قومی اسمبلی میں تین ترمیمی بلز منظور، اوگرا آرڈیننس میں توسیع
اسلام آباد (اپنے رپورٹر سے ، نامہ نگار) قومی اسمبلی نے تین ترمیمی بلوں کی منظوری دے دی جبکہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) ترمیمی آرڈیننس 2026 کی مدت میں 120 روز کی توسیع کی قرارداد بھی کثرتِ رائے سے منظور کرلی۔
ایوان میں پٹرولیم مصنوعات ترمیمی بل اور ریلوے بورڈ بل پیش کیے گئے جبکہ قومی فنڈ برائے ثقافتی ورثہ ترمیمی بل اور خالص منافع کے حصول کے مالیاتی انتظامات سے متعلق بل مشترکہ اجلاس کے سپرد کرنے کی تحریکیں منظور کرلی گئیں۔پارلیمانی سیکرٹری برائے تعلیم نے مرکز برائے کلینیکل سائیکالوجی سینٹرز ترمیمی بل 2026 اور ایریا سٹڈی سینٹرز ترمیمی بل 2026 پیش کیے جنہیں ایوان نے منظور کرلیا۔ نیشنل کالج آف آرٹس انسٹی ٹیوٹ ترمیمی بل 2025 بھی منظور کرلیا گیا۔رکن قومی اسمبلی عالیہ کامران نے اسلام آباد کے سکولوں اور کالجوں میں بھاری فیسوں، متفرق اخراجات اور ٹرانسپورٹ فیس وصول کرنے کا معاملہ توجہ دلاؤ نوٹس کے ذریعے اٹھایا۔ پارلیمانی سیکرٹری رابعہ نسیم فاروقی نے بتایا کہ پانچ سے 16 سال تک کے بچوں کو مفت تعلیم، کتابیں اور کھانا فراہم کیا جا رہا ہے ۔ معاملہ مزید غور کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا۔ پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر اور تحریک انصاف کے ملک عامر ڈوگر نے آرڈیننس میں توسیع اور چیئرمین اوگرا کی خالی نشست پر اعتراضات اٹھائے ۔ بعد ازاں قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کرلی گئی۔اجلاس کے آغاز پر پی ٹی آئی کے رکن عمیر نیازی نے کورم کی نشاندہی کی جس پر گنتی کے دوران مطلوبہ تعداد پوری نہ ہونے پر کارروائی ملتوی کردی گئی۔ ایک گھنٹے بعد اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو کورم مکمل تھا۔ معمول کا ایجنڈا مکمل ہونے کے بعد اجلاس آج صبح گیارہ بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments