آئینی ترامیم پر تحفظات ،جسٹس محسن اختر کیانی مستعفی

آئینی ترامیم پر تحفظات ،جسٹس محسن اختر کیانی مستعفی

تقرری و تبادلوں میں مداخلت عدلیہ کی آزادی کیلئے نقصان دہ ضمیر اجازت نہیں دیتا کہ بطور جج فرائض جاری رکھوں ، متن

لاہور (کورٹ رپورٹر )لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، استعفے کی کاپی صدر پاکستان کو ارسال کردی گئی ۔استعفے کے متن کے مطابق جسٹس محسن اختر کیانی نے ذاتی وجوہات، صحت کے مسائل اور ضمیر کی آواز پر استعفیٰ دیا، متن میں کہا گیا کہ اپنے عدالتی کیریئر کے دوران 23 ہزار سے زائد مقدمات کے فیصلے کیے ،چھبیسویں اور ستائیسویں آئینی ترامیم نے ہائیکورٹس کی آزادی اور ادارہ جاتی خودمختاری کو متاثر کیا،ججز کی تقرری اور تبادلوں میں انتظامیہ کی بڑھتی ہوئی مداخلت عدلیہ کی آزادی کے لیے نقصان دہ ہے ، جسٹس محسن اختر کیانی نے استعفے میں لکھا کہ عدالتی آزادی اور انصاف کے عمل پر عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچا ہے ، عام سائلین کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ انصاف کے متلاشی افراد کو نظرانداز کیا جا رہا ہے ۔ضمیر اجازت نہیں دیتا کہ موجودہ حالات میں بطور جج فرائض جاری رکھوں۔وکالت میں واپس آ کر عوام کے حقوق کے تحفظ اور قانونی شعور اجاگر کروں گا۔جسٹس محسن اختر کیانی 23 دسمبر 2015 کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج تعینات ہوئے تھے ،بعد ازاں ان کا اسلام آباد سے لاہور تبادلہ ہوا تھا،جسٹس محسن اختر کیانی کو 11 فروری 2032 کو عہدے سے ریٹائرڈ ہونا تھا جبکہ نئے ججز روسٹر کے مطابق جسٹس محسن اختر کیانی کا لاہور ہائیکورٹ کی پرنسپل سیٹ سے راولپنڈی بینچ میں ٹرانسفر کیا گیا تھا جہاں انہوں نے بینچ نمبر دو سے فرائض سر انجام دینے تھے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...