سپریم کورٹ:شواہد میں تضادات پرعمر قید کا ملزم بری

سپریم کورٹ:شواہد میں  تضادات پرعمر قید کا ملزم بری

اسلام آباد (کورٹ رپورٹر، اے پی پی)سپریم کورٹ نے صائمہ بی بی قتل کیس میں استغاثہ کے شواہد اور پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تضادات کی بنیاد پر ملزم منور حسین کو شک کا فائدہ دے کر بری کر دیا اور ملزم کی درخواست اپیل میں تبدیل کرکے منظور کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دے دیئے۔

دوران سماعت وکیل مدعی نے موقف اختیار کیا کہ ملزم منور حسین نے صائمہ بی بی کو چھری سے ذبح کرکے قتل کیا تھا، مقتولہ کا شوہر، دیور اور ایک تیسرا شخص بھی وقوعہ کے گواہ تھے ۔ جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے ریمارکس دیئے کہ ایف آئی آر کے مطابق ملزم اکیلا تھا، مقتولہ کے شوہر، دیور اور تیسرے شخص نے ملزم کو روکنے کی کوشش کیوں نہیں کی؟ کیا مقتولہ کو ذبح کیا جا رہا تھا اور عینی شاہدین خاموش تماشائی بنے کھڑے رہے ؟ مدعی اور گواہوں کے مطابق واقعہ صبح ساڑھے چھ بجے پیش آیا جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق موت اس وقت سے پہلے ہو چکی تھی،دوسری طرف سپریم کورٹ نے گونگی بہری 25 سالہ معذور لڑکی سے زیادتی کے مقدمے میں صرف ڈی این اے رپورٹ کی بنیاد پر ملزم کو سزا دینے ، متاثرہ لڑکی کی ذہنی صلاحیت اور ٹرائل کے دوران اس کا بیان سمجھنے کیلئے ماہر کو طلب نہ کرنے سے متعلق تین اہم قانونی سوالات پر وکلا سے مزید معاونت طلب کر لی۔

جسٹس ملک شہزاد احمد اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل بینچ نے قرار دیا کہ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ متاثرہ لڑکی صرف قوتِ سماعت اور گویائی سے محروم ہے یا ذہنی معذوری کا بھی شکار ہے ،جسٹس ملک شہزاد احمد نے ریمارکس دیئے کہ ہائیکورٹ نے ڈی این اے رپورٹ پر انحصار کرتے ہوئے ملزم کی عمر قید کی سزا برقراررکھی جبکہ فیصلے میں متاثرہ لڑکی کو ذہنی معذور بھی قرار دیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلوں کے مطابق گونگے بہرے افراد کا بیان سمجھنے کیلئے ماہر بلایا جاتا ہے ، والدہ کے مطابق لڑکی نے دو گواہوں کی موجودگی میں ملزم کی نشاندہی کی تھی، اگر لڑکی ملزم کی نشاندہی کر سکتی ہے تو بادی النظر میں وہ ذہنی طور پر معذور نہیں، قانونِ شہادت کے مطابق ایسے مقدمات میں متاثرہ لڑکی کا بیان اہم ہوتا ہے ۔ دورانِ سماعت جسٹس ملک شہزاد احمد نے کہا اللہ ہمیں معاف کرے ۔ جسٹس شکیل احمد نے ریمارکس دیئے کہ لوگوں میں خوف خدا ختم ہو گیا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...