حکومت سے ٹکر لینے کو تیار ، ہاتھوں میں خارش ہورہی :فضل الرحمن
ایران میں دفاعی اجلاس ،خواجہ آصف یہاں ، کوئی شرم ، کوئی حیا :اسمبلی میں خطاب سیاسی انتقامی کارروائیاں ہو رہی ، گوہر،آئیں بات چیت کریں:طارق فضل
اسلام آباد (اپنے رپورٹرسے ، نامہ نگار، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ملک میں کوئی جمہوریت، کوئی آئین و قانون نہیں،حکومت اور اپوزیشن کو دعوت دیتا ہوں، آئیں ایک میز پر بیٹھیں یہ بہتر راستہ ہے ، ’’نیا میثاق جمہوریت‘‘ قائم کریں ،قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا بلوچستان کے حالات خیبرپختونخوا سے بہتر ہیں؟ وہاں کمشنر بھی اغوا ہو جاتے ہیں، خان آف قلات کے بیٹے کے اغوا کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں، انہوں نے کہا کہ اگر حکومت تشدد کا راستہ اختیار کرے گی تو اس کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں ، تشدد کا راستہ تو فرعون نے اختیار کیا تھا جو اب آپ لوگ کر رہے ، ہم دمادم مست قلندر کیلئے تیار ہیں اگر آپ لوگ باز نہ آئے ۔ ہم کافی عرصے سے لڑے نہیں ہیں ہمارے ہاتھوں میں لڑنے کیلئے خارش ہو رہی ہے ، وزیر دفاع خواجہ آصف کی طرف مخاطب ہوکر انہوں نے کہا کہ تہران میں دفاعی مذاکرات ہورہے ہیں اور وزیر دفاع نہیں گئے یہاں پرموجود ہیں ،کوئی شرم ہوتی ہے ، کوئی حیا ہوتی ہے جس پر ایوان قہقہوں سے گونج اٹھا، تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کی آڑ میں حکومت سیاسی انتقامی کارروائیاں کر رہی ہے۔
سیاسی کارکنوں کو گرفتار کرنا،جمہوری اقدار کے منافی ہے ،آپ جمہوری اقدار ختم کرنے کی شروعات کر رہے ہیں، گورنر راج سے پہلے ہی آپ نے ٹیک اوور کروا لیا تھا، سہیل آفریدی کے بارے میں آج بھی معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہیں، بانی پی ٹی آئی کی تین بہنوں کو جیل میں رکھا گیا، سیاسی کارکنوں کو اٹھانے اور غائب کرنے کا سلسلہ اب ختم ہونا چاہیے ،بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بغیر 375 دن گزر چکے ہیں،اس موقع پر سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ ایک کمیٹی بنائی گئی تھی، لیکن آپ لوگ واک آؤٹ کرکے چلے گئے تھے ، مولانا فضل الرحمن اور بیرسٹر گوہر کے نکتہ اعتراض کے جواب میں وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چو دھری نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں کسی سیاسی جماعت کی اختیارات میں شراکت نہیں ہے ،گورنر راج 6 ماہ بعد اٹھا لیاجائے گا،دہشت گردوں سے 4 سے 6 ماہ میں یہ علاقے کلیئر کرکے پولیس کے حوالے کریں گے ، یہاں کہا گیا کہ بلوچستان میں حالات زیادہ خراب ہیں ، صورتحال یہ ہے کہ بلوچستان میں وزیراعلیٰ وفاق سے آگے بڑھ کر دہشت گردوں کے خلاف سینہ سپر ہیں ، انہوں نے کہا کہ آئیں مل بیٹھ کر بات کریں،مذاکرات سے راستہ نکالیں،اس میں تین نکات ہیں جن میں پہلا نکتہ مستحکم پاکستان،دوسرا دہشت گردی کا خاتمہ کرکے محفوظ پاکستان اور تیسرا معیشت کو مضبوط بناکر خوشحال پاکستان بنائیں،یہی محفوظ راستہ ہے ، ہمارے دروازے بات چیت کے لئے کھلے ہیں ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments