مخالفین کو طویل سزائوں کے تجربات ناکا م ہوچکے:سعد رفیق

مخالفین کو طویل سزائوں کے تجربات ناکا م ہوچکے:سعد رفیق

قانونی اور اخلاقی حدود سے باہر نکل کرتنقیدنامناسب،سخت سزائیں حل نہیں ریاست قانون کا نفاذ کرے لیکن منفی ردعمل کا جائزہ بھی لینا چاہئے :ایکس پر بیان

لا ہور(مانیٹرنگ ڈیسک) مسلم لیگ (ن )کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ اختلافِ رائے کو کچلنے ، مخالفین کو طویل قید کی سزائیں دینے اور ہر آواز کو طاقت کے ذریعے خاموش کرانے کے تجربات بارہا ناکام ہو چکے ہیں، ایسا طرزِ عمل انصاف، آئین، قانون  اور قومی مفاد کے سراسر منافی ہے ۔ ایکس پر بیان میں انہوں نے کہا کہ بعض اوقات سیاسی  یا سماجی تنقید کرنے والے افراد قانونی اور اخلاقی حدود سے باہر نکل جاتے ہیں جو یقیناً ایک نامناسب عمل ہے ، تاہم اس کا حل یہ ہرگز نہیں ہے کہ ہر اٹھنے والی آواز کو سختی سے دبا دیا جائے اور غیر معمولی سخت سزائیں دی جائیں، ریاست کو قانون کا نفاذ ضرور کرنا چاہیے لیکن کسی فرد کو سزا دینے سے پہلے ریاستی اداروں کو اپنے عمل اور اس کے ممکنہ منفی ردِعمل کا سنجیدہ جائزہ لینا چاہیے ،انہوں نے کہا کہ ٹریفک بیریئر کو ہٹانے یا ٹریفک پولیس سے الجھنے کا واقعہ صریحاً غلط تھا اور اس کا دفاع نہیں کیا جا سکتا، لیکن اس نوعیت کے جرم کو دہشت گردی کا رنگ دے کر ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو 10 سال جیسی طویل قید کی سزا دینا انتہائی نامناسب اور غیر منصفانہ اقدام ہے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...