قومی اسمبلی میں نئے میثاق جمہوریت کی گونج:حکومت اور اپوزیشن کا ایک میز پر بیٹھنا بہتر راستہ:فضل الرحمان ،انتقامی کارروائیاں روکیں:بیر سٹر گوہر،ہمارے دروازے کھلے:طارق فضل

قومی  اسمبلی  میں  نئے  میثاق  جمہوریت  کی  گونج:حکومت  اور  اپوزیشن  کا  ایک  میز  پر  بیٹھنا  بہتر  راستہ:فضل  الرحمان ،انتقامی  کارروائیاں  روکیں:بیر سٹر گوہر،ہمارے  دروازے  کھلے:طارق  فضل

ملک کو غیر آئینی اقدام،تشدد سے بچانا چاہتے ،تشدد فرعون کا راستہ جو آپ اختیار کر رہے ،ٹکر انا چاہتے ہیں تو ہم تیار ، عرصے سے لڑے نہیں، ہاتھوں میں لڑائی کی خارش ہے ،امیر جے یو آئی آپ جمہوری اقدار ختم کرنے کی شروعات کر رہے ، آج تک معلوم نہیں سہیل آفریدی کہاں ہیں ،چیئرمین پی ٹی آئی،آئیں ملک کو محفوظ ، مضبوط اور خوشحال بنانے کیلئے بات چیت کریں،وفاقی وزیر

اسلام آباد (نامہ نگار ،مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ملک میں کوئی جمہوریت، کوئی آئین و قانون نہیں،حکومت اور اپوزیشن کو دعوت دیتا ہوں، آئیں ایک میز پر بیٹھیں یہ بہتر راستہ ہے ، ’’نیا میثاق جمہوریت‘‘ قائم کریں جبکہ حکومت نے اپوزیشن کو ایک بار پھر 3نکات پر مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئیں ہمارے دروازے کھلے ہیں ، قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جب پی ٹی آئی کا لانگ مارچ اسلام آباد کی طرف آ رہا تھا تو پی ٹی آئی رہنماؤں نے رابطہ کرکے کہا کہ اس معا ملے میں آپ کا کوئی کردار ہونا چاہیے ، اگلے روز ملاقات ہوئی، جس میں رانا ثناء اللہ بھی موجود تھے اور اس موضوع پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔انہوں نے بتایا کہ اسی رات وزیراعظم کے دفتر سے فون آیا اور بتایا گیا کہ وزیراعظم مجھے کھانے پر مدعو کرنا چاہتے ہیں،میں نے دعوت قبول کی اور وزیراعظم سے تفصیلی بات چیت ہوئی، مولانا فضل الرحمان کے مطابق رات ساڑھے دس بجے اسحاق ڈار کا فون آیا کہ کابینہ اس تجویز کو قبول نہیں کر رہی،انہوں نے کہا کہ میری کوشش تھی کہ معاملے کو مناسب انداز میں حل کیا جائے ، حکومت کا مؤقف ہے کہ آئینی طریقہ کار مکمل کیا گیا، لیکن میرے نزدیک آئین کو غلط استعمال کیا گیا اور طاقت کے ذریعے انتقال اقتدار کا عمل لایا گیا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا بلوچستان کے حالات خیبرپختونخوا سے بہتر ہیں؟ وہاں کمشنر بھی اغوا ہو جاتے ہیں، خان آف قلات کے بیٹے کے اغوا کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں، انہوں نے کہا کہ اگر حکومت تشدد کا راستہ اختیار کرے گی تو اس کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں ، بہتر راستہ یہی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن ایک میز پر بیٹھیں اور نیا میثاق جمہوریت کریں، جس میں دونوں فریق شامل ہوں،انہوں نے کہا کہ معدنیات کی بحث تم نے چھیڑی ہے یا ہم نے ، حکومت ٹکر لینے کے لئے تیار ہے تو ہم بھی تیار ہیں ،تشدد کا راستہ تو فرعون نے اختیار کیا تھا جو اب آپ لوگ کر رہے ، ہم دمادم مست قلندر کیلئے تیار ہیں اگر آپ لوگ باز نہ آئے ہم کافی عرصے سے لڑے نہیں ہیں ہمارے ہاتھوں میں لڑنے کیلئے خارش ہو رہی ہے ، اس دوران سپیکر ایاز صادق نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کی تقریر سنوں گا، تقریر میں جو غیر پارلیمانی الفاظ ہوں گے انہیں حذف کر دوں گا،مولانا فضل الرحمان نے خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم کا سر ادھر، دھڑ ادھر ہے ، حکومتی بنچوں سے کہنا چاہتا ہوں وہ وقت یاد کریں جب مشکل وقت تھا، میں فرنٹ فٹ پر کھیل رہا تھا، نیندیں حرام کرکے آپ سے جو بات کر رہا تھا اس خون خرابے سے بچنا چاہتا تھا، یہ ملک صرف کسی فوجی کسی جرنیل کا نہیں ہم سب کا ہے ۔ اگر آپ ہر قیمت پر ہمیں رسوا کرنا چاہتے ہیں تو ہم تاریخ کے ہاتھ نہیں حکومت کے ہاتھوں مرنا پسند کریں گے ، تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کی آڑ میں حکومت سیاسی انتقامی کارروائیاں کر رہی ہے ،سب سے پہلے پاکستان ہے ، اگر سیاسی انتقامی کارروائیاں جاری رہیں تو حالات مزید گھمبیر ہو جائیں گے۔

حکومت ہمارے پارلیمنٹیرینز کو سامنے لائے ،نیشنل ایکشن پلان پر بلاامتیاز کارروائی ہونی چاہیے ، تاہم سیاسی کارکنوں کو گرفتار کرنا،جمہوری اقدار کے منافی ہے ۔ ہم جمہوری لوگ ہیں، دھاوے بولنے والے نہیں، یہ وقت بھی گزر جائے گا، تاہم سیاسی معاملات کو جمہوری انداز میں حل کیا جانا چاہیے ، انہوں نے کہا کہ آپ جمہوری اقدار ختم کرنے کی شروعات کر رہے ہیں، گورنر راج سے پہلے ہی آپ نے ٹیک اوور کروا لیا تھا،بیرسٹر گوہر نے کہا کہ سہیل آفریدی کے بارے میں آج بھی معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کی تین بہنوں کو جیل میں رکھا گیا، سیاسی کارکنوں کو اٹھانے اور غائب کرنے کا سلسلہ اب ختم ہونا چاہیے ۔ اقبال آفریدی اور جنید اکبر کو ادویات کی ضرورت ہے ،بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بغیر 375 دن گزر چکے ہیں،اس موقع پر سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ ایک کمیٹی بنائی گئی تھی، لیکن آپ لوگ واک آؤٹ کرکے چلے گئے تھے ، مولانا فضل الرحمان اور بیرسٹر گوہر کے نکتہ اعتراض کے جواب وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چو دھری نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں کسی سیاسی جماعت کی اختیارات میں شراکت نہیں ہے ،گورنر راج 6 ماہ بعد اٹھا لیاجائے گا۔ اپوزیشن کی جانب سے انتشار اور بے امنی پھیلانے کی باتیں کی گئیں، مذاکرات میں اپوزیشن کاوفد بے اختیار تھاحکومت نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات میں بیٹھی تھی مگر سہیل آفریدی نے مذاکرات میں طے پانے والے مسودوں میں تبدیلیاں کیں، اپوزیشن نے اسلام آباد کو سومنات بنانے کی باتیں کیں،انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر کی سربراہی میں مشاورتی کونسل تشکیل دی،وہاں 12 اضلاع میں دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے خصوصی اقدامات کئے گئے ہیں ،

ایمرجنسی غیر معمولی حالات میں غیر معمولی فیصلہ ہے ،وفاقی وزیر نے کہا کہ کیا مذاکرات کے ڈرافٹ میں یہ تجویز نہیں تھی کہ پہلے 5، پھر 12 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ ہوگی، یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا جب کے پی حکومت نے ہر قسم کے تعاون سے انکار کردیا.انہوں نے کہا کہ پشاور کے دورے کے دوران وزیراعظم نے 160 ارب روپے گرانٹ کی منظوری دی،اس گرانٹ سے پولیس کی استعداد کار میں اضافہ کیا جائے گا،12 اضلاع میں زیادہ پیسہ لگے گا،دہشت گردوں سے 4 سے 6 ماہ میں یہ علاقے کلیئر کرکے پولیس کے حوالے کریں گے ۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ افغان جہاد کے خاتمے کے بعد یہ عسکریت پسند کہاں تھے پھر ان کو واپس کون لایا یہ دیکھنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ تین صوبے سکیورٹی فورسز کے ساتھ اور ایک صوبے الگ چلے ۔ہم نے دوست ممالک کے ذریعے مذاکرات کرکے افغان حکومت کے سامنے سرحد پار سے دراندازی،دہشت گردوں کے تربیتی کیمپوں سمیت تمام ثبوت رکھے تاہم انہوں نے دہشت گردوں کی تربیت گاہوں کے خاتمے اور دراندازی روکنے کی بات مانتے ہوئے اس کے خلاف کارروائی سے انکار کیا۔ہم آج بھی کہتے ہیں کہ افغانستان اپنی ذمہ داری کا احساس کرے ،دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ختم اور در اندازی بند کرائے ۔انہوں نے کہا کہ ملک سے دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے ایک پالیسی اختیار کرنی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ یہاں کہا گیا کہ بلوچستان میں حالات زیادہ خراب ہیں تاہم یہاں وہاں کوئی ایسا اقدام نہیں اٹھایا گیا، صورتحال یہ ہے کہ بلوچستان میں وزیراعلی وفاق سے آگے بڑھ کر دہشت گردوں کے خلاف سینہ سپر ہیں، وہاں فنڈڈ دہشت گردی ہے ،ہمیں پتہ ہے کہ کون کون سے ملک وہاں عسکریت پسندوں کو معاونت اور امداد دے رہے ہیں،ان میں انڈیا ، افغانستان سرفہرست ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر اور معدنی وسائل پر بات ہوئی،معدنی ذخائر پر قبضے کی بات کرکے اہم معاملہ سے توجہ نہ ہٹائی جائے ،امریکی کمپنیاں معدنی ذخائر کی تلاش میں معاونت کی پیش کش کرچکی ہے وہ پوری دنیا میں اس پر کام کررہے ہیں،معدنی ذخائر پر صوبے کا حق ہے یہ 80 سال سے دفن ہیں،صوبے اپنے وسائل پیداکریں کسی صوبے کی کسی دوسرے صوبے کے وسائل پر نظر نہیں، انہوں نے کہا کہ کے پی میں 6 ماہ میں گورنر راج ختم اور امن کے قیام پر ایمرجنسی ختم کردیں گے ۔انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر کے لوگ ہمارے دل کے قریب ہیں،انہیں تین روپے یونٹ بجلی اور دو ہزار روپے من آٹا مل رہا ہے ،یہ ہمارے دور میں ہی ملا جسے جاری رکھیں گے ،کشمیر اور پاکستان میں فاصلے پیدا نہیں ہونے دیں گے ، انہوں نے کہا کہ آئیں مل بیٹھ کر بات کریں،مذاکرات سے راستہ نکالیں،اس میں تین نکات ہیں جن میں پہلا نکتہ مستحکم پاکستان،دوسرا دہشت گردی کا خاتمہ کرکے محفوظ پاکستان اور تیسرا معیشت کو مضبوط بناکر خوشحال پاکستان بنائیں،یہی محفوظ راستہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم ہمیشہ سب کو ساتھ لے کر چلنے کی بات کرتے ہیں، ماضی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان تھے ، ہاتھ ملانے سے بچنے کے لئے سیٹیں پھلانگتے آتے تھے کسی سے ملتے نہیں تھے جبکہ شہباز شریف ایوان میں آتے ہیں تو وہ اپوزیشن لیڈر سمیت سب سے جا کر ملتے ہیں،وفاقی وزیر نے کہا کہ مستحکم،مضبوط اور خوشحال پاکستان کے تین نکاتی ایجنڈے پر سب کو مل بیٹھ کر بات کرنا ہوگی تاہم ہمارے دروازے بات چیت کے لئے کھلے ہیں ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...