سپریم کورٹ کے ایک بینچ کا طرز عمل افسوسناک،عدالتی نظم وضبط پر سنگین خدشات پیدا ہوتے ہیں:وفاقی آئینی عدالت
انکم سپورٹ لیوی ایکٹ 2013معاملہ دو رکنی بینچ میں زیر غور، جسٹس فائز کی زیر سربراہی بینچ نے اپیل مسترد کی، اس کے باوجود تین رکنی بینچ نے اپیل منظور کی قانونی سوال پر عدالتی فیصلہ موجود، نظرثانی درخواستیں زیر التوا ہوں تو دوسرے بینچ کو لحاظ رکھنا چاہیے :فیصلہ، لیوی ایکٹ فیصلے کیخلاف 1178درخواستیں خارج
اسلام آباد (حسیب ریاض ملک)وفاقی آئینی عدالت نے انکم سپورٹ لیوی ایکٹ 2013 کی آئینی حیثیت سے متعلق سپریم کورٹ کے 28 دسمبر 2021 کے فیصلے کے خلاف دائر 1178 نظرثانی درخواستیں خارج کرتے ہوئے سابق فیصلہ برقرار رکھا ہے ۔چیف جسٹس امین الدین خان نے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ سپریم کورٹ کے ایک بینچ کا طرزِ عمل افسوسناک ہے ، عدالتی نظم و ضبط پر سنگین خدشات پیدا ہوتے ہیں، نظرثانی کا اختیار اپیل کے مساوی نہیں ہو سکتا اور طے شدہ تنازعات کو اس وقت تک دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا جب تک ریکارڈ پر ایسی واضح غلطی سامنے نہ آئے جو نظرثانی کے قانونی معیار پر پورا اترتی ہو۔ فیصلے کے مطابق انکم سپورٹ لیوی ایکٹ 2013 کی آئینی حیثیت کا معاملہ سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے کمشنر ان لینڈ ریونیو بنام محمد مصطفی کیس میں زیر غور لایا تھا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں بینچ نے 28 دسمبر 2021 کو اپیل مسترد کر دی تھی۔ مذکورہ فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواستیں زیر التوا ہونے کے باوجود سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے 21 جون 2022 کو ایک دوسرے مقدمے میں تقریباً یکساں قانونی سوال پر اپیل منظور کی۔ جسٹس منیب اختر کے تحریر کردہ اس فیصلے سے عدالتی نظم و ضبط، قانونی اصولوں اور ادارہ جاتی ضابطوں کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہوئے ۔ جب کسی قانونی سوال پر عدالتی فیصلہ موجود ہو اور اس کے خلاف نظرثانی درخواستیں بھی زیر التوا ہوں تو دوسرے بینچ کو پہلے دئیے گئے فیصلے کا لحاظ رکھنا چاہیے ۔
کسی الگ مقدمے میں اپیل منظور ہونے سے پہلے دیا گیا فیصلہ خودبخود تبدیل یا کالعدم نہیں ہو جاتا۔ عدالتی نظم و ضبط، فیصلوں میں یکسانیت اور عدلیہ کے ادارہ جاتی ڈھانچے کو برقرار رکھنا ناگزیر ہے ۔ فیصلے کے مطابق سپریم کورٹ کے سامنے بنیادی سوال یہ تھا کہ آیا انکم سپورٹ لیوی کو منی بل کے طور پر منظور کیا جا سکتا تھا۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے ذریعے قانون سازی آئینی تقاضا ہے محض رسمی کارروائی نہیں۔ سینیٹ وفاق کی اکائیوں کی نمائندگی کرنے والا ادارہ ہے اور اسے ایسی قانون سازی کے عمل سے الگ نہیں کیا جا سکتا جو منی بل کے محدود آئینی دائرے میں شامل نہ ہو۔ سینیٹ کو نظرانداز کرکے ایسی قانون سازی نہیں کی جا سکتی جس کیلئے آئینی طور پر دونوں ایوانوں کی منظوری ضروری ہو۔فیصلے میں کہا گیا کہ نظرثانی کا دائرہ اختیار محدود اور غیر معمولی نوعیت کا ہوتا ہے ۔ اس کا مقصد فیصلے میں ریکارڈ پر ظاہر ہونے والی واضح غلطی کی اصلاح کرنا ہے نہ کہ اپیل کی طرح مقدمے کا ازسرنو جائزہ لینا۔ عدالت نے قرار دیا کہ عدالتی فیصلہ اس وقت تک مؤثر رہتا ہے جب تک متعلقہ قانون میں ترمیم نہ ہو، اسے منسوخ نہ کر دیا جائے یا اسے غیر آئینی قرار نہ دیا جائے ۔ محض کسی دوسرے مقدمے میں مختلف فیصلہ آنے کی بنیاد پر پہلے سے طے شدہ معاملے کو دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا۔ واضح رہے کہ سندھ ہائیکورٹ نے انکم سپورٹ لیوی ایکٹ 2013 کے تحت لیوی عائد کرنے کی اجازت دینے سے انکار کیا تھا۔ بعدازاں سپریم کورٹ نے 28 دسمبر 2021 کے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ فنانس ایکٹ کے نفاذ سے قبل آئین میں مقرر کردہ قانون سازی کے طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا۔ اس فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواستیں دائر کی گئی تھیں جنہیں اب وفاقی آئینی عدالت نے خارج کر دیا ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments