ایران کیخلاف شدید حملہ،خلیجی ممالک تیار رہیں:امریکا:کسی بھی نئے حملے کے عالمی معیشت پر تباہ کن اثرات ہونگے:عراقچی،عالمی منڈی میں اجناس کی قیمتوں میں23فیصد اضافے کا امکان:ورلڈ بینک

ایران کیخلاف  شدید  حملہ،خلیجی  ممالک  تیار  رہیں:امریکا:کسی  بھی  نئے  حملے  کے  عالمی  معیشت  پر تباہ  کن  اثرات  ہونگے:عراقچی،عالمی  منڈی  میں  اجناس  کی قیمتوں  میں23فیصد  اضافے  کا  امکان:ورلڈ  بینک

جنگ کے خاتمے کیلئے قطر کی پیش کردہ نئی ثالثی تجاویز ناقابل قبول ، رواں ہفتے کے اختتام تک جواب دینگے ،جوہری معاملے پر لچک نہ دکھانے کی پالیسی برقرار:ایران یمن میں سعودی بمباری ، 14 جاں بحق،عدن ایئرپورٹ پر حوثیوں کا میزائل حملہ ،متعدد افرادزخمی ،مصری و سعودی وزرائے خارجہ کا رابطہ، علاقائی کشیدگی پر گفتگو

تہران،صنعا،عدن (اے ایف پی،رائٹرز) ایران نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کی قیادت میں کسی بھی نئے حملے کے عالمی معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے ۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ خلیج فارس کے خطے میں اسرائیل کی اشتعال انگیزی کے نتیجے میں کسی بھی فوجی مہم جوئی کے عالمی منڈیوں پر تباہ کن اثرات گیس فراہم کرنے والے ممالک اور صارفین، دونوں کیلئے باعث تشویش ہیں۔ انہوں نے ماسکو میں گیس برآمد کرنے والے ممالک کے فورم کے حالیہ اجلاس میں ہونے والی بات چیت کا حوالہ بھی دیا۔دوسری جانب امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی حکام نے خلیجی عرب ممالک سے کہہ دیا ہے کہ وہ امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف مختصر مگر شدید فوجی کارروائی کیلئے تیار رہیں۔ یہ انکشاف بات چیت سے آگاہ ذرائع نے کیا ۔ اخبار کے مطابق ایسے اشارے ملے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر نئی فوجی کارروائیاں شروع کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس اقدام سے جنگ میں بڑے پیمانے پر شدت آنے کا خطرہ ہے ۔ دونوں ممالک کا مقصد ایران کی طاقت کو کمزور کرنا اور اسے مذاکرات پر آمادہ کرنا ہے ۔ تاہم اخبار نے بات چیت سے آگاہ ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے ابھی اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ کسی نئے حملے کی صورت میں اس کا جواب پہلے سے زیادہ وسیع ہوگا۔ ایران کی سلامتی کے امور سے متعلق شخصیت محسن رضائی نے کہا ہے کہ ایران امریکا سے متعلق بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے ، جن میں ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت سے متعلق دیگر اہداف شامل ہیں ۔

علاوہ ازیں عالمی بینک نے بدھ کو خبردار کیا ہے کہ 2026 کے اختتام تک عالمی منڈی میں اجناس کی قیمتوں میں 23 فیصد اضافے کا امکان ہے ۔ ایران کے خلاف جنگ کے باعث توانائی کی قیمتیں چار سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، جبکہ عالمی تنازعات اور موسمیاتی مظہر ال نینو کے باعث غذائی اشیا بھی مہنگی ہو رہی ہیں۔عالمی بینک کے نائب چیف ماہرِ معاشیات ایہان کوسے نے ادارے کی رپورٹ ’’کموڈٹی مارکیٹس آؤٹ لک‘‘ کے اجرا کے موقع پر کہا کہ اجناس کی عالمی منڈیوں کو بیک وقت کئی بڑے دھچکوں کا سامنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور تجارت میں رکاوٹیں مختلف اجناس کو مہنگا کر رہی ہیں، جس سے مہنگائی بڑھنے ، غذائی عدم تحفظ اور معاشی نمو کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے ۔رپورٹ کے مطابق 2026 میں غذائی اشیا کی قیمتوں میں 10 فیصد اور اگلے سال مزید 7 فیصد اضافے کا امکان ہے ۔ اس کی وجوہ میں تنازعات سے متاثر ہونے والی اناج کی ترسیل، ال نینو کے شدید اثرات اور ایندھن و کھاد کی بلند قیمتیں شامل ہیں۔عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق 2026 میں توانائی کی قیمتوں میں 32 فیصد اضافے کا امکان ہے ، تاہم 2027 میں ان میں اضافے کی رفتار کم ہو سکتی ہے ۔ یہ تخمینہ اس مفروضے پر مبنی ہے کہ ایران اور یوکرین میں جاری جنگوں کی شدت میں مزید اضافہ نہیں ہوگا۔ قطر نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ ختم کرنے کیلئے ایران کو ایک نئے مجوزہ معاہدے کا مسودہ پیش کیا ہے ۔ مذاکرات سے آگاہ ایک عہدیدار کے مطابق تہران اس تجویز پر غور کر رہا ہے ، تاہم ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے کہا ہے کہ قطر نے صرف ناقابلِ قبول تجاویز پیش کی ہیں۔

مذاکرات سے واقف غیر ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ آٹھ ماہ سے جاری تنازع ختم کرنے کیلئے امن معاہدے کا نیا مسودہ اتوار کو پیش کیا گیا تھا اور ایران کی جانب سے رواں ہفتے کے اختتام تک جواب متوقع ہے ۔ عہدیدار کے مطابق قطر کی پیش کردہ تجویز میں ایران اور امریکا کے تحفظات دور کرنے کیلئے سات روزہ لائحہ عمل شامل ہے ۔ دونوں فریقوں کو روزانہ کی بنیاد پر اعتماد سازی کے اقدامات کرنا ہوں گے ۔ یہ عمل آئندہ ہفتے کے آغاز میں شروع ہو سکتا ہے ، جبکہ کئی ممالک معاہدے کے ضامن کا کردار ادا کریں گے ۔تاہم مذاکرات میں شریک ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے کچھ دیر بعد کہا کہ قطر نے صرف ناقابل قبول خیالات پیش کیے ہیں، کوئی باقاعدہ پیشکش نہیں کی۔ ان کے مطابق جوہری معاملے پر لچک نہ دکھانے کی ایران کی پالیسی برقرار ہے ۔مذاکرات سے آگاہ عہدیدار کے مطابق اتوار کو تہران میں زیر بحث آنے والا نیا مسودہ سابقہ تجویز سے مختلف تھا، تاہم تازہ منصوبے کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں۔ عہدیدار نے اس سے قبل رائٹرز کو بتایا تھا کہ قطری ثالثوں نے تہران جانے سے پہلے واشنگٹن کے ساتھ رابطہ اور مشاورت کی تھی۔حوثی فوجی ترجمان یحیی سریع نے عدن ایئرپورٹ پر میزائل حملے کا دعویٰ کیا ہے ،انہوں نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ ایئرپورٹ خالی کرنے کی تنبیہ اس لیے جاری کی گئی تھی کیونکہ وہاں اسلحہ لے جانے والا سعودی فوجی کارگو طیارہ موجود تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق ایئرپورٹ کی حدود میں میزائل گرا، تاہم سعودی فوجی طیارہ محفوظ رہا اور کچھ دیر بعد روانہ ہو گیا۔ حوثیوں نے بعدازاں ایک اورمیزائل حملہ بھی کیا۔

سعودی اتحادی افواج کے مطابق حملے میں متعدد شہری زخمی ہوئے اور املاک کو نقصان پہنچا۔ایک امدادی کارکن نے بتایا کہ اقوامِ متحدہ کا کچھ عملہ حملے سے کچھ دیر پہلے ہی ایئرپورٹ سے نکل گیا تھا ،کوئی بھی زخمی نہیں ہوا۔ دوسری جانب یمن میں سعودی فضائی حملوں کے نتیجے میں 14 افراد جاں بحق اور 15 زخمی ہو گئے ، حوثی نشریاتی ادارے المسیرہ کے مطابق شمال مغربی صوبے الجوف میں مارکیٹ اور پٹرول پمپ پر حملوں میں خواتین اور بچے بھی زخمی ہوئے ۔ مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی اور ان کے سعودی ہم منصب فیصل بن فرحان نے ٹیلی فون پر گفتگو میں موجودہ علاقائی بحران پر قابو پانے اور کشیدگی کو مزید پھیلنے سے روکنے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔مصری وزارتِ خارجہ نے بدھ کو بتایا کہ دونوں وزرا نے قریبی دوطرفہ رابطہ کاری جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ادھر روسی جوہری توانائی کمپنی روساٹوم نے ایران میں 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر سے متعلق معاہدوں پر دستخط کردئیے ہیں، جن میں چھوٹے جوہری بجلی گھر تعمیر کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے ۔روساٹوم کے مطابق ایران کے بوشہر جوہری بجلی گھر کے دوسرے اور تیسرے یونٹ کی تعمیر کا کام بھی جاری ہے ، جہاں اس وقت 142 روسی ماہرین کام کر رہے ہیں۔روسی کمپنی نے بوشہر جوہری بجلی گھر میں کام کرنے والے روسی ماہرین کی تعداد بڑھا کر 700 کرنے کا منصوبہ بھی ظاہر کیا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...