کے اتحاد میں انتہائی دائیں بازو کی جماعتیں بھی شامل ہیں۔ابتدائی ایگزٹ پولز کے مطابق، اسرائیلی عرب جماعتوں نے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے ، جس کے نتیجے میں آئندہ پارلیمان میں انہیں فیصلہ کن کردار ملنے کا امکان ہے۔
کسی بھی ایک جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہ ہونے کے باعث اسرائیلی سیاست دانوں کو حکومت سازی کے لیے مختلف جماعتوں کو ساتھ ملانے کی خاطر کئی ہفتوں پر محیط اہم اور پیچیدہ مذاکرات کرنا پڑ سکتے ہیں۔اسرائیل کے تین بڑے ٹیلی وژن چینلز، 11، 12 اور 13، کے انتخابی اندازوں کے مطابق اپوزیشن اتحاد کو 52 سے 53 نشستیں ملنے کا امکان ہے ، جبکہ نیتن یاہو کے اتحاد کو تقریباً 50 نشستیں مل سکتی ہیں۔ تاہم، نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ پارلیمان میں سب سے بڑی واحد جماعت بن کر ابھر سکتی ہے ، جسے 24 یا 25 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے ، ابتدائی ایگزٹ پولز میں عرب اکثریتی جماعتوں کی نمایاں کامیابی ظاہر ہوئی ہے ، جبکہ ان کے حامیوں نے بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے ۔اسرائیل کے بڑے ٹیلی وژن چینلز کے ایگزٹ پولز کے مطابق، عرب جماعتوں کے دو انتخابی اتحاد کو 120 رکنی پارلیمان میں مجموعی طور پر 17 یا 18 نشستیں ملنے کا امکان ہے ۔ یہ تعداد 2022 کے گزشتہ انتخابات میں حاصل کردہ 10 نشستوں کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے ۔زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کی کوشش میں نیتن یاہو نے الزام عائد کیا تھا کہ اسرائیلی عرب ووٹرز انتخابات کو چوری کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان کی جماعت لیکوڈ نے انتخابی حکام سے رات 10 بجے کے بعد بھی پولنگ جاری رکھنے کی درخواست کی، تاہم اسے مسترد کر دیا گیا۔نیتن یاہو کی ان کوششوں پر اپوزیشن نے الزام عائد کیا کہ وہ انتخابی نتائج کو چیلنج کرنے کے لیے بہانے تلاش کر رہے ہیں۔لیکوڈ کے مضبوط انتخابی حلقے میں ووٹر ٹرن آؤٹ بڑھانے کی کوشش کرتے ہوئے نیتن یاہو نے اپنے حامیوں سے خطاب میں کہا،ہم اس لڑائی کو یہاں بائیں بازو اور ان عرب جماعتوں کے ہاتھوں میں نہیں چھوڑ سکتے جو یہودی ریاست کا خاتمہ چاہتی ہیں۔ اس موقع پر ان کے چہرے اور لہجے سے واضح تناؤ نمایاں تھا۔نیتن یاہو نے دائیں بازو کے ووٹرز سے گھروں سے باہر نکل کر ووٹ ڈالنے کے لیے پولنگ سٹیشنوں تک پہنچنے کی اپیل کی ۔ ایکس پر نیتن یاہو نے لکھا کہ اگر آپ ووٹ ڈالنے کے لیے باہر نہ آئے تو عرب جماعتوں کی حکومت قائم ہو جائے گی ۔ملک بھر میں رات 8 بجے تک ووٹر ٹرن آؤٹ تقریباً 75 فیصد تک پہنچ گیا تھا، جو کئی دہائیوں کے دوران بلند ترین شرحوں میں سے ایک ہے ۔تجزیہ کاروں کے کے مطابق دونوں رہنماؤں کے سیاسی اتحاد پارلیمان میں حکومت سازی کے لیے درکار 61 نشستیں حاصل کرنے میں ناکام رہ سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں حکومت کی تشکیل کے لیے کئی ہفتوں یا حتیٰ کہ کئی ماہ تک سیاسی جوڑ توڑ اور مذاکرات جاری رہنے کا امکان ہے ،حکومت سازی میں ڈیڈلاک پیدا ہوسکتا ہے۔
مرکزی الیکشن کمیٹی کے مطابق بعض مشتبہ افراد کو ووٹروں کو رشوت دینے کی کوشش پر گرفتار کیا گیا۔ اسرائیل میں انتخابی مہم کے دوران پولیس نے بائیں بازو کی اہم جماعت کے رہنما یائر گولان کی جانب دھمکی آمیز انداز میں بڑھنے والے چاقو بردار شخص کو گرفتار کر لیا۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے مرکزی انتخابی حریف گادی آئزنکوٹ نے منگل کے روز کہا ہے کہ ملک کے اہم عام انتخابات کے ابتدائی ایگزٹ پولز وزیراعظم پر عوام کے ‘‘مکمل عدم اعتماد’’ کی عکاسی کرتے ہیں۔آئزنکوٹ نے کہا، ‘‘ابتدائی ایگزٹ پولز کے نتائج نیتن یاہو اور 7 اکتوبر کی حکومت پر مکمل عدم اعتماد ظاہر کرتے ہیں۔’’اسرائیلی اپوزیشن کے موجودہ سربراہ یائیر لاپڈ نے بھی کہا کہ نیتن یاہو کے اتحاد کو ‘‘شرمناک شکست’’ کا سامنا کرنا پڑا ہے ، جبکہ بائیں بازو کے رہنما یائیر گولان نے دعویٰ کیا کہ عوام نے ‘‘نیتن یاہو کی حکومت کو برطرف کر دیا ہے ۔’’ اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعر نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے جشن منانے کا عمل قبل از وقت ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments