ایل پی جی کی طلب میں سالانہ 8.5 فیصد اضافہ، موجودہ انفراسٹرکچر ناکافی : درآمدات پر انحصار بڑھنے کا خدشہ
ایل پی جی کی طلب 2.4 ملین میٹرک ٹن سے بڑھ کر مالی سال 2032-33 میں 4.16 ملین میٹرک ٹن ہونے کا امکان ملک میں ذخیرہ کرنے کی گنجائش صرف 70 ہزار میٹرک ٹن، اندرون ملک پائپ لائن کے ذریعے ترسیل کا نظام بھی موجود نہیں
اسلام آباد (ذیشان یوسفزئی) خطے کی موجودہ صورتحال اور عالمی توانائی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث پاکستان میں توانائی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ملک کی توانائی سلامتی کی کمزوریاں بھی نمایاں ہوگئی ہیں۔ حالیہ جنگ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کا انرجی سکیورٹی نظام کمزور ہے اور اسے بہتر بنانے کے لیے مربوط منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ ایل پی جی کا موجودہ بحران جہاں سرحدی بندش کے باعث شدت اختیار کر رہا ہے ، وہیں اس نے ایل پی جی مارکیٹ کی پائیداری اور بنیادی ڈھانچے کی خامیوں کو بھی بے نقاب کیا ہے ۔روزنامہ دنیا کو دستیاب پٹرولیم ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق پاکستان میں 10 ملین سے زائد گھرانے پائپ لائن کے ذریعے فراہم کی جانے والی قدرتی گیس کے نیٹ ورک سے منسلک ہیں جبکہ 25 ملین سے زیادہ گھرانے ایل پی جی سمیت دیگر ایندھن استعمال کرتے ہیں۔
آبادی میں اضافے اور مقامی قدرتی گیس کی پیداوار میں کمی کے باعث ایل پی جی کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے ۔دستاویزات کے مطابق پاکستان میں ایل پی جی کی سالانہ مارکیٹ کا حجم تقریباً 2.4 ملین میٹرک ٹن ہے ۔ گزشتہ چھ برس کے دوران اس کی طلب میں سالانہ اوسطاً 7.5 فیصد اضافہ ہواجبکہ آئندہ برسوں میں سالانہ 8 سے 8.5 فیصد اضافے کا امکان ہے ۔ مالی سال 2025-26ء میں ایل پی جی کی طلب 2.4 ملین میٹرک ٹن ہے جو مالی سال 2032-33 میں بڑھ کر 4.16 ملین میٹرک ٹن ہونے کی توقع ہے ۔اس کے مقابلے میں مقامی پیداوار 0.96 ملین میٹرک ٹن سے بڑھ کر صرف 1.35 ملین میٹرک ٹن تک پہنچنے کا امکان ہے جس کے باعث طلب اور پیداوار کے درمیان فرق پورا کرنے کے لیے درآمدات پر انحصار کرنا پڑے گا۔
اندازوں کے مطابق 2033ء تک ایل پی جی کی درآمدات 1.4 ملین میٹرک ٹن سے بڑھ کر 2.8 ملین میٹرک ٹن ہو سکتی ہیں۔دستاویزات میں پاکستان کے ایل پی جی انفراسٹرکچر کی خامیوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے ۔ اوگرا اور ایچ ڈی آئی پی کے معائنے کے مطابق تفتان سمیت کسی بھی زمینی داخلی مقام پر ایل پی جی کے معیار کی جانچ کے لیے سہولت موجود نہیں تھی۔ سرحدی گزرگاہوں پر حفاظتی انتظامات کے بغیر ایل پی جی ایک ٹینکر سے دوسرے ٹینکر میں منتقل کی جاتی ہے جس کے باعث 2020ء سے اب تک متعدد دھماکے ہو چکے ہیں۔ اندازے کے مطابق ایل پی جی لے جانے والے 56 فیصد باؤزرز (ٹینکرز) غیر رجسٹرڈ ہیں۔پاکستان میں ایل پی جی ذخیرہ کرنے کی مجموعی گنجائش تقریباً 70 ہزار میٹرک ٹن ہے جس میں سے 14 ہزار میٹرک ٹن بندرگاہوں جبکہ 56 ہزار میٹرک ٹن اندرون ملک موجود ہے۔
دستاویزات کے مطابق ملک کی بڑھتی ہوئی توانائی ضروریات کے مقابلے میں یہ گنجائش ناکافی ہے ۔پورٹ قاسم پر موجود دو ایل پی جی ٹرمینلز میں سے ہر ایک کی ذخیرہ کرنے کی گنجائش تقریباً 6500 میٹرک ٹن ہے ۔ یہ ٹرمینلز زیادہ سے زیادہ 10 ہزار ڈی ڈبلیو ٹی کے جہاز وصول کر سکتے ہیں، جبکہ بین الاقوامی معیار کے مطابق ایل پی جی کی ترسیل کے لیے 30 ہزار سے 50 ہزار ڈی ڈبلیو ٹی کے جہاز استعمال ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ بندرگاہوں پر اضافی ذخیرہ کرنے کی سہولت اور اندرون ملک پائپ لائن کے ذریعے ایل پی جی کی ترسیل کا نظام بھی موجود نہیں جس کے باعث سمندری راستے سے درآمدات مجموعی سپلائی کے صرف 16 فیصد تک محدود ہیں۔دستاویزات کے مطابق مالی سال 2035-36ء تک ایل پی جی کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کے لیے ٹرمینلز کی ذخیرہ کرنے کی گنجائش، سلنڈر بھرنے اور نقل و حمل کی استعداد میں اضافہ ناگزیر ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments