فیول ریلیف سکیم : 28 ارب ادا، وزیراعظم کا سہولت نہ دینے والے پمپس بند کرنیکا حکم

فیول ریلیف سکیم : 28 ارب ادا، وزیراعظم کا سہولت نہ دینے والے پمپس بند کرنیکا حکم

برآمد کنندگان کیلئے رعایتی فنانسنگ سکیم پر کسی بھی بینک کو عملدرآمد سے انحراف کی اجازت نہیں :شہباز شریف شہباز شریف سے سوڈانی وزیر داخلہ کی ملاقات،ایک ارب 45 کروڑ روپے سے بنے کشمیر چوک انڈر پاس کا افتتاح

اسلام آباد(نامہ نگار)وزیراعظم فیول ریلیف پروگرام میں ڈیڑھ کروڑ افرادرجسٹرڈ، 4 نومبرتک 28.6 ارب روپے کی ادائیگیاں ہوگئیں، شہباز شریف نے فیول ریلیف پروگرام پر پیشرفت اور شفافیت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ پٹرولیم سبسڈی سکیم کے تحت رجسٹرڈ مستحقین کو سہولت فراہم نہ کرنے والے پٹرول پمپس کے لائسنس منسوخ کئے جائیں۔پرائم منسٹر فیول ریلیف پروگرام کے حوالے سے اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ الحمدللہ، رجسٹریشن اور سبسڈی کے حصول کے طریقہ کار کو آسان بنانے کے نتیجے میں رجسٹریشن میں اضافہ ہوا ہے اور زیادہ مستحق شہری اس سہولت سے مستفید ہو رہے ہیں۔مستحق شہریوں کیلئے ٹیکنالوجی پر مبنی یہ شفاف سبسڈی سکیم مستقبل میں عوامی فلاح و بہبود کے ایسے اقدامات کیلئے ایک گیم چینجر ثابت ہوگی۔

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ سبسڈی سکیم کے تحت اب تک 1کروڑ 55 لاکھ 19 ہزار 282 شہری رجسٹر ہو چکے ہیں، جن میں سے ایک کروڑ 50 لاکھ موٹر بائیکس کے مالکان ہیں۔سبسڈی سکیم کے تحت اب تک 6کروڑ 31لاکھ 53ہزار 685 ٹوکن جاری ہوئے جن میں سے 5کروڑ 94لاکھ 45 ہزار 347 ٹوکنز کو استعمال /ریڈییم کیا گیا۔فیول سبسڈی سکیم کے تحت 4 نومبر تک 28.6 ارب روپے کی ادائیگیاں ہو چکی ہیں۔سکیم کے حوالے کی معلومات اور شکایات کے ازالے کیلئے صارفین اور پیٹرول پمپس کیلئے الگ الگ کال سنٹرز قائم کئے گئے ہیں۔دریں اثنا وزیراعظم شہباز شریف سے سوڈان کے وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل بابیکر سمرا مصطفی علی نے ملاقات کی ۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان سوڈان کے ساتھ اپنے دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے ، ہم چاہتے ہیں کہ سوڈان اپنے موجودہ بحران سے نکل کر ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال ملک کے طور پر ابھرے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان سوڈان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات بالخصوص تجارت اور سرمایہ کاری کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے ۔زراعت، دفاع، تعلیم اور دیگر شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے وسیع مواقع ہیں۔پاکستان اقوام متحدہ، او آئی سی، G-77 اور دیگر کثیر الجہتی فورمز پر سوڈان کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے ۔سوڈان کے وزیر داخلہ نے پاکستان آمد پر پرتپاک استقبال اور میزبانی پر وزیراعظم اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ سوڈانی وزیر داخلہ نے مشکل صورتحال میں پاکستانی حکومت اور عوام کی جانب سے انسانی و طبی امداد پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔سوڈانی وزیر داخلہ نے سوڈان میں امن و امان کی کوششوں کے حوالے سے بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کی حمایت کو بھی سراہا اور خطے کی امن اور ثالثی کے حوالے سے پاکستان کے کوششوں کی تعریف کی۔علاوہ ازیں وزیراعظم نے برآمدات کرنے والے ایس ایم ایز کو سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا ایس ایم ایز اور برآمد کنندگان کیلئے رعایتی فنانسنگ سکیم پر کسی بھی بینک کو عمل درآمد سے انحراف کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ ایس ایم ایز کو طویل مدتی فنانسنگ کی سہولت سے استفادہ کرنے کے لیے 80 فیصد برآمدات کی شرط ختم کی جائے ،ایس ایم ایز کی ترقی کے لیے حکومتی سرپرستی اور سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے ۔وزیراعظم نے کہا کہ ایس ایم ایز کی استعداد کار میں اضافے ، مہارتوں کی بہتری اور کاروبار کے فروغ کے لیے حکومت ہر ممکن معاونت فراہم کرے گی،برآمد کنندگان کی سہولت کے لیے ایکریڈیٹیشن کے معیار, لیبارٹریز کی توسیع اور دیگر ضابطہ جاتی طریقہ کار کو بہتر بنایا جائے ۔وزیراعظم نے برآمد کنندگان کو ان کی دہلیز پر سہولیات کی فراہمی کے لیے جدید لیبارٹریز کے قیام کی ہدایت کی۔مزید برآں وزیراعظم نے کشمیر چوک انڈر پاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کشمیر چوک انڈر پاس منصوبہ 27 روز میں مکمل کرنا غیر معمولی کارنامہ ہے ، منصوبے کی تکمیل سے علاقے میں ٹریفک کے مسائل حل کرنے میں مدد ملے گی ، یہ منصوبہ آئندہ سال ایس سی او کانفرنس اور دیگر اہم تقریبات کے لئے تیاریوں کا عملی ثبوت ہے۔

انہوں نے کہا یہ منصوبہ محض 500 میٹر طویل انڈر پاس تک محدود نہیں بلکہ اس کے گرد چار کلومیٹر طویل سڑکوں کا جال بھی تعمیر کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ کشمیر، جنت نظیر کی مناسبت سے یہاں دو یادگاریں بھی تعمیر کی گئی ہیں اور ہزاروں نئے پودے بھی لگائے گئے ہیں، یہ تمام کام صرف 27 روز میں مکمل کیا گیا۔انہوں نے کہا انہیں یاد نہیں کہ اس قدر برق رفتاری سے پہلے کوئی منصوبہ مکمل کیا گیا ہو۔وزیراعظم نے اس غیر معمولی کارکردگی پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، چیئرمین سی ڈی اے ، کنٹریکٹر اور تمام متعلقہ افسران و اہلکاروں کو مبارکباد دی جنہوں نے شبانہ روز محنت کرکے یہ کارنامہ انجام دیا۔وزیراعظم نے منصوبے کی شفافیت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کشمیر چوک انڈرپاس منصوبہ ایک ارب 45 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا ہے اور شفاف پروکیورمنٹ نظام اور ای پیڈز کے ذریعے ٹھیکہ تخمینہ لاگت سے تقریباً اڑھائی فیصد کم پر دیا گیا۔

قبل ازیں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا منصوبے کے دوران پرانے درخت محفوظ کر کے دوسری جگہ منتقل کئے گئے اور کشمیر چوک منصوبے کے تحت 6340 نئے سایہ دار درخت لگائے گئے ہیں۔ اسلام آباد کو مزید سرسبز بنانے کیلئے درختوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ کریں گے ، وفاقی دارالحکومت میں سفاری پارک کے قیام کے لئے بین الاقوامی کنسٹلنٹ کی خدمات حاصل کر لی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو معاملے پر مکمل تعاون اور حمایت کی یقین دہانی کرائی تھی، وفاقی کابینہ نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کی جے آئی ٹی رپورٹ کی منظوری دیدی ہے ، اربوں روپے مالیت کی ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کی جائیداد سی ڈی اے کو واپس ملی ہے ، ون کانسٹیٹیوشن کی عمارت کو اصل مقصد کے مطابق فائیو سٹار ہوٹل میں تبدیل کیا جائے گا۔

وزیراعظم نے انسداد پولیو پر جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا پولیو سے پاک پاکستان کا حصول ایک بڑا چیلنج ہے ، تاہم ہمارا عزم اور حوصلہ اس چیلنج سے کہیں زیادہ مضبوط ہے ۔صوبوں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ قریبی مشاورت اور مشترکہ حکمتِ عملی کے ذریعے پاکستان سے پولیو کا مکمل خاتمہ یقینی بنانا ہے ۔وزیراعظم نے ملک بھر میں انسدادِ پولیو مہمات کے کامیاب انعقاد کے لیے فرنٹ لائن پولیو ورکرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے عزم، محنت اور خدمات کو سراہتے ہوئے کہا انسداد پولیو مہمات کے دوران فرنٹ لائن ورکرز کی مسلسل رسائی اور ان کی سکیورٹی یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔وزیر اعظم نے ملک بھر میں معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات (روٹین امیونائزیشن) کی کوریج کو مزید بہتر بنانے اورخصوصی طور پر پولیو سے متاثرہ اور پولیو کے حوالے سے تشویش کے حامل علاقوں میں حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج بڑھانے کی ہدایت کی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...