طالبان نے 33اسماعیلی عباد ت گا ہیں بند کر دیں،یو این اے ایم اے
کابل امام بارگاہ پر بھی قبضہ، اہلِ تشیع کے 45افراد عاشورہ کے پرچم لہرانے پر گرفتار مذہبی تقریبات محدود رکھنے کی ہدایت، اقوامِ متحدہ کی مذہبی آزادی پر پابندیوں پر تشویش
اسلام آباد (اے پی پی) اقوامِ متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان (یواین اے ایم اے )نے افغانستان میں مذہبی آزادی پر بڑھتی پابندیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ طالبان حکام کی جانب سے شمال مشرقی صوبے بدخشان میں اسماعیلی مسلمانوں کی درجنوں عبادت گاہیں بند کر دی گئی ہیں جبکہ اہلِ تشیع کی مذہبی رسومات پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں ،تازہ ترین سہ ماہی انسانی حقوق کی رپورٹ کے مطابق طالبان حکام، جن میں وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور دیگر متعلقہ ادارے شامل ہیں نے مذہبی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کی ہیں، ان پابندیوں کے تحت صوبہ بدخشان میں اسماعیلی مسلمانوں کی کم از کم 33 جماعت خانوں کو بند کر دیا گیا ہے ، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکام نے نمازیوں اور عبادت کرنے والوں کو جماعت خانوں کا استعمال بند کرنے کی ہدایت کی ہے ،مزید رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کابل میں اہلِ تشیع کی ایک امام بارگاہ پر قبضہ کر کے اسے مدرسے میں تبدیل کر دیا گیا ، مزید برآں یو این اے ایم اے نے تصدیق کی ہے کہ کابل میں عاشورہ کے پرچم لہرانے کرنے پر اہلِ تشیع سے تعلق رکھنے والے 45 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ،اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بارہا ان اقدامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ عبادت گاہوں کی بندش اور مذہبی رسومات پر پابندیاں مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہیں، فرقہ وارانہ اختلافات کو مزید گہرا کرتی ہیں ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments